پاکستان میں عرب سپرنگ کا خواب

عرب سپرنگ مانگے تانگے کی تبدیلیوں اور جمہوریت کی شب گزیدہ سحر کا دوسرا نام ہو کر رہ گئی ہے۔ اس سپرنگ کیساتھ عالم عرب میں جو سلوک ہوا اس کے بعد سے کوئی دوبارہ ایسی کسی صبح کے طلوع ہونے کی خواہش سے مدتوں تک تائب رہے گا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت پاکستان میں عرب سپرنگ کا خواب دیکھ رہی ہے، یہ خواب اس لحاظ سے تو پاکستان کے زمینی حقائق سے لگاؤ کھاتا ہی نہیں کہ پاکستان میں پاکستان سپرنگ تو برپا ہو سکتی ہے مگر پاکستان میں عرب سپرنگ کیسے برپا ہو سکتی ہے؟ میاں نوازشریف کی برطرفی کے بعد اور جی ٹی روڈ کے سفر میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے سب سے زیادہ جس پہلو پر توجہ دی وہ اس کا سوشل میڈیا ونگ تھا۔ ہزاروں فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز کا قیام اور پھر ان کے ذریعے فوجی قیادت کی تباہ کن کردارکشی کا سلسلہ، میاںنوازشریف اب نام لے کر فوجی قیادت کو للکار رہے ہیں مگر ان کا سوشل میڈیا ونگ تین سال سے اسی بیانئے کو آگے بڑھاتا چلا آرہا ہے جو لوگ اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کیلئے نوازشریف کا آج کا لہجہ قطعی غیر متوقع نہیں۔ مسلم لیگ ن سوشل میڈیا پوسٹوں میں تین سال سے اسی مؤقف کو آگے بڑھاتی رہی ہے اور یہ بات متوقع تھی کہ اگلے مرحلے پر اس سخت گیر مؤقف کیساتھ مسلم لیگ ن ازخود سامنے آسکتی ہے۔ محمد زبیر کی ناکام ملاقات کے بعد یہ خدشہ درست ثابت ہوا، پاکستان میں عوام کو منظم کرکے ریاستی اداروں کے مقابل کھڑا کیا جائے یہاں تک کہ فوج دفاعی پوزیشن میں چلی جائے۔ اس زعم کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ پنجاب کے وسطی علاقے اور جی ٹی روڈ کی مقبول جماعت ہے۔ ن لیگ کی قیادت اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ پہلی بار پنجاب اینٹی اسٹیبلشمنٹ مزاج کیساتھ سامنے آیا ہے حالانکہ ایسا نہیں، ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی پنجاب میں مقبول جماعت تھی یہ مزاج کے اعتبار سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھی، بھٹو کی پھانسی کے بعد اس کا غصہ اشتعال کی حدوں تک پہنچ گیا۔ پنجاب سے بہت سے لوگ الذوالفقار میں شامل ہو کر اسٹیبشلمنٹ کو سبق سکھانے کے راستے پر چل پڑے، کئی ایک جہازوں کے اغوا میں شامل رہے۔ پنجاب کا بائیں بازو کا دانشور پیپلزپارٹی کا حامی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہا۔ اس طرح مجموعی طور پر پنجاب میں اچھا خاصا اینٹی اسٹیبلشمنٹ مزاج موجود رہا۔ مسلم لیگ ن نے پنجاب سے پیپلزپارٹی کا صفایا کیا۔ پیپلزپارٹی کا ووٹر پی ٹی آئی کی طرف لڑھک گیا مگر پارٹی کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ دانشور طبقہ ن لیگ کو مسیحا جان کر اس جانب چلا گیا اور یہی طبقہ اب اسٹیبلشمنٹ سے ماضی کے قرض چکانے کیلئے نوازشریف کا کندھا استعمال کر رہا ہے۔ اسی طبقے نے نوازشریف کو اقتدار کے دنوں میں باور کرایا کہ پانچ چھ ٹی وی چینل اگر ان کا ساتھ دیں تو ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا تیاپانچہ کر سکتے ہیں۔ چار چینلوں کا ساتھ بھی یہ معجزہ نہ دکھا سکا۔ ضیاء الحق کے گیارہ سالہ پیپلزپارٹی کو پنجاب سے اکھاڑتے ہوئے گزر گئے اور اس خوف میں گزرے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک مقبول لہر بن کر لوٹ نہ آئے۔ یہ پیپلزپارٹی سے نہیں اس کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے سے خوف کھایا جا رہا تھا۔ اس تند مزاجی کے باوجود پیپلزپارٹی پنجاب میں کوئی انقلاب برپا نہ کر سکی جو بینظیر بھٹو لاہور ایئرپورٹ پر اس دعوے کیساتھ اُتری تھیں کہ وہ چاہتیں تو ہجوم کا رخ گورنر ہاؤس کی طرف موڑ کر قبضہ کراتیں، نعرہ لگانا، جلسے جلوس میں شریک ہونا، موجودہ دور میں فیس بک فین بننا اور لائک اور شیئر کرنا اپنی جگہ مگر میدان عمل میں لاٹھیاں کھانا اور جیلوں کی سختیاں جھیلنا ایک الگ دنیا کی بات ہوتی ہے۔ اس کیلئے معاشرے پر کوئی بہت بڑی اُفتاد پڑنا لازمی ہوتا ہے جب لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کی عملی تصویر بنتے ہیں۔ نوازشریف کی وطن واپسی کے موقع پر شہباز شریف گول گول گھومتے رہے مگر ان کا کارواں ایئر پورٹ نہ پہنچ سکا۔ بعد میں عرب سپرنگ کا معجزہ دکھانے کا کام مولانا فضل الرحمان کے سپرد کیا گیا مگر یہ معجزہ دکھانا مولانا کے بس میں بھی نہیں تھا، لانگ مارچ میں ان کے لہجے کی گھن گرج تو کسی انقلابی راہنما کی تھی مگر ایک سہ پہر ان کے کارکن رختِ سفر باندھ کر گھروں کو چل دئیے۔ اب مریم نواز خود میدان میں اُتری ہیں، ان کے گھرانے نے پنجاب پر حکمرانی تو کی ہے مگر وہ پنجاب کی نفسیات سے ناآشنا ہیں۔ پنجاب فیس بک کے قصے کہانیوں میں تو ن لیگ کا ساتھ دے سکتا ہے مگر جب فوج اور ن لیگ آمنے سامنے آئے گی تو پنجاب ن لیگ کیساتھ کھڑا نہیں ہوگا، یہ تلخ زمینی حقیقت ہے۔ اب مریم نواز خود کو عوام سمجھ کر فوج کو دھمکا رہی ہیں کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان نہ آئے اور حکومت کی پشت پناہی ترک کرے۔ ن لیگ اور فوج کی اس کشمکش کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کو ہو رہا ہے جس پیپلزپارٹی کو شریف خاندان نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا، آج اپنے طرز سیاست سے وہ اسی پیپلزپارٹی کو پنجاب میں پاؤں رکھنے کی جگہ فراہم کر رہے ہیں اور یہ جگہ عمران خان کے حلقہ اثر سے نہیں خود ن لیگ کے حلقہ اثر میں بن رہی ہے، اس لئے مریم نواز اب فوج کیساتھ بات چیت پر آمادگی بھی ظاہر کر رہی ہیں۔