مصیبت و پریشانی کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں

لوگ خوشیوں اور پریشانیوں کے اسباب میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جب مال زیادہ ہوتا ہے تو خوش ہوتے ہیں یا جب نوکری میں ترقی ہوتی ہے یا جب بیمار شفا پاتا ہے اس وقت خوش ہوتے ہیں۔ لوگ اس وقت بھی خوش ہوتے ہیں جب ان کی مرادیں پوری ہوتی ہیں ویسے جب بیماری آتی ہے تو پریشان ہوتے ہیں یا جب ان کو کوئی پریشان کرتا ہے تو بھی پریشان ہوتے ہیں۔

اگر ایسے ہی ہوتا ہے تو آئو مل کر خوشیوں کے راستے ڈھونڈیں جن سے ہم اپنی پریشانیوں پر غلبہ پائیں…جی یہ زندگی کا اصول ہے کہ اس میں پریشانی اور خوشی ہے…میں اس بات میں آپ کے ساتھ ہوں مگر ہم مصیبت و پریشانی کو اپنے حجم سے کیوں بڑھاتے ہیں…پھر ہم زیادہ پریشان ہوتے ہیں حالانکہ ہم مصیبت و پریشانی کو ایک گھنٹہ کی پریشانی بنا سکتے ہیں …پھر کیوں پریشانی کو بڑھاتے ہیں؟

مزید دیکھیں :   امام مسجدنبوی نے خلیفہ کی پیشکش کیوں ٹھکرا دی؟

یہ جان لو کہ غم و پریشانی دل پر اثر کرتی ہے اور یہ پریشانیاں دل میں بغیر پوچھے گھس جاتی ہیں اور پھر پریشانیوں کے دروازے کھولتی ہیں…مگر جب پریشانی کا ایک دروازہ کھلتا ہے تو ہزار دروازے اس کے بندکرنے کے لئے کھلتے ہیں یہی چیز ہم اس کتاب سے سیکھیں گے۔ ذرا ایک اور چیز کی طرف آئو…کتنے وہ لوگ ہیں جن کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے انس ملتا ہے… تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ تم بھی ان میں سے ایک بن جائو؟

کیوں تم ہمیشہ ایسے رہتے ہو کہ تم اچھے لوگوں کی طرف دیکھ کر متعجب ہو ایسے کیوں نہیں بنتے کہ لوگ تمہیں دیکھ کر متعجب ہوں …مثلاً تمہارے چچا کا بیٹا جب کسی مجلس میں بات کرتا ہے تو اس کی بات سب سنتے ہیں اور اپنے کان کھول کر بیٹھتے ہیں مگر جب تم کسی مجلس میں بات کرتے ہو تو لوگ اٹھ کر چلے جاتے ہیں…یا ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرنے لگ جاتے ہیں…یہ کیوں؟

مزید دیکھیں :   امام مسجدنبوی نے خلیفہ کی پیشکش کیوں ٹھکرا دی؟

ہو سکتا ہے کہ تمہارے پاس علم بھی زیادہ ہو اور اونچی ڈگریاں ہوں تو کیوں تمہارے چچا کے بیٹے نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور تم نہیں کر سکے تم عاجز رہے؟ باپ جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو بیٹے اس کے پاس دوڑتے آتے ہیں اور باپ کے آنے پر خوش ہوتے ہیں اور دوسرا باپ جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو ترستا ہے کہ اس کے بیٹے بھی اس کے پاس دوڑتے آئیں اور خوشی سے ملیں …مگر بیٹے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں ایسا کیوں؟

یہ دونوں باپ نہیں؟ …اس کے بیٹے دوڑتے آئے اور خوشی سے ملے اور دوسرے کے بیٹے دروازے پر ملنے نہیں آئے یہ کیوں ؟…یہ کیوں …؟ کیسے اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوں؟ کیسے لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت ڈالیں؟…کیسے ان پر اپنی تاثیر ڈالیں ؟…کیسے ہم ان کی غلطیاں برداشت کریں؟ کامیابی اس میں نہیں ہے کہ آپ کو پتہ چل جائے کہ لوگ کس کس چیز کو پسند کرتے ہیں بلکہ کامیابی اس میں ہے کہ آپ وہ چیز سیکھیں جس سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت آئے۔

مزید دیکھیں :   امام مسجدنبوی نے خلیفہ کی پیشکش کیوں ٹھکرا دی؟