مشرقیات

ایران پر چڑھائی کیلئے جب مسلمانوں کا لشکر گیا تو راستے میں دریا آگیا۔ حضرت سعد جو لشکر کے امیر تھے، نے لشکر سے فرمایا کہ جس خدا کے بندے ہو، اس کے قبضہ قدرت میں یہ دریا ہے۔ اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دو چنانچہ سب صحابہ کرام نے اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے اور تیرتے ہوئے دریا کو عبور کر گئے۔ ایک صحابی کا پیالہ دریا میں گر پڑا۔ دوسروں نے کہا کہ اس کو پکڑ لو۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر پیالہ میرا ہوا تو نہیں ڈوبے گا۔ (خدا اس کی حفاظت فرمادیں گے) چنانچہ دریا کی موجوں نے پیالے کو دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا تھا۔ جب وہ صحابی وہاں پہنچے تو پیالہ وہاں پڑا ہوا تھا۔ یہ تمام چیزیں قلب کی قوت سے ہوتی ہیں اور قلب کی قوت توحید سے پیدا ہوتی ہے۔ شرک سے دل میں تذبذب آجاتا ہے۔ ان کے ہاں نہ شرک کا واہمہ تھا نہ بدعت کا شبہ۔
حضرت خالد بن ولید آٹھ سو صحابہ کرام کو لے کر ماہان ارمنی عیسائی کے مقابلے میں تشریف لے گئے۔ ماہان ارمنی حضرت خالد سے کہنے لگا: میں نے سمجھا تھا کہ مسلمان عقل مند ہیں، لیکن تم تو سادھے ہو کہ اتنے آدمیوں کو لے کر ہزاروں کے لشکر کے مقابلے کیلئے آگئے۔ مجھے تمہارے نوجوانوں پر رحم آتا ہے۔حضرت خالد نے فرمایا: اے ماہان! تو کمانڈر انچیف بن کے آیا ہے یا واعظ بن کر آیا ہے؟ تو اگر لڑنا نہیں چاہتا تو صاف کیوں نہیں کہہ دیتا کہ میں لڑائی نہیں کر سکتا۔ ماہان کو غصہ آیا تو فوجوں کو لڑنے کا حکم دے دیا۔حضرت خالد نے بھی صحابہ کو کفار کے لشکر میں گھس جانے کا حکم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ سات گھنٹے تک لڑائی ہوئی، آخر کفار شکست کھا کر بھاگ گئے۔ مسلمان صرف سات شہید ہوئے اور عیسائیوں کے تیرہ ہزار آدمی مارے گئے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ آدمی جب دین کیلئے لڑتا ہے تو خدا تعالیٰ مدد فرماتے ہیں اور ہمت تو صرف توحید سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ مشرک میں یہ جان نہیں کہ وہ اتنی قوت پیدا کر سکے۔ حاصل یہ کہ ایک طرف اخلاص کامل اور دوسری طرف اتباع کامل کی ضرورت ہے، آج مسلمانوں میں شرک وبدعات داخل ہورہی ہیں، اسلئے آج پستی کی بھی یہ حالت ہے کہ خدا کی پناہ۔
(وعظ اخلاص فی الدین جلددوم)