ہماری قومی فراغت کے نرالے رنگ

ملک میں ایک تو کورونا کی وباء نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، دوسری طرف یہ بحث پورے زوروں پر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کہاں سے داخل ہوا؟ اس روئیے پر بغداد کے وہ اہل علم یاد آتے ہیں جو ہلاکو خان کے حملے کے وقت اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام؟ اب کوا حلال یا حرام ہونا خطرات کا ادراک نہ کرنے والے رویوں کا استعارہ بن گیا ہے۔ اس روئیے کیلئے انگریزی کا محاورہ بھی مستعمل ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجارہا تھا۔ یوں لگتا ہے ہم من حیث القوم ''نیرو'' کے پیروکار ہیں۔ پہلے پہل تو یہی بات عام تھی کہ کورونا تفتان کے راستے پاکستان آیا۔ کچھ عرصہ یہ بحث پورے زوروں پر رہی اور حکومت کو بھی اس حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے مشیر ذولفقار علی بخاری المعروف زلفی بخاری کے دباؤ کا چرچا رہا جس کی انہوں نے تردید کی۔ اس کے بعد بحث نے ایک نیا رخ اس وقت لیا جب تبلیغی جماعت کے کچھ وابستگان میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ اس کے بعد سے آدھی توپوں کا رخ تفتان کی جانب رہا اور باقی توپوں کا رخ رائیونڈ کی طرف مڑ گیا۔ تفتان سے آنے والے پاکستانی شہری تھے، ایران حکومت کورونا کی لہر کے باعث شدید داخلی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی اس لئے ان کیلئے پاکستانی شہریوں کو اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہاں رکھنا مشکل تھا۔ اسی لئے ایرانی حکام نے زائرین کو پاکستانی حدود میں دھکیلا۔ پاکستان اپنے شہریوںکو اس حد تک بے یار ومددگار نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لئے زائرین کو پاکستان آنے کی اجازت نہ دینا زیادتی ہوتی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ زائرین کو کنٹرول کرنے اور تفتان میں روکنے اور سہولیات فراہم کرنے میں حکومت نے تساہل سے کام لیا۔ اس میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کورونا ایک نیا بحران تھا اور تفتان دوردراز مقام اور ایران اس وباء کی لپیٹ میں آنے والا عالمی پابندیوں کا شکار ملک تھا۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں غیرمعمولی انتظامات کی توقع عبث ہے۔ اول تو یہ ڈھول پیٹنا ہی غلط ہے کہ کورونا وائرس زائرین کی وجہ سے پھیلا؟ اب یہ بحث قطعی لایعنی اور بے معنی ہے کہ کورونا وائرس تبلیغی جماعت کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ کورونا اس وقت پونے دو سو ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ان ملکوں میں کورونا پہنچنے کے ذمہ دار تفتان کے زائرین ہیں یا تبلیغی جماعت کے لوگ؟ ظاہر ہے یہ ایک عالمگیر وبا ہے اور کسی نہ کسی طرح یہ وباء دنیا میں پھیلتی چلی گئی۔ اس میں خود مذمتی اور اپنوں کو دوش دینا صریح احمقانہ رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کورونا ہمارے ملک میں داخل ہو کر پھیل گیا ہے اور اب یہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں کس طرح پھیلا؟ کا سوال چنداں اہمیت کا حامل نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ کیسے روکا جائے؟ تفتان یا رائیونڈ؟ کی جو بحث آج ہمارے ہاں جاری ہے اس طرح کی توتکار چین اور امریکہ کے درمیان چلتی رہی ہے۔ امریکی اسے چین کا وائرس اور چینی اسے امریکہ کا وائرس کہتے رہے۔ وقت بتا رہا ہے کہ یا تو یہ دونوں کا وائرس ہے یا دونوں کا نہیں کیونکہ دونوں کا اچھا خاصا بھرکس اس وائرس نے نکال دیا ہے۔ امریکہ اس وقت چین سے بھی زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ وائرس کی تخلیق اور تشکیل کے وقت تو شاید یہ بحث کسی حد تک کوئی معانی رکھتی تھی مگر پاکستان میں یہ وائرس اس وقت نمودار ہوا جب ساٹھ سے اوپر ملکوں کو یہ اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ اس وقت پاکستان کے پہلو میں ایران میں کورونا کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی تھی۔ بھارت میں کورونا کا خطرہ پوری طرح منڈلا رہا تھا۔ ایسے میں پاکستان اپنے گرد حصار قائم کرنے میں کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کٹ حجتی اور بحث برائے بحث ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کو ریٹنگ کے چکر میں روزانہ کوئی نہ کوئی موضوع درکار ہوتا ہے۔ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ چھیڑی جانے والی بحث سے عام فرد پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بحث سے معاشرہ کی پہلی سے قائم تقسیم کی خلیج کس قدر گہری ہوتی ہے اور نئی تقسیم کس انداز اور رفتار سے جنم لیتی ہے۔ دنیا کورونا کے ہاتھوں عاجز اور بیزار ہے اور ہمارے ہاں کورونا کہاں سے آیا کے نان ایشو کو سب سے بڑا ایشو بنایا جا رہا ہے۔ کورونا آسمان سے ٹپکا یا زمین سے اُگا اب ہمیں دنیا کی طرح یہ مسئلہ درپیش ہے، اس سے مفر نہیں۔ بلی کو دیکھ کر کبوتر کا آنکھیں بند کرنا خطرے کو ٹالتا نہیں بلکہ بڑھاتا ہی چلا جاتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ کبوتر کی گردن بلی کے منہ میں ہوتی ہے۔ یہ وقت ثانوی معاملات میں پڑنے کا نہیں بلکہ کورونا سے بچاؤ اور اسے پچھاڑنے کا ہے۔ کورونا کی آمد کی راہ کا تعین کرنے اور جانچ کیلئے اب ''جوڈیشل کمیشن'' بٹھانے کا وقت نہیں۔ سانپ گزر گیا اور اب اس طرح کی بحث لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں یہ بحث اس دیانتداری سے ہو رہی ہو کہ کورونا مشرق کی سرحد سے آیا یا مغرب کی جانب سے نقب لگانے میں کامیاب ہوا۔ گلوب پر موجود ملکوں کی طویل فہرست میں بطور قوم شاید ذہنی اور عملی فراغت کے اس بالاتر درجے پر صرف ہم ہی فائز ہیں۔ اس لایعنی اور بے معنی بحث کو ختم کرکے ہمیں اپنی اجتماعی توانائیاں اور صلاحیتیں اب کورونا کو شکست دینے میں صرف کرنی چاہئے۔