عام مسلمانوں کی توجہ کا حامل معاملہ

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ممکنہ تدارک کے سرکاری اقدامات میں مذہبی طبقے کے حوالے سے عدم اعتماد اور خاص طور پر وائرس کے پھیلاؤ میں زائرین اور تبلیغی جماعت کے بڑا سبب ہونے کے جو باثبوت واقعات سامنے آرہے ہیں اس پر ہمارے مذہبی طبقے اور عمائدین کو غور کرنے کی ضرورت ہے، مساجد کی بندش اور تالہ بندی کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی مسلمان سے اس کی جرأت تو کجا اس کا تصور کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے، اصل معاملہ صورتحال کے روزبروز سنگین سے سنگین تر ہونے کا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال اور اس کے عروج کو چھونے کا اندازہ مئی کے وسط اور آواخر تک کا لگایا جا رہا ہے، ماہرین اس پر متفق ہیں کہ سخت سے سخت اقدامات نہ کئے گئے تو خدانخواستہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی اسلئے جتنا بھی ہو سکے ہر طبقہ تعاون کرے اور حکومت کی طرف سے اختیار کردہ طریقوں کی پابندی کی جائے۔ یہ عقیدے اور عقیدت کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی کوئی غیرمسلم حکومت کا فیصلہ ہے۔ علمائے کرام نے بھی تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے اس پر عملدرآمد رضاکارانہ طور پر ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، مسلمان وہ ہے جس کے افعال دوسروں کیلئے محفوظ اور خیرخواہانہ ہوں۔
اخبار فروشوں کو نظرانداز نہ کیا جائے
اخبار فروش طبقے اور اخباری کارکنوں کے مسائل کے حوالے سے حکومت سے مطالبات بے وجہ اور بے وقت نہیں۔ صوبائی حکومت عامل صحافیوں کو مختلف اوقات اور ادوار میں پلاٹ دینے، موٹر سائیکل اور لیپ ٹاپ عطا کرنے کے اقدامات کرکے ان کی مشکلات کے تدارک کی احسن سعی کرتی رہتی ہے لیکن اخباری کارکنوں اور اخبار فروشوں کے حوالے سے پہلوتہی اختیار کی جاتی ہے۔ اس وقت نہ صرف اخبارفروش اور اخباری کارکن ہی متاثر ہورہے ہیں بلکہ اخبارات کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ حکومت امدادی رقم کی تقسیم میں اخبار فروشوں اور اخباری کارکنوں کے مسائل کو بھی مدنظر رکھے اور ان کی مشکلات میں کمی لانے کے اقدامات کئے جائیں۔
ایک صائب تجویز
ادارہ تبلیغ الاسلام کے سبراہ اور سابق صوبائی وزیر سید ظاہر علی شاہ کی موجودہ حالات میںمستحق ونادار اور ضرورتمندافراد کی فوری مددکیلئے تندوروں پر روٹی کی مفت فراہمی کی تجویز اسلئے زیاہ موزوں اور مناسب ہے کہ بعض علاقوںمیں عام حالات میں بھی اس طرح کے اقدامات تسلسل سے ہوتے رہے ہیں۔تندوروالوں کی علاقے کے لوگوں سے واقفیت کوئی پوشیدہ امر نہیں، اس تجویز سے اتفاق کے بعد نانبائی ایسوسی ایشن سے مل کر کوئی ایسالائحہ عمل وضع کرنے کی ضرورت ہے جو مؤثر اور قابل عمل ہو۔تندورمالکان کو حکومت مفت آٹا فراہم کرتے ہوئے گیس کے بلوںمیں رعایت دے اور نانبائی ایسوسی ایشن وانتظامیہ مل کر اس کی نگرانی کی ذمہ داری نبھائیں تو یہ فوری ریلیف کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے ،منظم طریقہ کار وضع ہونے کی صورت میں صوبے کے مخیر حضرات کا اس میں تعاون فطری امر ہوگا یہ ایک ایسا انتظام ہوسکتا ہے جس میں اگر منتظمین خوف خدا کے جذبے کیساتھ کام کریں تو اس میں ناکامی کی کوئی صورت نہیں۔ادارہ تبلیغ الاسلام کے سربراہ کی جانب سے کورونا سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے الفاظ اور دعوئوں سے باز رہنے کا مشورہ بھی قابل توجہ ہے۔ اس آفت کا مقابلہ مالک کائنات سے مناجات واحتیاط کے تقاضوں پر عملدرآمد کی صورت مناسب ہوگا۔