گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی کامیابی

غیرسرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نو سیٹیں جیت چکی ہے جبکہ سات سیٹوں پر آزاد امیدواروںکی جیت تقریباً یقینی ہے ۔خیال رہے کہ قانون ساز اسمبلی کی24میں سے23 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ ایک نشست پر پولنگ تحریک انصاف کے امیدوار کے انتقال کے باعث ملتوی کردی گئی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے جوانسال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ(ن)کی شعلہ بیان سینئر نائب صدرمریم نواز کی تمام ترکوششوں اور بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کے باوجود پیپلزپارٹی چار اور مسلم لیگ ن دو نشستوں تک محدود رہی جبکہ ایک نشست ایم ڈبلیو ایم کے حصے میں آئی ہے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے سابق وزرائے اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان اور سید مہدی شاہ بھی شکست کھا گئے۔ انتخابات کے لیے300سے زائد امیدوار میدان میں تھے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سب سے زیادہ24حلقوں سے، پاکستان تحریک انصاف کے21حلقوں سے، پاکستان مسلم لیگ ن کے18حلقوں سے، پاکستان مسلم لیگ ق کے 16 اور جمعیت علمائے اسلام کے13حلقوں سے امیدوار شامل تھے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن)کو گلگت بلتستان میں صرف دو نشستیں ملنے کی ایک وفاقی وزیر کی طرف سے پیشگوئی کی گئی تھی اسی طرح پیپلزپارٹی کے بھی چار پانچ امیدواروں کی کامیابی کا اندازہ لگایا جارہا تھا جو اپنی جگہ درست ثابت ہوا۔ہارنے والی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کا الزام لگانا اور انتخابات میں مداخلت کا الزام معمول ہے اور رٹا رٹایا ہے گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کے حوالے سے اس طرح کے الزامات کا اعادہ اچھنبے کی بات ہرگز نہیں اور نہ ہی غیر متوقع ہے۔ہمیں یکسر حزب اختلاف کی جماعتوں کا انتخابات کے نتائج کو یکسر مسترد کرنے کے موقف کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی حق نہیں یہ ان کا موقف ہے لیکن سیاسی دنیا کا اب یہ معمول ہے کہ سیا سی میدان میں کامیاب نہ ہوں تو مخالفین پر الزام لگادیا جائے اور اگر عدالت میں فیصلہ حق میں نہ آیا تو عدالت کومطعون کیا جائے گلگت بلتستان کے انتخابات اگر شفاف نہیں ہوئے ہیں تو پھر ان کو مسترد کرنے کے عوامل کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لایا جانا چاہیئے اور انتخابی دھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن کو پیش کر کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا جانا چاہیئے علاوہ ازیں کے الزامات محض الزامات ہی قرار پائیں گے جہاں تک تحریک انصاف کی کامیابی کا سوال ہے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے انتخابات کا ریکارڈ یہ رہا ہے کہ حکمران جماعت ہی کو وہاں کامیابی ملتی ہے اور حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے اس لحاظ سے تحریک انصاف کی کامیابی نہ تو غیر متوقع ہے اور نہ ہی روایت شکن امر ہے۔تحریک انصاف آزاد امیدواروں سے مل کر بآسانی حکومت بنائے گی اور ان کو مخالف سیاسی جماعتیں ایوان میں ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں نہیں پی پی پی اور مسلم لیگ(ن)سے ہٹ کر دیگر سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں کوئی نمائندگی ہی نہ مل سکی۔حکومت سازی سے قبل اور دوران انتخابات تحریک انصاف کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدے اس وقت تو انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے بہرحال تھے اور اس کا الیکشن کمیشن کونوٹس بھی لینا چاہیئے تھا بہرحال بعد ازانتخابات اب وہ دعوے اگر پورے ہوں تو پی ٹی آئی سرخرو ہوگی وگرنہ سبز باغ دکھانے کے مترادف اقدامات سے عوام کو کوئی پہلی بارواسطہ نہیں پڑے گا۔تحریک انصاف کو اپنی کامیابی کو مستحکم کرنے اور گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل ومشکلات کے حل کیلئے ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنانا ہوگا جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کر سکے اور اپنی اہلیت کو ثابت کر سکے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی طرح کا کوئی انتخاب حکومت اور عوام دونوں کو مشکلات میں ڈالنے کا سبب بنے گا جس سے گریز کیا جائے تو حکومت اور گلگت بلتستان کے عوام دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔