سیاسی گھمن گھیری

گفتگو کا آغاز مجو زہ ضمنی انتخابات سے کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمر ان خان نے قومی اسمبلی کے نو حلقوں سے ضمنی انتخابات کے لیے کا غذات نا مزدگی داخل کرائے ہیںوہ بیک وقت نو حلقوں سے ضمنی انتخابات میں کا میا بی حاصل کر نا چاہتے ہیں ایسا کر نے میں ان کا مقصود کیا ہے ، انتخابی قوانین کے مطا بق کسی بھی شخص کو ایک سے زیا دہ حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کا حق ہے ، چنا نچہ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے مگر سیا سی اڑان میں ایساکونسا مر حلہ آن پڑ ا ہے کہ وہ نو حلقوں سے امید وار بن بیٹھے ہیں ، کیا وہ اپنی مقبولیت کا جلوہ دکھا نا چاہتے ہیں یا کوئی اور مقصد ہے ،جب سن ستر میں انتخابات ہوئے تھے تب پی پی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو بھی شہر ت بام عروج پر تھے ، اگر یو ں کہہ دیا جا ئے کہ مرحوم بھٹو کے جیالے عمر ان خان کے یوتھیئوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر فریفتہ جان تھے تو غلط نہ ہو گا ، بھٹومر حوم نے بھی ستر کی دھائی کے انتخابات میں کوئی چار حلقوں سے حصہ لیا تھا ، مر حوم تین حلقوں سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور صوبہ خیبر پختون خوا کے حلقہ ڈیر ہ اسماعیل خان میں نا کام رہے ، یہا ں مولا نا فضل الرّحما ن کے والد بزرگوار مولا نا مفتی محمو د مد مقابل تھے ، اگر چہ مفتی محمو د مر حوم اکثریتی ووٹوں سے کامیا ب ہوئے مگر ان کے تقریباًبیس ہزا ر ووٹ مستر د بھی ہوئے تھے جو مستر د نہ ہوتے تو بھٹو مر حوم کے مقابلے میں مولا نا مفتی محمود مرحوم کے ووٹوں کی اکثریت کہیں زیا دہ ہوتی ، خیر یہ الگ موضوع ہے تاہم دیکھنے میں یہ ہی آیا ہے کہ کوئی لیڈر مقبولیت کے چاہے کتنے ہی اوج ثریا کے درجے پر فائز ہو اس کے لیے ہرمیدان جیت کا میدان ثابت نہیں ہو اکرتا ہے ، بے نظیر بھٹومر حومہ بھی سیاست میں شہرت و مقبولیت میں اوج ثریا سے بھی بلندتر تھیں لیکن جب انھو ں نے پشاور کے موجو دہ حلقے 31این اے سے الیکشن لڑا تو ان کے مد مقابل اے این پی کے امیدوار حاجی غلا م احمد بلور نے کا میا بی حاصل کی تھی ، پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ جب 2013کے انتخابات میں عمر ان خان نے پشاور کے اسی حلقے سے انتخاب لڑا تو ان کے مدمقابل غلام احمد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ،عمر ان خان نے جب پشاور کی نشست خالی کردی تو یہ نشست بھی پی ٹی آئی کے ہاتھ سے نکل گئی کیو ں کہ اہل پشاور کو اس بات کا بڑا قلق ہوا کہ انھو ں نے بابائے پشاور غلا م احمد بلو ر کے مقابلے میں عمر ان خا ن کو چنا مگر عمر ان خان نے وفا نہیں نبھائی ، بابائے پشاور حاجی غلا م احمد بلو ر جن سے پی پی کی ہر دلعزیز لیڈرنے جن کے بارے میں کہا جا تا تھا کہ بے نظیر چارو ں صوبوںکی زنجیر نے شکشت کھائی تھی لیکن ایک اورانتخاب میں پی پی کے صوبائی صدر آفتاب شیر پاؤ نے حاجی غلا م احمد بلو ر کے مقابلے میں کا میا بی حاصل کی،گویا مقبولیت کا گراف انتخابی چوٹ میں اوپر نیچے ہو تا رہتا ہے اب ایک مرتبہ پھر عمر ان خان اور بابائے پشاور آمنے سامنے آرہے ہیں،مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عمر ان خان ضمنی انتخابات میں ہر سیٹ سے انتخاب میں حصہ لے کرکیا ثابت کر نا چاہتے ہیں ، اگر موصوف نو کے نو حلقوں سے کامیا ب ہو بھی جا تے ہیں تب بھی ان کو اپنے پا س قانونی طو رپر ایک ہی نشست رکھنا ہو گی ، نومیں سے آٹھ نشستیں چھوڑنا پڑیں گی پھر ان آٹھ نشستوں پر دوبارہ ضمنی انتخابات ہو ں گے ، ایک اندازے کے مطابق قومی حلقے کے ایک حلقے میں انتخاب کرانے پر تقریباً ڈیڑ ھ سے پو نے دو کروڑ کا خرچ آتاہے گویا نو نشستوں پر ضمنی انتخابات کے اخراجا ت کا تقریباًساڑھے تیر ہ کروڑ سے پندرہ کر وڑ روپے تخمینہ لگایا جا سکتا ہے گویا عمر ان خان کی کامیاب عوام کو پندرہ کروڑ روپے سے زیا دہ میں پڑے گی ، کیا اتنا بوجھ ڈالنا درست اقدام قرار پا تا ہے علاوہ ازیں عمر ان خان ابھی تک اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ کا اعلا ن کرنے کے باوجود الگ نہیںہو پائے ہیں ، عمران خان کی نو نشستوں پر کا میا بی کے بعد قوم کو ایک مرتبہ پھر کم از کم آٹھ نشستوں کے ضمنی انتخابات میں سرگرم ہو نا پڑے گا ، یہ کیا سیا سی ٹیڑ ھ ہے سمجھ سے بالا تر ہے پھر یہ بھی باعث حیر ت ہے کہ موجودہ اسمبلی کو وہ امپورٹڈ حکومت کی اسمبلی قرار دے کر اجتما عی طو ر پر مستعفی ہو نے کا اعلان کر کے اسمبلی سے لا تعلق ہو گئے ہیں پھر وہ قومی اسمبلی کا انتخاب بھی اسی اسمبلی کی نشستو ں کے لیے لڑرہے ہیں جس کو وہ امپورٹڈ حکومت کی اسمبلی قرار دے کر چھو ڑ آئے ہیں ، یہا ں یہ مسئلہ بھی کہ کیا وہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ممنو عہ فارن فنڈنگ کے فیصلے کی روشنی میں انتخابات میں حصہ لینے کے اہل بھی رہے ہیں ، جبکہ الیکشن کمیشن نے ان کو نو ٹس بھی جا ری کر رکھا ہے ،خان صاحب کو معلو م ہوناچاہیے کہ بھٹو مرحوم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ کہا جاتا تھا کہ اگر بھٹو مر حوم کسی کھمبے کو پی پی کا امید وار قرار دے دیں تو وہ بھی الیکشن جیت جائے گا ، گو پی ٹی آئی ہنو ز اس مقام پر نہیں کھڑی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی میں خود پر ستی کا عالم پی پی سے زیادہ ہے ، انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو ووٹ نہیں پڑا کرتے بلکہ ووٹ عمر ان خان کو ملتے ہیں ایسی سیا سی صورت میں عمر ان خان کو ہر حلقے سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے سے اجتنا ب کرنا چاہیے تھا اور اور پارٹی میں سے امیدواروں کو سامنے لانا چاہیے تھا جنہوں نے عمر ان خان کو ووٹ دینا ہے وہ پی ٹی آئی کے امید وار کوبھی ووٹ دیتے یوں عوام کے کروڑوں روپو ںکا ضیاع بھی بچ جاتا ،خود خیا ل کرنا چاہیے کہ مو جو دہ ضمنی انتخاب پراگر چودہ کروڑ کے لگ بھگ خرچہ آئے گا تو نشستیں دوبارہ خالی ہونے کی صورت میں پھر چودہ کر وڑ روپے کا بوجھ اٹھا نا پڑے گا، اب ایسے حالا ت میں الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ انتخابی قوانین میں ترمیم کرے کہ کوئی امید وار ایک سے زیادہ حلقے سے انتخاب میں حصہ نہ لے جب رائے دہندہ اپنا حق رائے دہی ایک ہی حلقے میں استعمال کر سکتا ہے تو امید وار کوبھی ایک ہی حلقے سے انتخاب لڑنا چاہیے ویسے عملا ًایسا ہی ہوتا ہے کہ کئی حلقوں سے کامیا بی حاصل کرنے والے منتخب نمائندے ان تمام حلقوںکی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے آبائی حلقے کی نشست بحال رکھتا ہے اور باقی نشستوںکو بے حال کر جا تا ہے خود عمر ان خان بھی اسی روش پر عمل کرتے آئے ہیںانھو ں نے ایک سے زائد حلقوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہمیشہ اپنے آبائی حلقے میاںوالی کو ہی اپنی نمائندگی کا شرف بخشا ہے ، جیسا کہ انھوں نے پہلے بھی اہل پشاور کو نشست چھوڑکر بے حال کردیاتھا کہ اب کے ایسا ممکن نہ ہوگا یقینی ہوگا اور اہل پشاور ایک مرتبہ پھر عمر ان خان کو کامیا بی سے ہم کنار کرکے دوسری مرتبہ بے مجال ہو جائیں گے اور ان کو ضمنی انتخاب کی آزمائش سے مٹ بھیڑ کر ناپڑے گی ۔

مزید دیکھیں :   اسحاق ڈار سے عوام کی توقعات