بینکوں کے سامنے لمبی قطاریں

بینکوں کے سامنے کڑی دھوپ میں صارفین کی لمبی قطاریں

پشاور(نیوزرپورٹر) تین دن کی تعطیلات کے بعد پیر کے روز پشاورمیں لوگ تنخواہیں اور پیسے نکلوانے اور مختلف قسم کے یوٹیلٹی بلز اور فیسیں وغیرہ جمع کرانے کیلئے بینکوں پر ٹوٹ پڑے جس کی وجہ سے شہر میں جی ٹی روڈ سے لے کر حیات آباد تک تمام بینکوں کے باہر صارفین کی لمبی قطاریں لگی رہیں،

شدید دھوپ اور گرمی میں بینکوں نے صارفین کے لئے سایہ کا کوئی انتظام کیا تھا نہ ہی پینے کا پانی دستیاب تھا، لوگوں کے رش سے بعض سرکاری اور نجی بینکوںکے انٹر نیٹ لنک بھی ڈائون ہوگئے جس کے نتیجے میں زیادہ تر اے ٹی ایم بند آئوٹ آف سروس تھیں اور لوگوں نے بینکوں سے براہ راست پیسے وصول کئے جس میں انہیں کئی گھنٹے ضائع ہوئے۔

مزید دیکھیں :   15 اگست سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان

واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملاز مین کی تنخواہیں30جون کو جاری کیں لیکن بینکوں کی چھٹیوں کے باعث تنخواہیں ملازمین کے اکائونٹس میں منتقل نہ ہو سکیں۔ پیر کے روز صبح ہی سے اے ٹی ایم پر عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی تاہم سرکاری بینکوں سمیت زیادہ تر بینکوں کی اے ٹی ایمز میں پیسے ہی نہیں تھے جس پر شہریوں نے شدید احتجاج بھی کیا اور پورا دن بینکوں کے سامنے دھوپ میں کھڑے ہو کر گزارا ۔ اس طرح ہزاروں کی تعداد میں صارفین کو پیسے نکالنے تھے جنہوں نے مجبوری کی وجہ سے یہ پیسے اے ٹی ایم کی سہولت معطل ہونے پر چیک کے ذریعے بینکوں سے پیسے نکالے اوراس کیلئے انہیں قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا ہے اس کے علاوہ سکولوں اور کالجز کی فیسیں جمع کرانے کی وجہ سے بھی بینکوں پر رش تھا ۔

مزید دیکھیں :   شہبازگل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد