ایک دلخراش تصویر کا بھونچال

کشمیر کے شہر سوپور سے منظرعام پر آنے والی ایک تصویر ہزارہا لفظوں سے بھاری اور دردناک ہے۔ اس تصویر کی اپنی ہی زبان ہے اور اس کے اندر ہی عنوان ہے۔ یہ بشیر احمد خان نامی اپنے پنسٹھ سالہ نانا کی خون آلود لاش پر بیٹھے بے یار ومددگار تین سالہ بچے کی تصویر ہے۔ بچہ اس احساس سے عاری ہے کہ اس کیساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ وہ اپنی توتلی زبان میں اپنا مافی الضمیر بھی پوری طرح بیان کرنے کے قابل نہیں۔ ایک کنٹریکٹر سری نگر میں اپنے ننھے نواسے کو ساتھ لئے گھر سے پچاس کلومیٹر دور سوپور کی طرف چل پڑا۔ سفر اختتام کو پہنچ ہی رہا تھا کہ سوپور کی ایک مسجد پر بھارتی فوجی دھاوا بول رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ مسجد میں کچھ مسلح حریت پسند پناہ لئے ہوئے ہیں۔ شدید فائرنگ کے باعث اس کی تصدیق کرنا مقامی آبادی کیلئے ممکن نہیں تھا۔ اس دوران پنسٹھ سالہ بزرگ کی خون آلود لاش سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ملی اور تین سالہ بچہ روتا بلکتا تھا اور فوج اور پولیس اہلکار اس کا دل بہلانے کیلئے کبھی ٹافیوں اور چاکلیٹس کا جھانسہ دے رہے تھے تو کبھی کھلونوں کا بہلاوہ۔ بچے نے اس واقعے کی گواہی یوں دی کہ ''بڑے ابو کو پولیس نے گاڑی روکنے کا کہا پھر ٹھک ٹھک ٹھک گولیاں ماریں''۔ یہ ایک چشم دید صاف وشفاف دل کی بے ساختہ گواہی ہے۔ بھارتی فوج کا اصرار ہے کہ یہ شخص کراس فائرنگ کی زد میں آکر مارا گیا۔ مقتول کے گھر والوں کا اصرار ہے کہ انہیں پولیس نے گاڑی سے اُتار کر مارا اور پھر ایک تصویر بنانے کی خاطر بچے کو لاش کے اوپر بٹھا دیا جس انداز سے یہ تصویر دنیا میں وائرل ہو رہی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ یہ تصویر خاصی منصوبہ بندی اور صحافتی حس کے تحت بنائی گئی۔ اس تصویر میں کلک اور مقبول ہوجانے کا پوٹینشل موجود ہے اور یہ تصویر بنانے والے کے ذوق وشوق کو ظاہر کر رہی ہے۔ صرف تصویر ہی نہیں جائے واردات کے ویڈیو کلپس بھی منظرعام پر آئے ہیں اور بچہ پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر روتے ہوئے اپنا نام بتا رہا ہے یہ بھی ویڈیو کلپس میں موجود ہے۔ اس سے صاف لگتا ہے کہ تصویریں اور ویڈیوز فوج اور پولیس کے لوگوں نے بنوائی ہیں۔ اس تصویر کا مقصد کاروباری بھی ہو سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی فوجی یا ایجنسی کے اہلکار نے تصویر کسی بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو فروخت کرنے کیلئے یہ سارا خونیں ڈرامہ رچایا ہو۔ یہ بھی بعید نہیں کہ یہ تصویر حریت پسندوں کیخلاف مقامی اور بین الاقوامی رائے بنانے کیلئے بنائی اور ریلیز کی گئی ہو جس کا مقصد کشمیر کی مقامی آبادی کو یہ باور کرانا ہے کہ حریت پسند ان کے قاتل اور فوجی ان کے مسیحا ہیں۔ حریت پسند انہیں قتل کرتے ہیں اور فوجی ان کے بچوں کو بچا کر محفوظ مقام پر پہنچاتے ہیں۔ بھارت اس وقت کشمیر میں جس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے وہاں اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کچھ عجب نہیں۔ تصویر اور پسِ تصویر کے ڈرامے کی تحقیقات کون کرے گا؟ ایسے میں جبکہ حالات وہی قاتل وہی منصف کی تصویر بنا رہے ہوں۔ یہ عالمی نظام کی تصویر ہے جو بہت تیزی سے زوال کی طرف لڑھک رہا ہے۔ یہ تصویر انسانیت کی تصویر ہے جو اب دامنِ تارتار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ انصاف اور عدل کے تصورات کی تصویر ہے جو کشمیر اور فلسطین جیسے علاقوں میں عملی طور پر کسی خون آلود لاشے کی طرح سرِبازارکھلے پڑے ہیں اور وہ مضروب سوسائٹی ناتواں اور مظلوم بچے کی طرح بے بسی کی تصویر بن کر اس لاشے پر بیٹھی حالات کا ماتم کر رہی ہے۔ کشمیر میں یہ تصویریں ایک ردعمل کو پیدا کررہی ہیں اور یہ ردعمل پی ایچ ڈی سکالرز کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کر رہا ہے۔ آگے چل کر عالمی نظام سے مایوسی اور مظالم کا یہ ردعمل کیا رنگ اور رخ اپنائے گا اس کا کچھ اندازہ نہیں۔ بھارت نے اس خونین ڈرامے کی فلم بندی جن مقاصد کیلئے کی تھی وہ ننھے عدنان کی توتلی زبان اور ٹھک ٹھک ٹھک کی آوازوں نے ناکام بنا دیا۔ بشیر احمد خان کی بیوی فاروقہ بیگم وویمن پولیس سٹیشن کی ریٹائرڈ انچارج ہیں۔ حالت کرب میں ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کے خاوند کو سی آر پی ایف نے قتل کیا۔ بشیر احمد خان کی اس دلدوز تصویر پر اقوام متحدہ کے لبوں کے تالے اس حد کھل گئے کہ سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس کے ترجمان سٹیفن ڈرجیرک کو ایک بیان جاری کرکے بھارتی حکومت کو اس واقعے کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور اس کیساتھ یہ بات بھی کہنا پڑی کہ بھارت لوگوں کو احتجاج اور مظاہروں کا حق دے۔ سیکرٹری جنرل کے نمائندے نے اس کیلئے ''رائٹ ٹو ڈیمانسٹریٹ'' یعنی مظاہروں کے حق کی اصطلاح استعمال کی۔ یہ کشمیر میں حق اجتماع آزادی اظہار پر لگی بدترین قدغنوں پر اظہار ناپسندیدگی ہے۔ یہی نہیں گوگل نے اعلان کیا کہ واقعے کے چوبیس گھنٹے بعد بھی یہ تصویر گوگل سرچ میں سرِفہرست رہی۔ دنیا کے کونے کونے سے لوگ اس تصویر کی حقیقت جاننے کیلئے گوگل کا سہارا لیتے رہے۔ گوگل کے مطابق گزشتہ ماہ چین بھارت کشیدگی کا موضوع گوگل کے صارفین کی سب سے زیادہ تلاش کا محور تھا، سوپور واقعے کے بعد یہ موضوع پہلے نمبر پر آیا اور کورونا دوسرے جبکہ چین بھارت کشیدگی تیسرے نمبر پر چلی گئی۔ یوں جن مقاصد کیلئے یہ فوٹو سیشن ہوا تھا نتائج اس کے قطعی برعکس نکلے اور اب بھارت کو کئی سوالوں اور تبصروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔