چین اور پاکستان کا گھیرائو یا لولی پاپ؟

سرد جنگ کے دوران ہی امریکیوں نے کمونزم کے بعد مغرب کو درپیش چیلنجز کا تعین کر دیا تھا۔ خطرات اور اہداف کی نشاندہی میں کنفیوشس اور مسلم تہذیب اس فہرست میں بہت اوپر تھیں۔ انہی اہداف میں چین کا گھیرائو اوراسے ایک عالمی تہذیب اورطاقت بننے سے روکنا اولیں ترجیح تھی۔ان کی بدقسمتی یہ تھی کہ پاکستان کے بغیر چین کا گھیرائو مکمل نہیں ہوسکتا تھا اور پاکستان چین کے ساتھ ہمالیہ سے بلند ،شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری دوستی کے رشتے میں بندھ چکا تھا ۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستان نے ابتدا میں ہی یہ اندازہ کرلیا تھا کہ تاریخ میں گہری جڑیں رکھنے والے مسائل کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ اس کی دوستی ریچھ کی دوستی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ بھارت نظریاتی طور پر پاکستان کا مخالف ہے ۔وہ اسے ایک زخم دل کے طور پر تازہ رکھنا چاہتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو واجپائی کو مینار پاکستان آکر پاکستان کو تسلیم کرنے کی اداکاری نہ کرنا پڑتی۔اگر یہ اداکاری نہیں بھی تھی تب بھی بھارتیہ جنتا پارٹی میں واجپائی ،ایڈوانی اور جسونت سنگھ سمیت جس بھی قدآور سیاست دان نے پاکستان اور بانیان پاکستان کے بارے میں تحریر وتقریر کی صورت میں نرم گوشے کا اظہار کیا اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست میں نشان عبرت بنا دیا گیا ۔یہاں تک کہ سیاست کے عجائب خانے میں پڑے پڑے یہ سیاست دان شمشان گھاٹ پہنچتے چلے گئے ۔ امریکہ کی بھرپور معاونت اور پشت پناہی سے نوے اور دوہزار کی دہائیوں میںواجپائی اور من موہن دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کی جو مشق کی گئی اس کا محور دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب مسائل کا حل نہیں بلکہ تنازعات کی مینجمنٹ تھی اور اس کا حتمی مقصد پاکستان کو چین سے کاٹ کر بھارت کے ساتھ جوڑنا تھا تاکہ چین کے گھیرائو کا مقصد نہایت آسانی سے حاصل کیا جا سکے ۔ ان کوششوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچنے کے جو دعوے پہلے میاں نوازشریف اور بعد ازاں جنرل پرویز مشرف کرتے رہے ان کی ساری حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں رکھ کر پاکستان کو کشمیر سے الگ کرنا اور اسے سیاحتی حقوق دے کر بالکل اسی طرح مسئلے سے لاتعلق کیا جانا تھا کہ جس طرح مصر کو فلسطینیوں سے کاٹ کر محصور کر دیا گیا تھا ۔مصر کے فلسطین سے لاتعلق ہونے کا جو عمل برسوں پہلے شروع ہوا تھا وہ اب متحدہ عرب امارات اور سوڈان سے سعودی عرب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ۔پاکستان کی طرح جنوب مشرق ایشیائی ملکوں میں جاری کشمکش اور تحریکوں کے پیچھے بھی یہی عالمی سیاست ، ضرورت اور تقاضے صاف جھلک رہے ہیں۔ اب جبکہ بھارت اس وقت چین کے ہاتھوں مجبور اور عاجز ہو چکا ہے امریکہ نے چین کے ساتھ بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگریمنٹ کے نام سے دفاعی معاہدے کی ایک اور قسط عالمی سکرین پر ٹیلی کاسٹ کر ادی ۔اس کے لئے امریکی سیکرٹر دفاع مائیک پومپیو اور سیکرٹری دفاع مارک ایسپر دو جمع دو مذاکرات کے لئے بہ نفس نفیس بھارت پہنچے جہاں انہوںنے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے مذاکرات کر کے ملٹری ٹیکنالوجی ،س یٹلائٹ ڈیٹا اور دیگر معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کیا ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ نہیں بلکہ اس نوعیت کا پہلا معاہدہ 2002میں ہوا تھا جسے جنرل سیکورٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ کا نام دیا گیا تھا۔2016میں اس راہ پر ایک اور پیش قدمی کرتے ہوئے دونوں ملکوں میں لاجسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ کے نام سے ایک اور معاہدہ ہوا تھا ۔2018میں اس کمونیکیشن کمپیٹی بیلٹی اینڈ سیکورٹی ایگریمنٹ کے نام سے دفاعی تعاون کا ایک اور معاہدہ ہوا۔حالیہ معاہدہ بھارت کو چین کے خلاف عملی حمایت کا لولی پاپ تھما کر امریکہ میں برپا صدارتی معرکے میں فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ صدارتی انتخاب کا معرکہ شروع ہونے میں دوہفتے باقی ہیں اور ڈولتی ہوئی امریکی حکومت بھارت سے چینی خطرے کا ہوا کھڑا کرکے معاہدے کر رہی ہے۔یہ بھارتی ووٹروں کا دل لبھانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے مگر یہ شراکت داری کے طویل سفر کا اہم پڑائوبھی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی معرکہ افغانستان سے انخلاء اورچین کے فوجی اور اقتصادی گھیرائو کے نام پر جیتنا چاہتا ہے ۔اسی لئے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدات کے اس کھیل کی چوتھی قسط میں روئے سخن چین کی جانب رہا ۔مائیک پومپیو نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ کمونسٹ پارٹی آف چائنہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی دوست نہیں۔امریکہ علاقائی سا لمیت ،خودمختاری اورآزادی کے تحفظ میںبھارت کی پوری مدد کرے گا ۔امریکہ نے بھارت کو چین کے مقابل کھڑا کرنے کی جو سکیم تیار کی ہے اس میں بھارت خود سپردگی کے انداز میں امریکہ کے آگے بچھا جا رہا ہے ۔یہ صورت حال خود بھارت میں کئی سوالیہ نشانات کی زد میں ہے اور دی ہندو اخبار کی رپورٹ میں بھارت کے دفاعی تجزیہ نگاروں نے دفاعی تعاون اور تزویراتی شراکت داری کے اس سفر میں محتاط قدم اُٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔چین بھارت تصادم کی صورت میں امریکہ بھارت کی کس حد تک عملی مددکو آئے گا ؟یہ بھارتی تجزیہ نگاروں کے لئے بھی ایک سوال ہے۔وہ پورے شرح صدر کے ساتھ اس جواب کو اثبات میں نہیں دینے سے قاصر ہیں۔