مجبوری کا میجک سٹون

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے ۔یہاں کوئی بھی حکومت مستحکم انداز میں اپنا کام نہیں کر سکتی ۔ حد تو یہ کہ فوجی حکومتیں بھی ابتدائی چند برس ہی سکون سے گزارتی ہیں پھر ان کے اندر جمہوریت کی بحالی کا جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور باقی وقت اس وائرس کو مینج کرنے میں گزر جاتا ہے ۔ایوب خان جنرل ضیا الحق اور مشرف کے ساتھ یہی ہوتا رہا ۔شخصی حکمرانوں کا یہ انجام ہے تو سیاسی حکمرانوں کی تو بات ہی نہیں وہ پہلے ہی شاخ نازک پر آشیانہ بنائے بیٹھے ہوتے ہیں۔حکومت انتخابی اصلاحات کے بارے میں قانون سازی نہ کر سکی اور اس مقصد کے لئے بلایا گیا اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔اپوزیشن تو پہلے ہی ادھارکھائے بیٹھی تھی ،اب حکومت کے اتحادی بھی بگڑنے لگ گئے ہیں ۔اپوزیشن کا غم وغصہ بجا اور قابل فہم ہے عمران خان پارلیمانی انداز کی بجائے قطعی مختلف طریقہ اپنا کر ان سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں۔اس راہ میں میثاق جمہوریت کے سورج سے پھوٹنے والی مفاہمتی پالیسی کی کسی معمولی سی کرن کا گزر تک نہیں۔اتحادیوں کا درد وکرب بھی اپنا ایک پس نظر رکھتا ہے۔یہ اتحاد خود عمران خان کی طرح ان اتحادیوں کے لئے بھی ایک بوجھ ہی ہے۔ان میں اکثر عمران خان کے ساتھ برضا ورغبت نہیں بلکہ مجبوری کے میجک سٹون کے باعث بندھے ہوئے ہیں ۔کسی کے لئے ”ہر توڑ کا پکا جوڑ ” کے ماٹو والے میجک سٹون کا کام بدعنوانی کی فائلوں نے دیا ہے تو کسی کے لئے ماضی کی شدت پسندی اور دہشت گردی کا ریکارڈ اس رشتے میں بندھنے کا باعث بنا ۔کسی کو بوری بندی اور بھتہ خوری کا زمانہ یہاں تک لانے کا باعث بنا ۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو کالر آئی ڈی کے بغیر آنے والے ٹیلی فون پر دل ہار بیٹھے ہوں گے۔ وگرنہ یہ اپنے ماضی اور طور طریقوں اور سیاسی سٹائل کے باعث اس شاخ کے پرندے ہیں جس پرا س وقت اپوزیشن بیٹھی ہے ۔اپنے ہم مزاجوں سے یہ دوری ان کی
مجبوری ہے ۔ عمران خان کی صفوں میں بے شمار ایسے پرندے ہیں توطبعاََ اس مزاج اور ماضی کے ہیں جو اپوزیشن جماعتوں کا ہے ۔سچ پوچھیں عمران خان مین سٹریم سیاسی کلاس میں اپنی پارٹی سمیت پہلے بھی تنہا تھے اور اس وقت تک تنہا رہیں گے جب تک کہ لندن کی کسی شاہراہ کے کنارے ،امریکہ کے کسی تجارتی مرکز ،دوبئی کے کسی جنت نما جزیرے میں ان کا کوئی محل برآمد کوئی پلازہ دریافت نہیں ہوتا ۔جس دن ان کے پوشیدہ اکاونٹ میں کوئی خوف خدا رکھنے والا مخیر دوست رقم بطور تحفہ جمع نہیں کراتا اورجس دن یہ ہوگیا عمران خان کی تنہائی ختم ہوجائے گی اور وہ ہجوم کا حصہ بن جائیں گے ۔یہی ان کی ناکامی اور بدنامی کا پہلا دن ہوگا۔ وہ ایک عبرتناک منظر اور لمحہ ہوگاجس دن وہ تنہائی یا انفرادیت ختم کرکے اپنی فکر اور سیاسی اپروچ کاقتل خود اپنے ہاتھوں سے کریں گے اور اپنے خوابوں کی پوٹلی کو اچھال کر راول جھیل میں نہیں ڈبوتے ۔اپوزیشن ملک میں سیاسی بحران کا تاثر پیدا کئے ہوئے اب اتحادیوں نے پارلیمانی بحران کا آغاز کرکے حکومت پر جاری دبائو کو مزید بڑھا دیا ہے۔عمران خان ملک کی روایتی سیاسی کلاس سے باہر کے انسان تھے، اس لئے ان کا حکومت میں آنا بظاہر ناممکن تھا اور جو کسر رہتی تھی وہ کئی خوفناک مہمات کے ذریعے پوری ہوئی ۔اس کے باوجود عمران خان حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر شاید بہت سوں کی طرح خود انہیں بھی یقین نہیں تھا کہ وہ ایک دن حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہو ں گے ۔یہ ان کی ٹیم کی حکومتی ناتجربہ کاری،انتخاب اور فیصلوں سے ابتدا میں ہی عیاں ہوگیا ۔دوسری بات یہ کہ عمران خان اپنے سیاسی سفر کی طرح حکومتی سفر
میں بھی تنہا تھے ۔سیاسی سفر میں انہیں اپنے پوشیدہ معاونین اور فین کلب نما کارکنو ں کا ساتھ تو حاصل تھا مگر وہ اپنی سوچ اور فکروفلسفے میں تنہا ہی تھے اور حکومت میں آنے کے بعد ان کا یہ احساس تنہائی کچھ اور بڑھ گیا۔روپے پیسے کی طلب سے کوسوں دور اور اقرباپروری جیسی قباحتوں سے بے نیاز اور اپنی ساکھ کے حوالے سے بے رحمی کی حد تک حساس عمران خان کی شخصیت پانی پر تیرتی ہوئی نائو کی مانند تھے مگر پانی بھی وہی تھا اور اس کے رنگ ڈھنگ بھی وہی تھے جو ماضی کا خاصہ اور حصہ تھا۔ ان کے سیاسی اور حکومتی ساتھی دنیا پرست اور فن زرگری کے ماہر تھے جنہوں نے ہر دن کا آخری سمجھ کر وہی کرتب اور کرشمے دکھائے جو ماضی کے دورمیں ہوا کرتے تھے ۔یوں ایک کے بعد دوسرے سکینڈل کا طوفانی ریلا حکومت کو ہلا کر گزرتا چلا جاتا رہا ۔ یوں حکومت کارپردازوں کے ساتھ کئی سکینڈل منسوب ہوتے چلے گئے ۔یہ عالم کرپشن کے حوالے سے ایک زیروٹالرنس رکھنے والے شخص کے نیچے ہے اور جس نظام میں اس قباحت پر غض ِبصر یا حوصلہ افزائی کرنے والے حکمران رہے ہوں اس کا اندرونی حال کیا رہا ہوگا ؟اس کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ۔اچھا بھلا خوش حال ملک آج اگر قرضوں میں ڈوبی ہوئی نسلیں تیار کرتا ہے تو اس کا کوئی سبب تو ہوگا ؟ سچ تو یہ ہے کہ پورا معاشرہ اس کا ذمہ دار ہے ۔سول حکمران ہوں یا فوجی یا ان کے دست وبازو سب نے ملک کو اس حال تک پہنچایا ۔بستر مرگ پر قومیں او رملک ایک دن میں اور کسی ایک شخص کی وجہ سے نہیں پہنچتے بلکہ وقت اس حادثے کی برسوں پرورش کرتا ہے۔ عمران خان نے صرف اتنا کیا کہ کسی سکینڈل پر کنڈلی مار کر بیٹھنے اور کچھ کرداروں کو بچانے کی بجائے ایسے کرداروں کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا۔عمران خان کی حکومت عام آدمی کے لئے ہوائے خوش خبر ثابت نہ ہو سکی ۔مشرف دور کے بعددوڑنے والی مہنگائی اس دور میں پر لگا کراُڑنے لگی۔ ان مسائل کا حل چہرے بدلنے اور تجربہ در تجربہ میں تلاش کیا گیا مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔