ناقص منصوبہ بندی کے نقصانات

روزنامہ مشرق کی نیوز رپورٹر کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں طبی آلات اور مشینری سے متعلق جائزہ کے دوران صرف چار ہسپتالوں میں کروڑوں روپے کے اضافی سامان کی فراہمی کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ ان ہسپتالوں میں بے کار پڑی ہوئی مشینری کی لاگت اربوںروپے تک جانے کے امکانات ہیں ‘ خبر کے مطابق کچھ ہسپتالوں میں جہاں گائنی ‘ نرسری یا پیڈز یونٹ نہیں ہیں وہاں غیر ضروری آلات یعنی انکیوبیٹرز’ بے بی وارمرز اورگائنی سیکشن میں استعمال ہونے والی مشین فراہم کی گئی ہیں ان تمام آلات کو ہسپتالوں کے سٹورز میں پھینک دیاگیا ہے ‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن ہسپتالوں میںجن بیماریوں کی سہولیات سرے سے ہیں ہی نہیں ‘ وہاں سے ان بیماریوں میں استعمال ہونے والی سہولیات اورمشینری وغیرہ کی ریکوزیشن کیسے آئی؟ اوراگریہ اشیاء مانگی گئیں توان پرانکوائری کرتے ہوئے استفسار کیوں نہیں کیاگیا؟اب جو یہ کروڑوں کی مالیت کی اشیاء متعلقہ ہسپتالوں میں سٹورز میں رکھے ہوئے سڑ رہی ہیں تو اس تمام سامان کو فوری طور پر ان ہسپتالوں کو منتقل کرنے کے احکامات صادر کئے جائیں جہاں ان کی ضرورت ہے اوراس سلسلے میں تحقیقات کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں ‘ ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے آئندہ ایسی صورتحال نہ آنے دینے کی یقین دہانی کرائی جائے تاکہ صوبے کے خزانے پربے جا بوجھ ڈالنے کی نوبت نہ آسکے۔

مزید پڑھیں:  پیشہ ور گداگروں کی بھرمار