رسی جل گئی پر بل نہ گیا

اس وقت جبکہ صوبہ بھر میں پولیس کی زیادتیوں کیخلاف احتجاج جاری ہے، اس کے پھیلنے کی واحد وجہ صرف تہکال کا واقعہ نہیں بلکہ حال ہی میں شانگلہ میں حوالات کے اندر ایک شخص کو مبینہ طور پر قتل کیا گیا۔ علاوہ ازیں بھی ماضی میں اس طرح کے واقعات سے کوئی بھی ضلع مبرا نہیں، یہاں تک کہ چترال جیسے علاقے میں پولیس کے بدترین تشدد کا بڑا واقعہ بھی ریکارڈ پر ہے۔ اس طرح کے ماحول میں جب معاشرے میں پولیس کیخلاف نفرت کے چھپے اور واضح جذبات کا عالم ہو، بجائے اس کے کہ پولیس حکام کے رویئے میں تبدیلی آئے اور وہ قانون کے احترام کی مثال بن جائیں خیبرپختونخوا کی صوبائی دارالحکومت کی اصلاح شدہ پولیس کے رویہ کا یہ عالم ہے کہ صوبائی اسمبلی میں طلبی وجوابدہی کے عمل کو سنجیدہ لینے کیلئے تیار نہیں۔ پولیس حکام اگر منتخب ایوان ہی کو خاطر میں نہ لائیں اور اس کے تقدس کا خیال نہ رکھیں تو پھر ان سے مزید توقعات ہی عبث ہیں۔ اس صورتحال میں پولیس کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ماتحتی میں دینے کی سیاسی تجویز ہی ایک راستہ نظر آتا ہے۔ پولیس کو سیاسی مداخلت اور حکومتی مداخلت سے پاک کرنے کا دعویٰ محض دعویٰ ہی ہے، پولیس حکام اب بھی حکومتی عہدیداروں کے اشارہ ابروہی کی طرف دیکھتی ہیں، ساتھ ہی خود مختاری کا بھی ان کو نشہ چڑھا ہے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی صورتحال سے بہتر ہوگا کہ اس موضوع پر ایک مرتبہ پھر اسمبلی میں بحث کی جائے او رمنتخب اراکین اجماع کیساتھ کوئی فیصلہ کر کے پولیس کو لگام دینے کی راہ نکالیں۔ اسمبلی کی توہین پر پولیس کے اعلیٰ حکام پر برہمی قہردرویش برجان درویش کے زمرے میں آتا ہے۔ اس توہین پر پولیس کے سینئر ترین حکام میں سے کسی کا تبادلہ کیا جائے اور ایوان خود کو بالادست اور پولیس کا ایوان کو جواب دہ ہونے کا عملی مظاہرہ کرے۔ ایوان کے وقار کا تحفظ سپیکر وقائد ایوان دونوں کی ذمہ داری ہے جنہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور ایوان کی توہین پر مصلحت کی ردا اوڑھنے کی بجائے راست اقدام کرلینا چاہئے۔
ٹمبر مافیا کے خلاف مزید سخت اقدامات کی ضرورت
کمشنر ملاکنڈ کا کمراٹ میں جنگلات کی کٹائی پر موقع پر جا کر چھ افراد کی گرفتاری اور چترال میں درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کرنا ٹمبر مافیا کیخلاف ایک سنجیدہ قدم ضرور ہے لیکن ٹمبر مافیا لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کے مصداق مزید سخت کارروائی اور اس تجارت سے وابستگان اور ان کے سرپرستوں ،بیوروکریسی میں ان کے حامیوں اور سہولت کاروں سمیت پورے نیٹ ورک کیخلاف ٹھوس اقدامات کا متقاضی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں جنگلات کی کٹائی اور ونڈ فال کے نام پر سالم درختوں کی جنگلات کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے کٹائی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹمبر کے گوداموں میں جا کر لکڑی کی پرمٹ وقانونی طور پر خریداری کے ثبوت دیکھنے کی ضرورت ہے، حکومت اگر عمارتی لکڑی کی سمگلنگ اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی روک تھام میں سنجیدہ ہے تو اسے حکومتی صفوں میں بھی تلاش کر کے ان عناصر کو لگام دینا ہوگا اور بیوروکریسی میں ملی بھگت والے افسروں کا تبادلہ کرنا ہوگا۔
بقیتہ ا لسلف کی رخصتی
اسلاف اور نئی نسل کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے طارق عزیز، مفتی نعیم، علامہ طالب جوہری کے بعد اب جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کے دنیائے فانی سے کوچ، کردار وعمل شخصیات کی رخصتی کا وہ عمل ہے جس کے بعد دنیا کے اچھے اور باعمل لوگوں سے خالی ہونے کا محاورہ صادق لگنے لگا ہے۔ سید منور حسن کی وفات سے جماعت اسلامی ہی ایک باکردار شخصیت سے محروم نہیں ہوئی بلکہ ایک ایسے بلا تخصیص حق گو سے معاشرہ بھی محروم ہوگیا ہے جو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ رب کریم ان اہم شخصیات کی بشری غلطیوں سے درگزر عطا فرمائے اور قوم کو ان کا نعم البدل جلد عطا کرے۔آمین۔