رمضان المبارک اور افطار پارٹیاں

رمضان المبارک کی ساری رونق اور چہل پہل سحری وافطاری سے ہے۔ افسوس اس سال کورونا نے یہ رونق ہم سے چھین لی ہے۔ روزے اس خاموشی سے گزر رہے ہیں جیسے ان پر سوگ طاری ہے۔ روزے داروں کے چہرے بھی بجھے بجھے سے ہیں۔ ورنہ رمضان میں راتیں بھی جاگتی تھیں اور دن بھی گہما گہمی سے معمور ہوتے تھے۔ سحری و افطاری کی تقریبات برصغیر میں مسلم معاشرے کا نہایت جاندار اور پُرکشش حصہ تھیں۔ سحری اگرچہ طلوع فجر کے وقت اختتام پزیر ہوتی تھی لیکن اس کی تیاری رات کے آخری پہر شروع ہوجاتی تھی۔ نوجوانوں کی پارٹیاں لوگوں کو جگانے کیلئے محلوں میں گشت لگاتیں اور بیداری کا ماحول پیدا کرتی تھیں۔ گھروں میں چھوٹے بچے بھی سحری کے وقت بیدار ہوجاتے اور روزہ رکھنے پر اصرار کرتے، انہیں سحری کھلائی جاتی لیکن ماں ان کے کان میں پھونک دیتی کہ ان کا ایک ڈاڑھ کا روزہ ہے۔ وہ دوسری ڈاڑھ سے دن میں کھا پی سکتے ہیں۔ البتہ جب ان کی عمر روزہ رکھنے کے قابل ہوجاتی تو بڑے اہتمام سے ان کی روزہ کشائی کرائی جاتی تھی۔ باقاعدہ تقریب ہوتی تھی، خاندان کے قریبی لوگوں کو بلایا جاتا تھا اور اس موقع پر روزہ دار بچے کو باقاعدہ تحائف دئیے جاتے تھے۔ اب یہ روایت بھی دم توڑتی جارہی ہے۔ مسجد میں سحری کے وقت گونجتی رہتی تھی۔ کہیں لائوڈ اسپیکر پر حمد و نعت پڑھی جارہی ہے، کہیں تلاوت ہورہی ہے اور بار بار اعلان ہورہا ہے کہ اب سحری بند ہونے میں اتنا وقت رہ گیا ہے۔ کورونا نے مسجدوں کو اس رونق سے بھی محروم کردیا ہے۔ کورونا کی کیا مجال تھی یہ کام ہم نے خود کیا ہے۔ پولیس مسجدوں پر چھاپے مار کر لائوڈ اسپیکر بند کرارہی ہے، کیونکہ اس سے کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے، اب مسجدوں سے سحری کے وقت صرف اذانیں ہورہی ہیں یا جہاں سائرن ہیں سحری کے اختتام پر وہ بجائے جارہے ہیں۔
مسجد کے دستر خوان پر امیر، غریب، راہ چلتے مسافر، نادار، مساکین سب ایک ساتھ بیٹھ کر افطاری کرتے اور اللہ کا شکر بجا لاتے تھے۔ اب کی دفعہ مساجد اس رونق سے محروم ہوگئی ہیں۔ حکومت نے علمائے کرام کے تعاون سے رمضان کے دوران مسجدیں کھولنے کا جو ہدایت نامہ جاری کیا ہے اس میں یہ شرط شامل ہے کہ مسجد میں افطاری نہیں ہوگی، رمضان تو اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے لیکن ہمارے اندر اس کی رحمتوں کو سمیٹنے کا یارا نہیں ہے۔ کورونا سے زیادہ کورونا کا خوف ہم پر مسلط کردیا گیا ہے اور ہم ڈرے ڈرے، سہمے سہمے سانس لے رہے ہیں کہ کہیں سانس کے ذریعے کورونا ہمارے اندر نہ چلا جائے۔ حکومتیں خواہ وفاقی ہوں یا صوبائی اس خوف کو برقرار رکھنے کا خاص اہتمام کررہی ہیں کہ اسی خوف نے انہیں سہارا دے رکھا ہے۔ افطاری سے ہمیں وہ افطار پارٹیاں یاد آرہی ہیں جو ہماری سیاسی و معاشرتی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔ شیخ رشید تو اب چلا ہوا کارتوس ہیں لیکن جب وہ بھرا کارتوس تھے تو اپنے انتخابی حلقے میں ''تیس روزے تیس افطار پارٹیاں'' کے عنوان سے ہر روز ایک افطار پارٹی کا اہتمام کرتے تھے۔ یہ اپنے ووٹروں سے رابطے کا نہایت خوبصورت انداز تھا۔ کچھ اور لوگوں نے بھی اس حکمت عملی پر عمل کرنا چاہا لیکن وہ اسے نباہ نہ سکے۔ رمضان آتے ہی سرکاری افطار پارٹیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا تھا۔ ان افطار پارٹیوں کا اہتمام وفاقی وزرا کی طرف سے بالعموم سینئر صحافیوں کے اعزاز میں ہوتا تھا۔ یہ ہم اُس زمانے کی بات کررہے ہیں جب اطلاعات کی دنیا پر پرنٹ میڈیا کی اجارہ داری تھی اور اخبارات میں کام کرنے والوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پھر الیکٹرونک میڈیا کا دور آیا تو سب کچھ ٹکے سیر بکنے لگا۔ سیاستدان بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کیلئے صحافیوں کو افطار پارٹیاں دیتے تھے اور بالعموم پریس کلب میں اس کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ اس طرح صحافی اپنے ہی گھر میں مہمانی کا لطف اٹھاتے تھے۔ اس دوڑ میں فوج کا شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کیسے پیچھے رہتا آخر اسے بھی تو صحافیوں سے واسطہ پڑتا تھا۔ چنانچہ آئی ایس پی آر بھی سینئر صحافیوں کو افطار ڈنر پر مدعو کرتا تھا۔ اس تقریب میں کبھی کبھی آرمی چیف بھی شرکت کرتے تھے اور صحافیوں سے ان کی گپ شپ بڑی خبر بن جاتی تھی۔ جنرل ضیا الحق آرمی چیف بھی تھے، صدر بھی تھے اس کے علاوہ بھی ان کے سر پہ کئی ٹوپیاں تھیں، وہ آئی ایس پی آر کی افطاری میں شرکت کرتے تو خوب رونق لگتی تھی۔ سیاسی جماعتوں کی افطار پارٹیاں بالعموم عوامی افطاری کا درجہ اختیار کرلیتی تھیں جن میں پارٹی کارکنوں کا رش ہوتا تھا اور یہ کارکن اپنے سیاسی کلچر کے مطابق افطاری سے نمٹتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنیں تو پیپلز پارٹی نے ان کے اعزاز میں ایک بڑی افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ صحافی بھی مدعو تھے لیکن افطار کھلنے سے پہلے ہی جیالے افطاری پر ٹوٹ پڑے اور روزہ دار منہ دیکھتے رہ گئے۔ مسلم لیگ کی افطار پارٹیوں میں بھی ہڑبونگ مچتی تھی لیکن اتنی نہیں کہ افطار سے پہلے ہی افطاری چٹ ہوجائے۔ جماعت اسلامی کی افطار پارٹی بڑے سلیقے کی ہوتی تھی اس میں افطاری ہر شریک محفل تک خود پہنچ جاتی تھی اور کسی کو اس کیلئے تگ و دو نہیں کرنا پڑتی تھی۔ اب کورونا نے افطار پارٹیوں کو خواب و خیال بنادیا ہے، دوست احباب بھی ایک دوسرے کو افطار پر بلانے سے گریز کررہے ہیں۔ کورونا نے ہر شخص کو تنہا کردیا ہے اور ہر طرف تنہائیوں کا میلہ ہے۔