وفاقی حکومت کی صوبے سے ناانصافی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ جب سے وفاق میں حکومت تبدیل ہوئی ہے اس کے بعد سے خیبر پختونخوا حکومت کو سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ضم شدہ اضلاع کے 17ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز روک لئے گئے ہیں اور فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کو پی ایس ڈی پی سے نکالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق پن بجلی منافع کی ماہانہ قسط میں بھی تاخیر ہونے لگی ہے جبکہ صورتال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت پہلے ہی 598 ارب روپے کی مقروض ہے جس سے قطع نظر حکومت کی تبدیلی کے بعد مرکز اور صوبے کی حکومت کے درمیان جس طرح کے تعلقات بن گئے ہیں اس سے صوبے کو مختلف مسائل کا شکار بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیںجو صوبے کے عوام سے زیادتی کے مترادف اور بلاجواز ہے دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ اصولی طور پر جماعتی سیاست اور صوبے و مرکز کی حکومتوں کو حکومتی اور عوامی معاملات کو سیاست کی بجائے آئینی اور دستور کے مطابق دیکھنا اور اس کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس کا رواج کم ہی رہا ہے ماضی میں بھی خیبر پختونخوا میںمرکز مخالف جماعت کی حکومت ہونے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ایک مرتبہ پھر صوبے کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے لیکن معاملات بہرحال اس نہج تک پہلے کبھی نہیں گئے جس نہج پر گزشتہ ایک دو ماہ کے دوران پہنچ چکے ہیں امر واقع یہ ہے کہ خیبر پختونخوا مرکز میں برسر اقتدار آنے والی بھان متی کی کنبہ حکومت کے سیاسی مخالفین کا مرکز ہے اور صوبے میں علاوہ ازیں بھی بعض ایسے اقدامات اور بیان بازی ہوتی ہے جوپشاور کو اسلام آباد کا سخت حریف بنانے اور مخالفت کو اگلے درجے میں لے جانے کے تاثرات کا باعث ہے اور اس تاثر کے مزید راسخ ہونے اور صورتحال اسی طرح رہنے بلکہ ممکنہ طور پر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھنے سے مزید کشیدگی اور محاذ آرائی کے خدشات ہیں۔یہ ساری صورتحال صوبے کے لئے پریشان کن صورتحال پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے خاص طور پر خیبر پختونخوا کو ممکنہ طور پر اسلام آباداحتجاج کی قیادت سونپنے کا جو اعلان اور حکمت عملی کا خود تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے ایسا ہونے کی صورت میں مرکز اور صوبے کے تعلقات میں جو مزید بگاڑ کا خطرہ ہے اس سے بچنے کا موزوں راستہ یہی ہو گا کہ حکومت اور سیاست کو مرکزی حکومت بھی اور صوبائی حکومت بھی الگ الگ رکھیںدونوں جماعتوں کی وہ قیادت جومرکز اور صوبے کی حکومت میں عہدیدار نہیںبہتر ہو گا کہ وہی میدان لگا لیںاور جو شخصیات حکومت کا حصہ ہیں وہ واضح طور پر احتجاجی اجتماعات میں حصہ لینے سے اجتناب کریں اور مرکزی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت آئین اور دستور کے مطابق بحال رکھیں اور یہی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے آئین و دستور کے مطابق مرکز سے صوبے کے حقوق اور وسائل کے حصول کا عمل یقینی بنائیںاس طرح کے کردار کے مظاہرے کے بعد ہی مرکزی حکومت کے پاس کوئی ایسا جواز باقی نہیں رہے گا کہ وہ اس حکومتی تعلق کو نظر انداز کرکے صوبے کے وسائل کے اجراء میں روڑے اٹکائے اور تاخیر کا مظاہرہ کرے جہاں تک خیبر پختونخواکے مفادات کے تحفظ کا سوال ہے صوبے کے مفادات صرف اس وقت ہی خطرے سے دو چار نہیں بلکہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں بھی بجائے اس کے کہ ہمارے مسائل پر خصوصی توجہ دی جاتی معاشی اور مالیاتی مسائل تک حل نہیں کئے گئے یہاں تک کہ صوبے کو آئین اور دستور کے مطابق جو وسائل ملنا چاہئے تھااس میں بھی لیت و لعل کا مظاہرہ کیا گیا اس حوالے سے خود صوبائی حکومت اور وزیر خزانہ کے دبے الفاظ میں جبکہ صوبے کی اپوزیشن کی جانب سے صریح الفاظ میں مطالبات ریکارڈ پر ہیںنیز اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ شاید انہی وجوہات کی بناء پر تحریک انصاف کی پہلی حکومت کے دو بڑے صوبائی منصوبوں بی آر ٹی اور سوات ایکسپریس وے جیسے منصوبے دوسرے دور حکومت میں نظر نہیں آتے صوبے میں صحت کارڈ کو ایک کامیاب منصوبے کے طور پر ضرور پیش کیا جاتا ہے لیکن اس پر سرکاری ہسپتالوں پر سرکاری رقم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ اس سہولت پراضافی وسائل صرف کرنے کا ا عتراض کیا جاتا ہے بہرحال صحت کارڈ سے استفادہ کرنے والے لاکھوں افراد اس کی افادیت کے عملی طور پر معترف ہیں۔جاری صورتحال میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوانے جس عزم کا اظہار کیا ہے کوئی وجہ نہیں کہ صوبے کے وسائل کے حصول اور حقوق کے تحفظ کے لئے پورے صوبے کی سیاسی جماعتیں بلا امتیاز ان کا ساتھ نہ دیں البتہ ان کی حمایت کے حصول کے لئے سیاسی گرما گرمی سے قدرے اجتناب برتنے کی ضرورت ہو گی ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے تحریک انصاف کو اپنے کارکنوں کو کال دینے اور کارکنوں کی جانب سے اپنی قیادت کی پکار پر لبیک کہنے کا ضرور حق حاصل ہے لیکن سرکاری اور حکومتی مشینری کے استعمال کا تاثر نہیں ملنا چاہئے مرکز میں خواہ جس کی بھی حکومت ہو ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان سے آئینی اور قانونی تعلقات رکھنا صوبائی حکومت اور عوام کے مفاد میں ہے محاذ آرائی سے گریز اور ایک خاص حد تک تعلقات رکھ کر ہی مرکزی حکومت سے شکایت بھی ہو سکتی ہے اور ان سے اس کا ازالہ بھی متعلقہ پلیٹ فارم سے ہوسکے گا دوسری صورت میں ردعمل ے بچنا مشکل ہو گا جس سے صوبے کے عوام متاثر ہوں گے۔