علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے 22ویں‌ وزیراعلی منتخب

ویب ڈیسک: علی امین گنڈاپور 22ویں وزیراعلی خیبرپختونخوا منتخب ہو گئے۔ انہوں نے 90 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل عباد اللہ خان کو 16 ووٹ ملے۔
سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے قائد ایوان کے نتائج کے حوالے سے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل کے علی امین گنڈاپور کو 90 جبکہ ن لیگ کے عباد اللہ خان کو 16 ووٹ ملے۔ ان نتائج کے حوالے سے علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ بن گئے۔
اس موقع پر منتخب وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مجھ پر بانی پی ٹی آئی نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ پارٹی کا 17 سال سے کارکن ہوں، اب عوام کی خدمت کا وقت ہے، اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔
صوبائی اسمبلی میں‌ اپنی افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنا حق لینا اور چھیننا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ تو دور کی بات ہمیں تو فیلڈ ہی نہیں دی گئی۔
نومنتخب وزیراعلیٰ خِیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں میرے اوپر 9 مقدمات درج ہوئے۔ میری خواتین اور لیڈرشپ پر جھوٹی ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھ کہ ایک ہفتے کے اندر وہ تمام ایف آئی آر ختم ہونی چاہئِیں جس کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ غلط ایف آئی آرز ختم نہ ہوئیں تو سزا کیلئے تیار ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوئی۔ چیف الیکشن کمیشنر فوری مستعفی ہوں اور چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنائیں۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پوری قوم جان گئی کہ سلیکٹڈ کون ہے۔ یہ لوگ قانون سازی عوام کیلئے نہیں بلکہ اپنی چوری چھپانے کیلئے کرتے ہیں۔ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، ‏جو مینڈیٹ چوری ہوا ہے وہ سامنے لایا جائے۔ ‏مینڈیٹ چوری کرنا آئین سے غداری ہے۔
‏علی امین گنڈاپور کا اپنے خطاب میں کہنا ہے کہ ہمیں قرآن کی بے حرمتی کیخلاف احتجاج کرنے نہیں دیا گیا، ‏ہمیں کشمیر اور فلسطین کیلئے احتجاج کرنے نہیں دیا گیا۔ ‏جو سمجھتا ہے ہم حق لینا نہیں جانتے یہ انکی بھول ہے۔
انہوں نے دبنگ انداز میں کہا کہ ‏ہم حق لے سکتے ہیں ہمیں مجبور نہ کریں کہ حق چھیننے کیلئے آواز اٹھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امن سب سے زیادہ ضروری ہے، اس کیلئے صوبے میں دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے، سب سے پہلے عوام کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ غریب سے ٹیکس نہیں لیں گے بلکہ ان سے لیں گے جنہوں نے پیسہ بنایا ہے اور ٹیکس نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق مدد نہیں کرتا پھر بھی ہم اپنی خوراک کی پیداوار بڑھائیں گے۔ سستی بجلی بنا کر مہنگی بجلی دی جاتی ہے وفاق ہمیں حق دے ورنہ ایوان تیار رہے ہم حق لے کے رہیں گے۔
ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا خواب تھا یہ ویلفیئر سٹیٹ ہے۔ یکم رمضان سے پختونخوا کو ہیلتھ کارڈ دوبارہ بحال کر دیا جائیگا۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ حتمی نہیں ہے: نائب وزیراعظم