مشرقیات

اس سے دانا بات اور کیا ہوگی کہ حسد ایک آگ ہے اور اس میں حاسد خود جلتا ہے حالانکہ جلانے کی خواہش کسی اور کے لئے یہ حاسد پالتا ہے پوستا ہے۔معلوم نہیں کیوں ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت اس آگ میں ستی ہونا پسند کرتی ہے۔کوئی تھوڑا بہت نام بنا لے تو آسے پاسے کے لوگ اس کی کامیابیوں کا ذکر سنتے ہی ناک بھوں چڑھا لیتے ہیں اور ساتھ ہی کامیاب ذات شریف میں کیڑے نکالنے کا فرض بھی ادا کرنا شروع کر دیا جاتا ہے ،کسی میں خوبی ہو تو ہمیں یہ خوبی کیوں اچھی نہیں لگتی؟سادہ سے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم خود اس خوبی سے محروم ہوتے ہیں اور یہ احساس محرومی شدت
اختیار کرکے حسد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس حاسدانہ طبیعت کی پرورش گھریلو سطح پر ہوتی ہے بچے کی تعلیم وتربیت کے لئے ہلکان کرنے والے والدین اسے آڑوس پڑوس کے بچوں ،عزیزورشتہ داروں کے نونہالوںکی کامیابی کی مثالیں دے دے کر کامیاب بچے کو مفت میں ان کا حریف بنا لیتے ہیں اور پھر یہی بچے جب گول کرنے میںخود ناکام رہ جاتے ہیںتو اپنی ناکامی پر پردا ڈالنے کے لئے کامیاب شخص کی ذات میںکیڑے مکوڑے ڈھونڈ لاتے ہیں۔کسی کو اچھی جاب مل گئی تو ہم جل بھن گئے،کسی نے پیشہ ورانہ تعلیم میں نام بنایا اور ہم چل پڑے اس کی سو سو برائیاں کرنے۔کوئی اپنی محنت سے صاحب حیثیت بن گیا اور ہم نے اس کی دولت کو حرام ثابت کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ہمارے سماج کا ایک دوسرے سے یہ سلوک اتنا عام ہوچکا ہے کہ اب تو یہ مقولہ بھی ضرب المثل بن چکا ہے کہ ”محنت کر حسد نہ کر”۔حاسد معاشرے کے چال چلن کے اس سرٹیفکیٹ کو کسی بہت عالم فاضل نے بانٹنا شروع نہیںکیا بلکہ یہ ہمارے ہاں کا عامیانہ مگر سوفیصد حقیقی عوامی شاہکارہے۔بہت سی چلتی پھرتی گاڑیوںکی پشت پر آپ کو یہ قول زریں لکھا نظر آتا ہے۔تو جناب اب سوال یہ ہے کہ ایسا کچھ ہونا چاہئے کہ لوگ حسد چھوڑکر محنت شروع کر دیں،بغیر اس کے اس قوم نے کوئی ترقی نہیںکرنی اجتماعی کامیابی کا راز یہ ہے کہ سماج یہ حاسدانہ زہر نکال دیا جائے۔ماں باپ ہوں یا اساتذہ کامیاب لوگوںکی مثالیں دینے کی بجائے بچے کو اپنی ذات میں موجود صلاحیتوںکو نکھارنے پر لگائیں۔اسے حسد کی شاہراہ پر دوڑا دوڑ اکر آپ تھکا مارتے ہیں منزل پر پہنچنے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا۔