آنکھوں میں دھول جھونکنے والی محکمہ خوراک کی ٹیمیں

سیکرٹری محکمہ خوراک کی ہدایت پر مختلف مارکیٹوں میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں کی چھان بین کے لئے جوٹیمیں بنائی گئی ہیںان کی کارکردگی کواگرمتعلقہ حکام کسوٹی پرپرکھنے کی زحمت گوارا کریں گے توان کو معلوم ہوگا کہ محولہ ٹیمیں نہ صرف عوام بلکہ خود اپنے اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک رہی ہیںگزشتہ روز بھی ان کے چھاپوں کی رپورٹ شائع ہوئی ہے لیکن عالم یہ ہے کہ ایک شہری کی روٹی کے کم وزن ہون کی شکایت کے جواب میں محکمہ خوراک کی ٹیم نے 90.9 گرام کی روٹی کی وزن کی باقاعدہ تصویر بنا کر وائس مسیج میں روٹی کا وزن پورا ہونے کا جواب دیا جوشکایت کرنے والے کے پاس محفوظ اوردستیاب ہے جبکہ سرکاری طور پرایک سو پندرہ گرام وزن کی روٹی بیس روپے میں فروخت ہونی چاہئے محکمہ خوراک کی زمینی ٹیموں کی ملی بھگت سے نانبائیوں کی لوٹ مار اور صارفین کی حق تلفی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کی ملی بھگت کی وجہ سے صارفین کوصبح دوپہر شام کس حد تک ٹھگ لیاجاتا ہے اورپھر دعویٰ یہ کیاجاتا ہے کہ اعلیٰ حکام کی ہدایت پرٹیموں نے کارروائی کی باربار کی شکایات کے باوجود نانبائیوں کے خلاف عملی طور پرکارروائی نہ ہونے سے اس امر کا بھی امکان نظرآتا ہے کہ ممکن ہے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک دبائو کے باعث ان کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ کرچکی ہو اور اس معاہدے کی رو سے 90.9 گرام وزن کی روٹی کی سرکاری طورپرمقررہ قیمت 25 روپے مقرر ہوئی ہواعلیٰ حکام اگراس ضمن میں نوٹس لینے کے خواہاں ہوں تو نواب مارکیٹ سمیت حیات آباد کی تمام مارکیٹوں میں روٹی کاوزن اور قیمت دونوں چیک کروا سکتے ہیں اگران کی جانب سے کوئی خفیہ مفاہمت اورملی بھگت نہیں ہوئی ہے توپھر ذیلی ٹیموں کی جانب سے اس صورتحال پراس قدرڈھٹائی کے مظاہرے کا سختی کے ساتھ نوٹس لینا چاہئے جس کا تقاضا ہو گا کہ عرصہ دراز سے صوبائی دارالحکومت میں خدمات انجام دینے والی ٹیموں کے ارکان کا تبادلہ کیاجائے تاکہ ان کی اجارہ داری اورملی بھگت کا خاتمہ ہو اور ان کی جگہ اہل اور دیانتدار ٹیمیں تشکیل دی جائیں اب جبکہ نئی حکومت قائم ہونے جارہی ہے تو گربہ کشتن روزاول کے مصداق احتساب اور کارروائی کا عمل محکمہ خوراک سے شروع ہوناچاہئے جس کی نااہلی اور ملی بھگت سے عوام دوہری مہنگائی کا شکار ہوکرنالاں ہیں اس کے ازالے کی واحد صورت مافیا صورت عناصرکا خاتمہ ہی نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں:  نامناسب تجویز