الیکشن کمیشن سندھ حکومت

الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت نے قانون کی دھجیاں اڑائیں، ایم کیو ایم

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیر وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بلدیاتی الیکشن میں قانون کی دھجیاں اڑائیں اب یہ کیسے ممکن ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن 2023 میں شفاف عام انتخابات کے انعقاد کا اہل ہے۔
ویب ڈیسک: تفصیلات کے مطابق (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیر وسیم اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا شہر کراچی، حیدر آباد اس الیکشن کو مسترد کرتا ہے، غلط حلقہ بندیوں کے باوجود عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کیا، پیپلز پارٹی نے پری پول رگنگ کرائی، جماعت اسلامی کو بہت سمجھانے کی کوشش کی اب سمجھ آجانی چاہیے، ہم نے جماعت اسلامی کو کہا تھا پہلے حلقہ بندیاں درست کرا لیں۔
وسیم اختر نے بلدیاتی الیکشن کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب سے درخواست کروں گا سوموٹونوٹس لیں، خدا کا واسطہ ہے الیکشن کمیشن میں کوئی صلاحیت والے لوگ رکھے جائیں، دنیا بلدیاتی انتخابات کا مذاق اڑا رہی ہے.
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ حکومت نے ڈھائی سال بعد بھونڈا الیکشن کرایا، اس الیکشن کو دھبے کے طور پر یاد رکھا جائے گا، الیکشن نتائج میں تاخیر کی گئی، الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن ایسا کرایا تو جنرل الیکشن کیسا ہو گا؟، بیلٹ پیپر کو لوگ گلی، سڑکوں پر لیکر گھوم رہے تھے، سب نے دیکھا لوگ گلی، محلوں میں مہریں لگا رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے عوامی خواہشات کی دھجیاں اڑائیں، آج ثابت ہوتا ہے سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن نے مل کر پری پول رگنگ کی، آئین کے تحت الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کا پابند ہے.

مزید دیکھیں :   رواں سال پشاور میں خود کش حملے کا پہلا واقعہ