جھوٹ ،خوشامد اور منافقت کا بول بالا

مختصر انگریزی کہانیاں پڑھنا میرے پسندیدہ مشغلوںمیں سے ایک ہے ۔۔یہ کہانیاں اگر چہ مختصر ہی سہی مگر اپنے اندر دانش اور تجربات کا نچوڑ سموئے ہوتی ہیں ۔
ایک کمپنی کے منیجر نے ایک دن اپنے ایک ملاز م سے پوچھا کہ 2+2=5 ہوتے ہیں؟
ملازم نے کہا ''جناب کیوں نہیں،بالکل پانچ ہوتے ہیں اگر آپ چاہیں تو''
منیجر نے دوسرے ملازم سے پوچھا۔ کیا 2+2=5 ہوتے ہیں؟''
ملازم نے کہا ''سر بالکل ہوسکتے ہیں، اگر ان میں 1 جمع کردیاجائے''
منیجر نے تیسرے ملازم سے پوچھاکیا 2+2=5 ہوتے ہیں ؟''
ملازم نے کہا:''نہیںجناب 2+2=5 کبھی نہیںہوسکتے''
دوسرے دن دفتر میں تیسرا ملازم موجو دنہیں تھاپوچھنے پر پتہ چلا کہ اسے ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے، اسسٹنٹ منیجر کو یہ سن کر بڑا افسوس ہوا ،منیجر کے کمرے میں گیا اور پوچھاکہ آپ نے اس ملازم کو کیوں نکال دیا ؟منیجر نے کہا! پہلے والا ملازم جھوٹا ہے اور اسے پتہ بھی ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ایسے لوگوںکی آج کل سخت ضرورت ہے۔ دوسرے والا ملازم عقلمند ہے اور اسے خود بھی پتہ ہے کہ وہ عقل مند اور چاپلوس ہے۔ ایسے لوگ آج کل ہر جگہ پسند کئے جاتے ہیں جبکہ تیسرے والا ملازم سچاتھااور اسے خود بھی اس بات کا پتہ تھا کہ وہ سچا ہے۔ایسے لوگوں کیساتھ گزارا کرنا بہت مشکل کام ہوتاہے۔ منیجر نے پینترا بدلتے ہوئے اسسٹنٹ منیجر سے پوچھا۔اب تم سب کے بارے میں میری رائے جان چکے ہو،اب تم مجھے بتاؤ کہ 2+2=5 ہوتے ہیں؟
اسسٹنٹ منیجر نے کہا : جناب آپ کی باتیں سن سن کر میں تو اب خود تذبذب اور مخمصے میں ہو ں اور مجھے پتہ ہی نہیں چل رہا کہ آپ کو کیا جواب دوں؟
منیجر نے کہا : تم چوتھی قسم کے لوگوں میں سے ہو جو منافق ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی خوب پسند کئے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تم اس نوکری پر موجود ہو۔
منیجر نے چار اہم باتیں کی ہیں 'اگر ان کو دہرا کر ہم اپنے معاشرے پر منطبق کریں تو پتہ چلے گا کہ یہ کہانی اس پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔
1) پہلے والا ملازم جھوٹا ہے اور اسے پتہ بھی ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، ایسے لوگوںکی آج کل سخت ضرورت ہے۔
یہاں بھی جھوٹ بولنے والوں کو ہی آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ جھوٹ یہاں ہر دور میں روپ بدل بدل کر اپنے جوہر دکھاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جھوٹ کا بول بالا ہے اور اچھائی میں برائی ہے۔ جھوٹ بارآور ہے اور سچ بے ثمر۔ جھوٹ کے اس چو طرفہ ہجوم میں اگر آپ اپنے آپ کو بچاسکے تو یہ بہت غنیمت ہے۔
2) دوسرے والا ملازم عقلمند ہے اور اسے خود بھی پتہ ہے کہ وہ عقل مند اور چاپلوس ہے، ایسے لوگ آج کل ہر جگہ پسند کئے جاتے ہیں۔ فن خوشامد کا ماہر یہاں ہر دور میں سرخرو رہا ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بے ضمیری کا مظاہرہ کرنے والوں کو ترقی کے زینے طے کرتے دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں۔ یہاں چاپلوسوں، کاسہ لیسوں اور خوشامدیوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے، سچے اور مخلص لوگوں سے ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ اس لئے یہاں چاپلوسوں کا ہر دن روزعید اور ہر شب شب برأت ہے۔
3) تیسرے والا ملازم سچا تھا اور اسے خود بھی اس بات کا پتہ تھا کہ وہ سچا ہے، ایسے لوگوں کیساتھ گزارا کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ یہاں بھی سچ بولنا اور سچ سننے کی ہمت رکھنا ایک مشکل ترین کام ہے۔ وہ اس لئے کہ لوگ عموماً اس سے مشتعل ہوجاتے ہیں۔ سچ کیساتھ بڑی اذیتیں ہیں ہجوم میں احساس تنہائی کی اذیتیں اور اذیتوں میں تنہائی کا احساس۔ اگر کوئی سچ بولنے کی ہمت کر بھی لے تو لوگ اس سچ کی برتیں کھولنے اور ننگا کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی سچے لوگ بناوٹ سے بہت دور ہوتے ہیں، اس لئے بعض اوقات بہت تلخ محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سچ کی آواز بلند کرنے والوں کو یہاں آج تک پسند نہیں کیا گیا۔
4) تم چوتھی قسم کے لوگوں میں سے ہو جو منافق ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی خوب پسند کئے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تم اس نوکری پر موجود ہو۔
یہاں بھی ہر فرد کو اپنا اصلی چہرہ چھپانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ تمام تربیت یہی ہے کہ نقاب اوڑھ لو۔
ایسے نقاب جو لوگوں کو پسند آئیں، ایسے نقاب جن کی لوگ تعریف وستائش کریں۔ اس لئے جدھر بھی نظر دوڑائیں منافقت کا دور دورہ ہے اور منافقت اختیار کئے بغیر آگے بڑھنا ایک امر محال ہے۔