خیبرپختونخوا میں بیماریاں

خیبرپختونخوا میں شدید موسمی بیماریاں پھوٹ پڑیں،ہسپتالوں میں رش

ویب ڈیسک :شدیدسردی کے نتیجے میں خیبرپختونخوابشمول پشاورمیں موسمی بیماریاں پھوٹ پڑی ہیںبچوںاوربزرگ شہریوںسمیت لاکھوں افرادمختلف قسم کی موسمی بیماریوںمیں مبتلا ہوئے ہیںاور گھروں پر زیر علاج ہیں اور شدید نوعیت کے درجنوں مریضوں کو میڈیکل وارڈز میں بھی داخل کرایا گیا ہے اس وقت سرکاری ہسپتالوں اور نجی کلینکس پرروزانہ کی بنیادپر ہزاروں تعدادمیں افراد وائرل انفیکشن کی وجہ سے اوپی ڈیزمیں آرہے ہیں جبکہ میڈیکل شاپس پربھی رش بڑھ گیاہے اور لوگ بغیر کسی تحقیق اور معالج کی تجویزکے دھڑا دھڑا پیناڈول اورانٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال کررہے ہیں انٹی الرجک ادویات کا استعمال بھی زیادہ ہوگیاہے
جس سے جراثیم کی مدافعت میں اضافہ ہوا ہے محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایاکہ خیبر پختونخوا کے میدانی اورپہاڑی علاقوں میں نوعمر اور نوزائیدہ بچوں کو سینے کے ا مراض لاحق ہوئے ہے اس طرح بزرگ شہریوں میں نزلہ ، زکام اور نمونیا کی شکایات ہیں، نوجوان کھانسی اوربخار کا شکار ہورہے ہیں زیادہ تعداد میں لوگوں کے بیمارپڑنے کی بڑی وجہ انسانی ٹمپریچر کا موسمی درجہ حرارت کے مقابلے پرکم ہوناہے فضائی آلودگی بھی بڑھ رہی ہیں اور خشک موسم اور ٹھنڈی ہوائیں وائرل انفیکشن پھیلانے کا سبب بن رہی ہیںزیادہ آلودگی کے باعث پشاورمیں مختلف موسمی بیماریوں کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں ایک سو گنا زائدہے
ذرائع نے بتایاکہ اس سلسلے میں الرٹ جاری کردیاگیاہے اور محکمہ صحت کے زیر انتظام ہسپتالوں میں موسمی بیماریوں کے علاج کیلئے ایمرجنسی بنیادوں پر ادویات کی فراہمی کی ہدایت کردی گئی ہے بتایا گیا ہے کہ جنوری میں شدید دھند کی پیش گوئی سے یہ امراض مزید پھیلنے کا خدشہ ہے اور یہ سلسلہ فروری تک چلنے کا امکان ہے دوسری جانب ہسپتالوں اور نجی کلینکس سے معائنہ اور علاج تشخیص کرنے کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ میڈیکل سٹورزسے پیراسیٹامول اور جراثیم کش ادویات خود تجویز کررہے ہیں اور خود تشخیصی کی وجہ سے یہ وائرل انفیکشن خطرناک شکل اختیار کررہا ہے اور اموات کا خطرہ پیدا کررہاہے۔

مزید دیکھیں :   شبقدر،اراضی تنازعہ پرفائرنگ،3افرادکالرزہ خیزقتل