لوگ بھی کانچ کے ہیں، راہ بھی پتھریلی

کوئی نہیں کسی کا اس بھری پری دنیا میں، جب بھولا باچھا بیمار ہوا تو اس کے چاہنے والوں کا جمگٹھا اس کی تیمارداری کیلئے آکر اس سے اپنا پیار جتانے لگا لیکن جب لوگوں کو اس بات کی دھنک پڑی کہ بھولے میاں کرونا وائرس جیسی مہلک بیماری کے شکار ہوگئے ہیں تو پرائے تو پرائے اپنے بھی اس سے پہلو تہی کرنے لگے کہ بہت تیزی سے پھیلنے والا یہ جان لیوا وائرس ان کے گلے نہ پڑجائے۔ آہ بے چارے شہیدان کرونا۔ مردہ تو مردہ زندہ حالت میں بھی یکہ وتنہا ہوجاتے ہیں اور جب نصیب دشمناں فوت ہوجاتے ہیں تو نہ کوئی غسل دینے آتا ہے اور نہ جنازہ پڑھانے والے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ وقت کے مفتیوں کا فتویٰ ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بننے والے شہادت کی موت مرتے ہیں، اس لئے ضرورت نہیں رہتی ان کو غسل دینے کی۔ لیکن یہ کیا کہ اس کی فوتگی کی رسمیں تک ادا نہیں کی جا سکتیں۔ اس بے چارے کو ایئر ٹائٹ کرکے دفنا دیا جاتا ہے جیسے لاش ٹھکانے لگائی جاتی ہے۔ وہ جو کرونا کی ہلاکت کا شکار نہیں ہوا کرتے تھے اور اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کرکے قدر ناشناس اور بے وفا دنیا سے آنکھیں موند لیا کرتے تھے ان پر اپنی جان وجگر فدا کرنے والے انہیں سپردخاک کرکے یوں چل دیتے ہیں جسے دیکھ کر استاد قمر جلالوی کہہ اُٹھے تھے کہ
دبا کر چل دئیے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو
لیکن کرونا وائرس کے مریض کو اس کے چاہنے والے اس کی زندگی ہی میں تڑپتا چھوڑ کر اس سے بیگانے ہوجاتے ہیں یا اسے بے یار ومددگار چھوڑ دیتے ہیں کہ ہر ایک کو عزیز ہوتی ہے اپنی متاع جاں، یہی وجہ ہے کہ ایسے مریض کو یکہ وتنہا کر دیا جاتا ہے، کسی چاردیواری میں خودساختہ قرنطینہ بنا کر یا اس کیلئے کوئی اجتماعی قرنطینہ بنا کر اسے یا اس جیسوں کو اس میں مقید کر لیا جاتا ہے۔ آہ کس قدر سنگدل ہے اور کتنی جلدی بدل دیتا ہے آنکھیں یہ ظالم زمانہ
نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آکر
نہ آنکھیں شاد ہوتی ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہے
کسی کا کون دوست ہے اور کون دشمن اس بات کا اندازہ اس وقت ہی ہوتا ہے جب کسی پر مشکل وقت آن پڑتا ہے۔ آڑے وقت میں کام آنے والے یا مشکل وقت میں کسی کی دستگیری کرنے والے ہی صحیح معنوں میں اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ آج ملک بھر میں ہی نہیں پوری دنیا کے سروں پر موت کا سایہ منڈلا رہا ہے جس کے خوف نے ہماری گلیوں اور بازاروں کو سنسان کر کے رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں کاروبار حیات کا پہیہ ایک دم سے جام ہوکر رک گیا اور گھروں کی چاردیواری میں مقید رہنے والوں کی ایک خاص تعداد کیلئے زندگی اور موت کی اس کشمکش میں کرونا وائرس سے زیادہ دو وقت کی روٹی کے نہ ملنے کی وجہ سے بھوکے مرجانے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ جب صورتحال ایسی ہوجائے تو ہر ایک کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، لوٹ کھسوٹ یا چھینا جھپٹی کرنے کے عادی طالع آزما لوگ اس معاشرتی کمزوری سے ذاتی فائدہ اُٹھانے لگتے ہیں، اک طرف لوگ کرونا کے خوف سے مرے جارہے ہیں اور دوسری طرف چھینا جھپٹی کرنے والے اور دوسروں کے رزق کو چاٹ کھانے والے ہاتھی آپس میں گتھم گتھا ہونے لگے، حکومت کی صفوں میں کھڑے بہت بڑے ناموں والے ناعاقبت اندیش طالع آزما، رہنماؤں کے بھیس میں رہزن، آٹا اور چینی کی چوری کا الزام سر پر دھرے ہمارے سامنے آئے ہیں، اک طرف عوام کو کرونا کی ستم کاریوں کے نتیجے میں قحط یا بھوک سے بے موت مرنے سے بچانے کی خاطر حکومت کی سربراہی کے علاوہ نجی اداروں نے بھی اپنے طور پر گھر گھر راشن پہنچانے کا بیڑہ اُٹھایا ہوا ہے اور دوسری جانب حکومت کے سایہ میں رہ کر عوام سے ان کا رزق چھیننے والے بھی اپنے گھناؤنے کاروبار میں مگن ہیں،
نہ درد دل ہے ان کے نہ سینے میں ہے دل
اک عالم نفسانفسی ہے، ہر فرد اور ہر طبقہ فکر کو اپنی اپنی پڑی ہے، سرکاری اسکولوں کیساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی ادارے اس بات پر ناخوش ہیں کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کو چھٹیاں دیکر ان کیلئے روزی روٹی پیدا کرنے کے ذرائع مفقود کردئیے، تاجر اور دکاندار برادری اسلئے نالاں ہیں کہ بازار بند ہونے سے ان کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، فنکار برادری کے لوگ اسلئے چیخ رہے ہیں کہ ہنسنے ہنسانے اور رونے رلانے کے مواقع نہیں رہے، دیہاڑی پر کام کرنے والے اپنے اپنے گھروں میں دبک کر اس امداد کا انتظار کر رہے ہیں جو حکومت یا مخیر طبقہ کی جانب سے ان کے دروازوں پر پہنچے گی، یہ بات خوش آئند ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں اسلامی بھائی چارے کی تعلیمات پر عمل کرنے والے گھر گھر راشن پہنچانے کا پرجوش مظاہرہ کررہے ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ کچھ لوگ مفت کا راشن وصول کرکے اسے بازاروں میں فروخت کرکے لوگوں کی ہمدردیوں اور اپنی غربت کو کیش کرنے لگے ہیں۔ کون کس حال میں ہے کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں، ہر ایک کو اپنی پڑی ہے، ہر کوئی فریاد بہ لب ہے، مشکل وقت میں صبر اور حوصلوں کی اس کمی کو دیکھ کر ذہن ماؤف ہونے لگتا ہے لیکن اس کے باوجود
سوچتا ہوں اب انجام سفر کیا ہوگا
لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی