پیٹرول’ سستا ہو تو بم، مہنگا ہو تو ایٹم بم

پیٹرول مافیا کیخلاف سخت اقدامات کرنے کے وزیراعظم کے حکم کی تعمیل کے منتظر عوام کو پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ستائس سے چھیاسٹھ فیصد اضافہ کی صورت میں جس آفت ناگہانی کا اچانک اور بے وقت سامنا ہواہے یہ غیرمتوقع اور حیران کن ہے۔ معمول کے مطابق اوگرا کی سفارشات اور سمری کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد وبدل کیا جاتا ہے، علاوہ ازیں مہینے کی آخری اور پہلی تاریخ میں ایسا ہونے کی روایت رہی ہے، یہاں چار روز قبل ہی قیمتوں میں ریکارڈ ساز اضافہ کیا گیا۔ اس اچانک کے حکومتی اقدام میں مافیا اور حکومت کی جنگ میں جیت کس کی ہوئی اس سے قطع نظر حکومت ملک کے کئی حصوں میں پیٹرول کے سنگین بحران حکومت اور صنعت کے درمیان قیمتوں کے تنازعے کے بحث بڑھتے بحران کو دور کرنے کیلئے اُٹھایاجس سے اب پیٹرول پمپوں پر پیٹرول وڈیزل تو بآسانی دستیاب ہوگا لیکن عوام کو فی لیٹر جو ٹیکہ لگاہے وہ ہو شربا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کا سیدھا سیدھا فائدہ کروڑوں اور اربوں روپے کی صورت میں پیٹرولیم کمپنیاں اور پیٹرول پمپ مالکان کو ہوچکا ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ قبل ازیں جب پیٹرول سستا ہوا تو عدم دستیابی اور قلت کے باعث عوام مہنگے داموں ہی پیٹرول خریدتے رہے۔ عدالت کے سخت نوٹس پراور انتظامیہ کے چھاپوں کے باعث چند ہی روز پیٹرول ملنا شروع ہوگیا بعض علاقوں میں تو اب تک ناپید ہی رہا، اس دوران سستے پیٹرول کا ذخیرہ ہوتا رہا، پیٹرول سستا ہونے سے مہنگا ہونے تک کے دورانئے میں حکومت مافیا کو لگام دینے میں ناکام رہی۔ حکومت نے پیٹرول سستا کیا تو غائب کردیا گیا اور سٹور کیا جاتا رہا، اب مہنگا ہوگیا تو پانچوں اُنگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں والا معاملہ ہے۔ دوسری جانب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں حکومت بھی پیچھے نہیں، حکومت پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر سینتالیس روپے فی لیٹر تک ٹیکس وصول کر رہی ہے، دونوں پر پیٹرولیم لیوی کی شرح تیس روپے فی لیٹر لی جارہی ہے، حکومت کی بدعنوان، قبضہ مافیا، رئیل سٹیٹ، آٹا، بجلی، ادویات، تعلیم، سوئی گیس، پیٹرول، ناجائز منافع خوروں اور اس جیسے دیگر مافیاز کو لگام دینے کی ناکامی کا سارا بوجھ عوام کو اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ ابھی بجٹ منظور نہیں ہوا اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں20،25دن کی نمائشی کمی کے بعد ایک مرتبہ پھر ایک ماہ قبل کی قیمتوں کی بحالی واضافہ کی صورت میں مہنگائی کی تازہ لہر کا سامنا ہونے کا خطرہ ہے، اس ساری صورتحال کا نیب نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ حکومت اعلانات اور تحقیقات ورپورٹ مرتب کرنے اور کمیشن کی تشکیل سے ایک قدم آگے بڑھ کر کریک ڈائون وگرفتاریاں کیوں نہیں کرتی اور مافیا کو لگام کیوں نہیں دیتی، اب یہ سوال سیاست وجماعتی وابستگی سے ہٹ کر ہر پاکستانی شہری کے ذہن وزبان پرہے۔پیٹرول کی قیمت میں پچیس روپے اٹھاون پیسے کے اضافے سے پیٹرول تو دستیاب ہوگا مگر عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی اور ان میں اسے خریدنے کی سکت باقی نہیں رہے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی بہت بڑی وجہ حکومت کا منافع میں حصہ، ٹیکس اور لیوی کا نفاذ ہے۔ پیٹرول کی فروخت بند ہونے سے حکومت کی آمدنی میں کمی آئی تھی جبکہ پیٹرول کی سمگلنگ بڑھ گئی تھی جسے شاید حکومت سہار نہیں پائی اور وقت سے پہلے ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ حکومت اگر اپنے حصے کی رقم کی شرح میں کمی کرے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے لیکن اس کی توقع نہیں۔ ملک میں اور کارٹلز کی ملی بھگت میں آئے روز جس طرح بحران پر بحران سامنے آرہے ہیں روز حکومت ان کیخلاف کارروائی کرنے میں ناکامی کا شکار ہورہی ہے۔ یہ ملک میں احتجاج اور تبدیلی کو مسترد کرنے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں، حکومت کو اس پر فوی توجہ دینے اور معاملات کو اپنے کنٹرول میں لینے کی ہنگامی بنیادوں پر سعی کرنی چاہئے اور عوام کو مافیاز کی چنگل سے نکالنے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ بحرانوں کی شدت سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت اپنی موجودہ پالیسیوں اور تنہا ہوتے ہوئے اس کی متحمل نہیں ہوسکتی، اسے بالآخر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ حکومت جتنا جلد اس نتیجے پر پہنچے اور تاویلات کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر سامنے آنے والی حقیقتوں کا سامنا کرے اتناہی بہتر ہوگا، بعد از خرابی بسیار ہی سہی اب بھی حکومت کے پاس وقت اور اختیار ہے ممکن ہے بعد میں یہ بھی پاس نہ رہے اور ملک و عوام خدانخواستہ مزید بحرانوں کا شکار ہوں۔ گندم اور ادویات کے بحرانوں کی بھی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں، حکومت اس پر بروقت توجہ دے اور خوراک وادویات جیسی اہم ترین ضروریات زندگی کے بحران سے قوم کو بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کو پیشگی وبروقت یقینی بنائے۔