کورونا کے ساتھ جینا

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا شاید کبھی ختم نہ ہو اور دنیا بھر کے لوگوں کو اس وباء کیساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھنا پڑے۔ خیال رہے کہ کورونا کا پہلا کیس سال گزشتہ کے آخری مہینے دسمبر میں چین میں سامنے آیا اب تک دنیا بھر میں بیالیس لاکھ سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور تین لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ ابھی اس وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں، پاکستان میں 37218 کیسز سامنے آئے، تعداد خاصی کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں، لوگوں کا ٹیسٹ کرانے سے گریز اور سرکاری سطح پر ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونا ہے، اسلئے اس صورتحال اور اعداد وشمار کو حقیقی قرار نہیں دیا جا سکتا البتہ تشویش کی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اب یومیہ ہزار سے زائد کا اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ چھبیس فروری کو سامنے آنے والے پہلے کیس کے بعد پاکستان میں اس وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے مختلف قسم کی بندشیں اور بعد ازاں جزوی لاک ڈائون کیا گیا جس کی پابندی اس طرح سے نہ ہو سکی جو مطلوب تھی۔ رواں ماہ کے ابتدائی چودہ روز میں پاکستان میں بیس ہزار سے زائد کیسز اور چار سو سے زائد اموات کا ریکارڈہونا سنگین صورتحال ہے۔ خیبرپختونخوا میں پانچ ہزار چارسو تئیس لوگ اب تک دستیاب اعداد وشمار کے مطابق اس وباء کا شکار ہوئے اور اموات کی تعداد 284 سے زائد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس وائرس کیساتھ زندگی گزارنے کے حوالے سے جو کہا گیا ہے دنیا بھر کے لوگ مختلف طریقوں سے اسے پہلے ہی اختیار کرنے لگے ہیں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میںعلیحدہ علیحدہ چھوٹے چھوٹے کیبن بنائے جارہے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ گھروں سے کام اورکاروبار پر پوری توجہ دی جارہی ہے، بعض اچھے اداروں نے اپنے ملازمین کو مستقلاً گھروں سے کام کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ شاپنگ مالز اور عوامی مقامات پر مناسب فاصلہ رکھنے کی کوششیں ہورہی ہیں، تعلیمی اداروں میں بچوں کو صدردروازے سے لیکر کلاس روم میں اپنی نشست پر بیٹھنے تک مختلف حفاظتی وتحفظاتی اقدامات اور مراحل سے گزارا جارہا ہے۔ دیکھا جائے تو پوری دنیا میں اس حوالے سے کام جاری ہے لیکن پاکستان میں صورتحال یکسر مختلف ہے، یہاں لاک ڈائون کا احترام نہ کیا گیا اور اب بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر مناسب فاصلہ کاخیال تو درکنار لوگ ماسک پہننے کو بھی معیوب سمجھتے ہیں اور ماسک پہننے والوں کو عجیب نظروں سے دیکھنے کا رواج ہے۔ اسے قدرت کی مہربانی ہی قرار دیا جائیگا کہ پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد بھی اتنی بڑھی نہیں کہ وباء بے قابو قرار دیا جائے البتہ ٹیسٹ بڑھیں اور اموات کے درست اعداد وشمار اکٹھے ہوں تو اس امر کا درست اندازہ ممکن ہوگا کہ پاکستان میں اس وباء سے اموات کی حقیقی شرح کیا ہے۔ یہ خیال البتہ تقویت کا باعث ضرور ہے کہ ہمارا طرززندگی اور ماحول وباء موافق نہیں، ورنہ نجانے کتنی اموات ہوتیں۔ اس وائرس کیساتھ جینے کا تقاضا یہ ہوگا کہ حکومت علاج معالجے کے انتظامات بہتر بنائے اور عوام حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کریں۔ پاکستان میں سماجی میل جول اور بہت زیادہ احتیاط نہ کرنے میں بہتری کو جو نکتہ اجتماعی قوت مدافعت کا بتایا جارہا ہے اس سے اگر واقف ہو کر اور شعوری طور پر فاصلہ رکھنے سے احتراز کرتے تو یہ الگ بات ہوتی جس طرح حفاظتی تدابیر کا بازاروں اور عوامی مقامات پر مذاق اُڑایا جارہا ہے اسے اجتماعی خودکشی سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔ حکومتی اقدامات ھیچ اور انتظامیہ مفلوج ہے سوائے مساجد میںمقررہ اور طے شدہ فاصلہ برقرار رکھنے کے اور کہیں بھی ایسا ہوتا نظر نہیں آتا، ممکن ہے بہت سارے مضافات اور دیہات میں مساجد میں بھی فاصلے کی پابندی نہ ہورہی ہو۔ ہمیں اپنے علاوہ اپنے اہل خاندان اور دیگر پاکستانی بھائیوں کے جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا احساس کرنا ہوگا اور اگر اور کچھ بھی ممکن نہ ہو تو کم ازکم اپنے ہی تحفظ کی خاطر اور اپنے گھر والوں کو اپنے ہاتھوں اس وائرس کا شکار ہونے سے بچانے کی خاطر تھوڑا سا احساس کر کے مناسب فاصلہ رکھنے کی تو کم ازکم پابندی کی جائے اور حکومت بھی اس سلسلے میں ایسے سخت اقدامات اُٹھائے کہ عوام کو حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزی پر خوف محسوس ہو، شعور اُجا گر کرنے کی مہم میں تیزی لائی جائے اور نوفعال ٹائیگر فورس بازاروں میں انتظامیہ کے شانہ بشانہ فرائض سنبھالتا نظر آئے۔