آئینہ جھوٹ نہیں بولتا

ان دنوں یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ اپنی قومی زبان میں دوسری زبان کے الفاظ زبردستی گھسیڑ دئیے جائیں جیسا کہ انگریزی اور اُردو کیساتھ ہو رہا ہے، اُردو تو ایسا لگتا ہے کہ سب کی بھابی ہے اور انگریزی اشرافیہ پاکستان کی مائی جائی ہے۔ تلفظ اور الفاظ کے غیرضروری استعمال نے ایک ایسا ملغوبہ بنا دیا ہے کہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اُردو بھی سیاست کا شکار ہو گئی ہے، جس طرح سیاست اور نظامت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے ویسا ہی ہر شعبہ زندگی میں ہو رہا ہے، ظاہر ہے کہ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو تعمیر بھی وہ ہی معیار لے گی، ملک کے بہت بڑے پڑھے لکھے ٹی وی اینکر نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں فرمایا کہ جس کا کام اُسی کو سانجھے، ان کے کہنے کا مدعا یہ تھا کہ نظامت حکومت چلانا پی ٹی آئی کے بس کی بات نہیں ہے، جو انہوں نے کہا اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے لیکن اس کیساتھ یہ بات بھی ہے کہ زبان دانی بھی ایک فن ہے کیونکہ جو انہوں نے بولا وہ درست نہیں تھا، اصل محاورہ کچھ یوں ہے کہ جس کا کام اُسی کو ساجے اس کیساتھ دوسرا جملہ جڑا ہوا ہے کہ اور کرے تو ٹھینگا باجے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگوں کے دلوں پر ریڈیو کا راج تھا، تب عوام کو زبان وبیان کی شفافیت کی مٹھاس حاصل ہو جایا کرتی تھی، ٹی وی نے اُردو کے بدن سے کپڑے کھینچ کر اس کی دھجیاں بکھیر رکھی ہیں جس طرح پاکستان کے سیاسی نظام میں چلا آرہا ہے، وفاقی بجٹ کیا منظور ہوا کہ چھوٹا بڑا ٹائیگر سبھی بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں، گویا انہوں نے اس کو فتح کرلیا جس کا اب نام صرف لوریاںگا کر لیا جاتا ہے۔
وفاقی بجٹ کے بارے میں بنسری شہنائی کی سُر میں اس طرح بجائی جارہی ہے کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے، زبان دانی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ٹیکس فری بجٹ تو وہ ہو جو کلی طور پر ٹیکس سے عاری ہو، جب آپ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگاتے اور جو عائد کر رکھے ہیں ان میں کئی گنا اضافہ گھسیڑ دیتے ہیں تو وہ کیسے ٹیکس فری ہوگیا، عوام کو اعداد کے ہیرپھیر سے چغد بنانے کی بدعت تو نہ کی جائے، عوام کافی ہوشیار ہو چکے ہیں، ان کو2013 اور 2018 انتخابات نے ایسا شعور بخشا ہے کہ وہ ہر زیر وزبر سے آشنا ہو چکے ہیں، تبصرے میں آرہا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، اس میں وسائل کا استعمال اور نئے وسائل کو پیدا کرنے کا ذکر کہیں موجود ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی نے رواں مالی سال کیلئے جو شروع ہی ہوا ہے، میزانیہ میں سات ہزار دوسو اڑتالیس ارب روپے مختص کئے جبکہ ختم ہونے والے مالی سال کا تخمینہ سات ہزار دوسو ساٹھ ارب لگایا گیا تھا گویا موجودہ تخمینہ سابقہ مالی سال کے مقابلے میں بارہ ارب روپے کم رہا، اگر نو فیصد افراط زر کا بھی شامل کر لیا جائے تو بجٹ کا حجم مزید کم پڑ جائے گا، جس وقت وفاقی بجٹ پیش کیا گیا تب شرح نمود اعشاریہ چار فیصد تھی اب رواں مالی سال کیلئے دو اعشاریہ ایک فیصد مقرر کر دی گئی ہے جبکہ کشکول بھرنے والوں نے بتا دیا ہے کہ پاکستان کے رواں مالی سال میں بمشکل شرح نمود ایک فیصد کی رفتار سے ترقی پذیر رہے گی، اب شیخ حفیظ فرمائیں کہ چھ ماہ پاکستان کی معیشت کس کروٹ ہوگی اور عوام گھبرائیں یا نہیں اس پر بھی روشنی ڈال دیں، انہیں تو پیپلز پارٹی کے دور کا بھی تجربہ ہے انہوں نے اپنے اس زمانے میں آئی ایم ایف کی جھولی پاکستان کے قرضوں کے عوض کس طرح بھری تھی، اب بھی یہی کچھ کیا جا رہا ہے، پاکستان تو بس ایک تجربہ گاہ ہی رہا۔ وزیراعظم کیا کرے انہوں نے دوائی بحران کا نوٹس لیا تو دوائیاں مزید مہنگی ہوگئیں، اسی طرح چینی، آٹا، ڈالر، کرپشن، قانون وانصاف، پیٹرول الغرض جس بحران کا نوٹس لیا وہ اپنا رنگ ہی جما گیا۔ اب فضائی حادثہ بحران کا سامنا ہے، جب ناخدا ہی فیصلہ کر لے کہ کشتی ڈبونی ہے تو کشتی سوار اور پیراک کیا کر سکتا ہے، پی آئی اے کسی زمانے میں دنیا کی سب سے بہترین ہوائی سروس ہوتی تھی جب دوبئی نے اپنا ہوائی مستقر قائم کیا تو اس نے پی آئی اے سے ہی درخواست کی کہ اس کے اسٹاف کو ہوائی نظم وضوابط کی تربیت فراہم کرے،یہ پاکستان کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ امارات ایئرلائن آج اس مقام پر ہے لیکن اپناگریبان خود ہی چاک کرنا تھا چنانچہ سول ایوی ایشن کے وزیر باتدبیر نے ایسا بیان دیدیا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی جو سبکی ہوئی سو ہوئی، قومی ایئرلائن کو بھی ناقابل بھروسا بنا ڈالا، حتیٰ کہ دنیا بھر میں پاکستانی پائلٹوں کا بھروسا بھی خاک کر دیا۔ ملائیشیا نے بھی پاکستانی پائلٹوں کو جہاز سے اُتار دیا، اب وزیر شہری ہوابازی سے پوچھا جائے کہ جناب آپ جعلی لائسنس کا ڈھنڈورچی بننے کے شوق میں یہ بھول گئے کہ ان پائلٹوں کو لائسنس کون دیتا ہے، محکمہ شہری ہوابازی پر کس ادارے کے افراد کا سایہ برسوں سے منڈلا رہا ہے، کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ ہر چھ ماہ بعد پائلٹ کو اپنا لائسنس تجدید کرانا پڑتی ہے، وہ کون ہیں جو تصدیق کر دیتے ہیں، چلو ماضی میں چوروں کی حکومت تھی مگر گزشتہ دوسالوں سے دودھ کے نہائے بیٹھیں ہیں، اس عرصہ میں چار مرتبہ نہیں تو تین مرتبہ پائلٹ لائسنسوں کی تجدید تو ہوئی ہوگی۔ ان دوسالوں میں کون کون شہری ہوائی بازی کا قلمدان وزارت سنبھالے رہا اور کونسے محکمے کے سابق ملازمین یہاں چھائے رہے یہ تو ضرور پتہ ہوگا قوم کو بھی آگاہ کر دیں۔