نئی حکومتوں کا امتحان

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب اورسندھ میں وزرائے اعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل ہوگیا جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی تیاریاں جاری ہیں اور اس عمل کی تکمیل آج بروز بدھ متوقع ہے ۔ طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے والی پنجاب میں مسلم لیگ نون کی خاتون وزیر اعلیٰ ایک دور کے وقعے کے بعد آگئی ہیں اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ملکی تاریخ میں پہلی بارخاتون وزیراعلیٰ بن گئی ہیں سندھ کے وزیر اعلیٰ تیسری بار منتخب ہوکر ریکارڈ بنایا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میںپاکستان تحریک انصاف کے آزاد امیدوار کے طور پر امیدوارکے صوبے میں جماعت کی مسلسل تیسری مدت کے لئے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کی یقینی حد تک توقع ہے ۔ پنجاب کی خاتون وزیر اعلیٰ کی جانب سے عوام کے مسائل و مشکلات کے حل اور سہولتوں کی فراہمی کے لئے جن اقدامات کا عندیہ دیاگیا ہے بصورت کامیابی یہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لئے بڑا چیلنج ہو گا پنجاب کی وزیراعلیٰ کویہ سہولت حاصل ہے کہ ان کے ار دگرد حکمرانی کا طویل تجربہ رکھنے والے افراد کی ٹیم کی اعانت و رہنمائی ہی حاصل نہیں بلکہ مرکز میں ان کی جماعت کی حکومت ہونے کے ناتے بھی مرکزسے حصول و اعانت میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بھی کسی حد تک مرکز کی طرف سے دست تعاون حاصل رہے گاالبتہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کواس خاص سمت میں حکمت و بصیرت کے مظاہرے کے ساتھ جدوجہد کی ضرورت ہو گی صوبائی حکومت کی مرکز کی جانب سے سرپرستی اور دست گیری کی توتوقع نہیں لیکن خیبر پختونخوا کے مرکز کے ذمے واجبات اور وسائل میں سے این ایف سی ایوارڈ کے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت حصہ ہی نہیں ضم اضلاع کے حصے کی رقم اور این ایف سی میں ان اضلاع کے حصہ پر مرکز اور صوبوں کی جانب سے اتفاق و حوالگی بہرحال ایسے امور ہیں جو صوبے کا قانونی اور عوامی حق ہیں اضافی وسائل نہیں کم از کم از اس صوبے کے جائز حقوق اور وسائل سے حصہ دیا جائے توبھی اسے سرپرستی ہی میں شمار کیا جائے گا اور خیبر پختونخوا میں ان وسائل کو حقیقی اور درست انداز میں بروئے کار لا کرعوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوسکے گی متوقع و نامزد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پہلے ہی صحت کارڈ سمیت بعض دیگر معطل شدہ سہولتوں کی ترجیحی بنیادوں پر بحالی کاعندیہ دے چکے ہیں صوبے میں حکومت سازی سے ایک ہی دن قبل دہشت گردی کا بڑا واقعہ امن و امان کے چیلنج درپیش ہونے کی دہائی دینے والاعمل ہے جو خیبر پختونخوا کا سنگین اور دیرینہ مسئلہ چلا آرہا ہے اور حالات کے رخ سے اس امر کا خدشہ ہے کہ آمدہ حکومت کوبھی امن و امان کے سنگین مسائل سے واسطہ پڑ سکتا ہے کچھ ہی دن قبل وزیر اعلیٰ کے سیکورٹی انچارج کو نشانہ بنایا گیا اور مردان کے واقعے کے ساتھ ہی پشاور میں بھی عام نوعیت کاایک واقعہ رونما ہواخیبر پختونخوا جہاں گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں بڑااضافہ سامنے آیاوہاں صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جن انتظامات اور تیاریوں کی ضرورت ہے اس کافقدان ہے یہاں تک کہ مرکزی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کو اس خاص مقصد کے لئے فراہم وسائل ہی کو بروئے کار لانے کا اقدام سمجھ سے بالاتر ہے قومی اداروں کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)خیبر پختونخوا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے حملوں کو نہیں روک سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا مسائل کی آماج گاہ بن گیا ہے، افرادی قوت اور وسائل موجود نہیں، قومی اداروں نے سی ٹی ڈی خیبرپختونخواکی تنظیم نو اور وسائل کی فراہمی اور تربیت کے اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے حملوں کو روکنا ممکن نہیں۔ ان سارے عوامل کے تناظر میں اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خیبر پختونخوا میں امن وا مان کو برقرار رکھنے میں آمدہ حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوگا اوراس کے لئے اضافی وسائل بھی درکار ہوں گے َقومی اداروں کایہ بھی کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کو کوئی مراعات حاصل نہیں، خیبر پختونخوا میں شہدا پیکج کے لیے بھی مناسب رقوم دستیاب نہیں، سی ٹی ڈی پنجاب اور سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی تنخواہوں میں70 فیصد کا فرق ہے، خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کیاہلکاروں کی رہائش کا بھی کوئی بندوبست نہیں۔اس طرح کی صورتحال میں ہماری پولیس کا قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے کے باوجود مورال پرفرق پڑنا فطری امرہے اس خاص شعبے پراب پوری طرح توجہ دیئے بغیر چارہ نہیں جس کے حوالے سے آمدہ حکومت کوسنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔