ہمارے بچے، ہمارا مستقبل

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے ایک اجلاس میں بچوں میں خوراک کی کمی اورنشونما میں حائل دیگررکاوٹوں کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے حوالے سے ٣٢٠ ارب روپے کے خطیررقم سے ایک پراجیکٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پانچ سال پر محیط اس پراجیکٹ کیلئے پچاس فی صد فنڈز وفاقی حکومت فراہم کریگی جبکہ باقی ماندہ پچاس فی صد صوبے اپنے وسائل سے پورے کریں گے۔ اس پراجیکٹ کا ہدف ملک کی تیس فی صد آبادی میں سے ١٥ ملین وہ حاملہ خواتین ہیں جو بچے کو جنم دیتے وقت آئرن کی کمی کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل کا شکار ہوتی ہیں جبکہ انتالیس لاکھ وہ بچے جن کی عمریں ٢ سال سے کم ہیں۔ حکومت کی طرف سے بچوں کی صحت کے حوالے سے یہ پراجیکٹ یقینا ایک خوش آئندہ اقدام ہے جس کا ذکر وزیراعظم وقتاً فوقتاً اپنے نشری تقاریر اور اعلانات میں کرتے ر ہے ہیں۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ قوموں کا مستقبل انکے صحت مند بچوں سے وابستہ ہوتا ہے کیونکہ آجکا صحت مند بچہ کل کے صحت مند مستقبل کا پتہ دیتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں اس حقیقت کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا۔ ہمارے اکثر قارئین کیلئے یہ بات باعث حیرت ہوگی کہ مملکت خداداد میں بسنے والے بائیس کروڑ عوام کی صحت پر جی ڈی پی کا صرف صفر عشاریہ سات فی صد بجٹ خرچا جاتاہے۔ حالانکہ صحت کے بین الاقوامی ادارے یا ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق یہ حصہ چار سے پانچ فی صد ہونا چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں بچوں کی اموات کی شرح ٧٦ فی صد تک جا پہنچی ہے جبکہ مائوں کی اموات کی شرح اس سے دو فی صدزیادہ ہے۔ ماہرین طب کے مطابق پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی اور حفاظتی ٹیکوں اورمتوازن غذا کی عدم دستیابی بچوں میں اموات کی شرح میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔بد قسمتی سے پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں سے ابھی تک پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اور ہر سال نئے کیسز سامنے آجاتے ہیں۔نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق ملک میں چالیس فی صد بچے متوازن غذاکی عدم فراہمی کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جبکہ ٤٩ فی صد خواتین آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسی خواتین کے بطن سے جنم لینے والے بچے لا محالہ طور پر مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق ایسے بچے وزن کے اعتبار سے کم اور مختلف قسم کی ذہنی بیماریوں کا شکار بنتے ہیں۔ صوبہ سندھ کے ضلع تھر میں غذائی قلت کا شکار سینکڑوں بچے ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ متوازن غذا کی کمی اور حفاظتی ٹیکوں کی عدم فراہمی اور دستیابی کے ساتھ ساتھ غربت اور جہالت بھی اپنا کام کر دکھاتی ہے۔ مملکت خداداد میں چالیس فی صد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزاررہے ہیں جنکی روزانہ کی آمدنی دو ڈالر سے کم ہے۔ آغا خان فائونڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک مریض پراسکے خاندان والوں کے اوسطائ٨٧٥ روپے اخراجات اٹھتے ہیں۔ اس کے ساتھ اگر ٹرانسپورٹیشن، میڈیکل انوسٹی گیشن اوراٹینڈینٹ وغیرہ کے کھانے پینے اور ہوٹل میںٹھہر نے کے اخراجات کا تخمینہ بھی لگایا جائے تو یہ کسی بھی طرح ایک غریب مزدور کے بس کی بات نہیں۔ایسے حالات میں اس غریب مزدور کے لواحقین یا تو روحانی علاج کی تلاش میں پیروں ، عاملوں ، نجومیوں اور مزارات کا رخ کرتے ہیں یا دوسری صورت میں عطائی ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ بچوں کے حوالے سے یہ دردناک کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی وہ اسی دردناک کہانی کا عنوان بنتے ہیں۔ اس وقت مملکت خدادا دمیں ٢٥ ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جن سے یا تو جبری مشقت لی جاتی ہے یا سڑکوں پر بھیک مانگتے دیکھے جاسکتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز ان بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے واقعات اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ گزشتہ روز پشاور میںنامعلوم افراد نے ایک چار سالہ بچے کو اغوا کرنے کے بعد تیز دھار آلے سے اسکا پیٹ چیر کر گردے نکال دئے ۔ بچوں کے اغوا، جنسی تشدد اورقتل کے واقعات ہمارے معاشرے میں معمول کا حصہ بن گئے ہیں۔اور ہمارے معاشرے کی بے حسی کی انتہا ہے کہ ہم ایسے اندوہناک واقعات پر چپ سادھ لئے بیٹھے ہیں۔ یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کرہ ارض پران چند ممالک میں سے ایک ہے جو بد قسمتی سے بچوں کے رہنے کیلئے منا سب جگہ نہیں ہے۔ہمارے بچے ہمارا مستقبل اور قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔ کیونکہ یہ ہمارے کل کے حکمران اور سرحدات کے محافظ ہیں۔ان بچوں کا محفوظ مستقبل قوم کا تابناک مستقبل ہے۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے پراجیکٹس کوعملی طور پر نافذ کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ ہمارا کل محفوظ اور صحت مند ہو اور ترقی کی راہوں میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سنگ اپنے سفر کودوام دے سکے۔