بد عنوانی اور چوری روکئے

مدت ہوئی کہ ڈاک سے کوئی خط نہیں ملا اس لئے آج کل محکمہ ڈاک کے متعارف کردہ لفافوں پر درج تحریریں پڑھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔لفافہ ویسے ہمارے صحافتی دنیا میں خاصی بدنام چیز ہے کسی زمانے میں لفافہ دینے اور لینے کا رواج رہا ہوگا بدلتے زمانے نے ڈاک کے ذریعے ملنے والے خط کے لفافے کو متروک چیز بنادیا کم از کم بڑے شہروں کی حد تک تو ایسا ہی ہے باقی ملک بھر میں ڈاکخانہ جات کا محکمہ ہی عوام کو خطوط ،دستاویزات اور ہر قسم کا دیگر مواد پارسل اور منی آرڈر وغیرہ پہنچانے اور ارسال کرنے کی خدمات سرانجام دیتا ہے سرکاری ڈاک بھی ڈاکخانوں کے ذریعے ملنے کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوابہرحال خطوط لکھنے اور خطوط نگاری متروک ہونے سے لفافہ بھی متروک ہوتا جارہا ہے تغیر وتبدل کے اس دور میں ہر چیز بدل گئی ہے اس کے باوجود اہل صحافت کو اگر کسی نے کوسنا ہوتو آج بھی لفافہ کہہ کر چڑایا جاتا ہے حالانکہ دنیا آگے جا چکی ہے اب پلاٹ اور بڑے بڑے مراعات وتحفے تحائف کا دور ہے اب بھی اگر کوئی لفافہ ہی لیتا ہے تو پھر اس کی قدروقیمت اور صحافت پر شک کرنے کی کافی گنجائش ہے کالی بھیڑیں اور اچھے برے ہر پیشے میں موجود ہوتے ہیں اہل صحافت کو بھی انکار نہیں یہ تو بس تفنن طبع کیلئے لفافے کا ذکر چھیڑ دیا ورنہ میرا ارادہ لفافے پر کالم لکھنے کا ہر گز نہیں بلکہ کالم کا محرک سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کا لفافے کی پشت پر چھپا اشتہار ہے یہ مختلف جملے لکھے گئے ہیں۔گیس چور بچ نہیں پائیں گے جیل جائیں گے۔گھریلو صارفین کو 6ماہ قید ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔کمرشل صارفین کو 10سال تک قید50لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ذمہ دار پاکستانی بنیں گیس چوری کی اطلاع 042-99201832اور 042-99202432پر(صبح9سے شام 7بجے تک)دیں۔ساتھ ہی ایک موٹا توندی پولیس اہلکار انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے ایف آئی آر لکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایس این جی پی ایل اور پولیس یہ فریضہ سرانجام دیں گیس اور بجلی چوری عوامی سطح پر اگر معمول ہے تو صنعتی طور پر اور سی این جی سٹیشنز پر تو گیس کی چوری کوئی راز کی بات نہیں سی این جی سٹیشنز پر اولاً کوئی جانے کی زحمت نہیں کرتا کیونکہ جہاں ملی بھگت ہو وہاں ضرورت نہیں پڑتی ملی بھگت کی بھی مختلف سطح ہوتی ہے ایک مجسٹریٹ نے سی این جی سٹیشن پر چھاپہ مارا تو عملے نے حملہ کردیا سوئی گیس کا عملہ چوری پکڑے جانے پر پہلے ہی بوکھلا ہٹ کا شکار تھا اوپر سے حملہ ہوگیا تو بھاگ گئے بڑی مونچھوں والا قد آور مجسٹریٹ جی دار آدمی تھا فوراً پستول نکالا اور حملہ آوروں پر تان لیا اور پولیس کو کال کی یوں سی این جی سٹیشن کو بڑے قطر کی پایپ لائن بچھا کر ہونے والی چوری روکی۔ یہ کہانی نہیں حقیقت ہے اور مشتے نمونہ از خروارے ہے اس طرح کی کہانیاں اور واقعات اس لئے پیش نہیں آتے کہ مجسٹریٹ جی دار نہیں ہوتا اور نہ ہی سوئی گیس کا عملہ اپنے''گاہکوں'' کو یوں ہراسان کرتا ہے ایک ملی بھگت ہے اور چلتی رہتی ہے۔صرف ایس این جی پی ایل ہی نہیں بجلی کا محکمہ بھی ایسا ہی ہے یہ دوادارے زیادہ بدنام اس لئے ہیں کہ ان کا واسطہ عوام سے براہ راست پڑتا ہے وگرنہ پولیس سے لیکر پٹواری تک اور ہر سرکاری دفتر میں چوری اور ملی بھگت کوئی راز کی بات نہیں مختلف کاموں کے ریٹ باقاعدہ طے ہیں رقم دیں اور کام کروائیں۔ میںیہاں کسی ایک دور حکومت کا تذکرہ نہیں کروں گی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے ہر دور حکومت میں گنگا میں کھلے عام اشناں کرتے پائے جاتے ہیں بدعنوانی روکنا کوئی آسان کام نہیں راشی اور بدعنوان کو جہاں بٹھائو بدعنوانی کی راہیں تلاش کرہی لے گا ایک بادشاہ کو ایک شاہی اہلکار کی پٹواری کے جیسے رشوت لینے کی شکایات میں جب اضافہ ہوا تو انہوں نے سمندر کے کنارے لہریں گننے پر لگا دیا اور سوچا کہ اب لوگوں کی فریادیں کم ہوں گی ۔بدعنوان شخص سمندر کنارے لہریں گنتے گنتے سوچتا رہا کہ رشوت کی کیاراہ نکالے اچانک سمندری جہاز اور سامان سے لدی کشتیاں آگئیں تو شاہی اہلکار نے ان کو فوراً روک کر شاہی فرمان سنادیا کہ ان کی ڈیوٹی لہریں گن کر بادشاہ کو رپورٹ دینے کی لگی ہے سمندری جہاز اور کشتیاں گزرنے سے لہریں متاثر ہوں گی اس لئے اندھیرا چھانے تک لنگر انداز ہو جائیں بحری جہاز اور کشتیاں رک گئیں انتظار کے لمحات طویل تھیں سفر جاری رکھنا مجبوری اور ضروری تھی سو شاہی اہلکار کی مٹھی گرم کر کے آگے بڑھنا پڑا۔ہمارے ملک میں جو بھی محکمہ ہو ہر جگہ اسی قسم کے راشی شاہی اہلکار ملتے ہیں تو چوری کی روک تھام بھلا کیسے ہوگی۔کہنے کو انسداد رشوت ستانی ،آڈٹ نیب اور تحقیقاتی ادارے موجود ہیں مگر جہاں خوف خدا نہ ہو وہاں انسانوں کا انتظام انسان نہیں کرسکتے اس قوم کیلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔