بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن

حکومت کا بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ویب ڈیسک: نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی محمد علی کا کہنا تھا اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان ڈسکوز میں 79 ارب یونٹس بجلی کا نقصان ہوتا ہے، صرف ان 5 ڈسکوز میں 100 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، ان پانچ ڈسکوز میں سے 3044 ارب کی بلنگ ہوتی ہے اور 100 ارب کا نقصان ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر محمد علی کا کہنا تھا کہ پشاور، حیدرآباد، کوئٹہ، سکھر، قبائلی علاقوں اور آزاد کشمیر ڈسکوز میں 489 ارب کا نقصان ہوتا ہے، ان پانچ ڈسکوز کے 737 ارب کی بلنگ میں سے 489 ارب کا نقصان ہوتا ہے، ان پانچ ڈسکوز میں سے 60 فیصد نقصان ہوتا ہے۔
محمد علی نے بتایا کہ ہر علاقے میں الگ الگ سطح پر بجلی کی چوری ہو رہی ہے، ملک میں 589 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے یا بل ادا نہیں کیے جا رہے، ہمیں ملک میں ہونے والی بجلی کی چوری کو روکنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی چوری یا بل ادا نہ کرنے کے باعث دیگر صارفین پر بوجھ پڑتا ہے، جب تک بجلی چوری ختم نہیں ہوتی اور لوگ بل ادا نہیں کرتے اس وقت تک عوام کو سستی بجلی نہیں ملے گی۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے، جو بجلی کے بل ادا نہیں کرتے ان سے ریکوری کریں گے۔

مزید پڑھیں:  توشہ خانہ کیس:عمران خان اور بشریٰ بی بی کا گرفتاری کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع