آلودہ پانی سے سیراب مضرصحت سبزیاں تلف کی جائیں

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے آلودہ پانی سے سبزیاں اُگا کر لوگوں کو زہر کھلانے والوں اور اس کی روک تھام ونگرانی کے ذمہ دار عناصر کیخلاف سخت تادیبی اقدامات کی بجائے ہدایات جاری کرنے کا عمل قابل قبول اورمؤثر امر نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ چیف سیکرٹری کے نوٹس میں آنے والا تازہ اور اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ صوبے میں عرصہ دراز سے یہ عمل جاری ہے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ذمہ دار سرکاری محکمے اور عملہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مکمل ناکام ہے، ان کی غفلت اور لاپرواہی یا پھر ملی بھگت وبدعنوانی کے علاوہ یہ ممکن ہی نہیں۔ آلودہ پانی کی روک تھام، استعمال شدہ پانی کی صفائی اور کیمیکل ملے پانی کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے، سنگ مرمر تراشنے کے کارخانوں میں استعمال شدہ آلودہ پانی اور اس پانی کو صاف پانی میں شامل ہونے سے بچانا اور جمنے والے آلودہ مواد کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا یہ سب ایسے معاملات نہیں جو پوشیدہ ہوں، ایسا کھلے عام ہورہا ہے جس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ اس عمل کی ذمہ داری ایک نہیں کئی محکموں پر عائد ہوتی ہے جس پر کسی بھی طرف سے توجہ نہ دیا جانا تشویشناک امر ہے۔ صوبے میں ماحول وزراعت کی تباہی اور زہریلے وآلودہ پانی سے سبزیاں اُگا کر لوگوں کی زندگیوں اور صحت کو دائو پر لگانا ایسے معاملات نہیں جس میں تاخیر کی گنجائش ہو۔ پشاور، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد، مانسہرہ سمیت قبائلی اضلاع اور جہاں جہاں بھی آلودہ پانی کو زراعت کیلئے بروئے کار لایا جاتا ہے اس کا فوری خاتمہ ہونا چاہئے، نیز ماربل کی صنعت سے آلودہ ہونے والے پانی کو مقررہ طریقہ کار کے تحت ٹھکانے لگانے اور نہروں وندیوں کو آلودہ ہونے سے بچانے پر خاص طور پر توجہ دی جائے۔ گھریلو اور صنعتوں میں استعمال شدہ پانی کو صاف کر کے اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے منصوبوں پر توجہ دی جائے نیز پانی کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ جن جن علاقوں میں جہاں جہاں مضرصحت اور آلودہ پانی سے سبزیاں سیراب ہورہی ہیں ان تمام علاقوں میں مجسٹریٹس کو موقع پرجا کرسبزیاں تلف کرنے اور آئندہ کیلئے ایسا کرنے کا تدارک کرنے کی ذمہ داری فوری تفویض کی جائے اور اس کی جامع ومفصل رپورٹ طلب کر کے رپورٹ کو عام کیا جائے۔
بھاری وسائل لینے والے غیر مؤثر ادارے
ٹڈی دل سے نمٹنے میں حکومت کا تساہل وغفلت، بروقت سپرے کا عدم انتظام، سپرے کرنے والے جہازوں کی خرابی اور طیاروں کیلئے صرف ایک پائلٹ کا ہونا، ٹڈی دل کی یلغار اور آئندہ سال ان کی نسل کشی کی روک تھام کیلئے لاروے کا خاتمہ جیسے اقدامات میں تاخیر سنگین صورتحال کا باعث ہے، ساتھ ہی ساتھ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کا قدرتی آفات سے نمٹنے کا مؤثر اور بروقت مدد یقینی بنانے پر توجہ کی بجائے محض تنبیہ جاری کرنے والے ادارے بن کر رہ جانا، نقصانات میں اضافہ اور لوگوں کی جانی ومالی نقصانات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ موسم گرما میں چترال اور بعض دیگر علاقوں میں گلیشیرز کے پھٹنے سے سیلاب کے امکانات پر غیرسرکاری اداروں کی طرف سے کسی نہ کسی طور کام ہورہا ہے لیکن قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے قائم وفاقی اور صوبائی اداروں کی جانب سے اس حوالے سے خاطرخواہ تیاری نظر نہیں آتی۔ وقت آنے پر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو1122 یا پھر رضاکار اور غیرسرکاری فلاحی تنظیمیں ہی عوام کی خدمت میں جت جاتی ہیں۔ کورونا وباء سے نمٹنے اور اس ضمن میں ضروری طبی سازوسامان میں سامنے آنے والی خرابی کی ذمہ داری کسی محکمے کی طرف سے نہ اُٹھانا اور خریداری کرنے والوں کا کمپنیوں سے بروقت معاہدہ کرنے میں ناکامی ایسے امور نہیں جسے نظرانداز کیا جاسکے۔ سرکاری خزانے سے کروڑوں اربوں کے بجٹ اور بھاری غیر ملکی امداد واعانت کے باوجود اگر ناکامی وبدانتظامی اور غیر مؤثر کارکردگی ہی سے واسطہ پڑنا ہے تو ان اداروں کے قیام پر ہی نظرثانی ہونی چاہئے۔