خبر گرم تھی

بقول مولانا فضل الرحمن جنگ کا آغاز ہوچکا اور اب اس جنگ سے قدم پیچھے ہٹانا ممکن ہی نہیں۔ ان کی بات سن کر ہمارے جذبے بھی یکدم جوان ہوگئے تھے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کچھ ایسی نہج پر ہیں، کشمیر میں اس قدر ظلم ہورہا ہے کہ ذہن کسی اور جانب گیا ہی نہیں۔ ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد مدارس میں یوں بھی مولانا فضل الرحمن مجاہد ہی تیار کر رہے ہیں۔ سومیرے جیسے لوگ بھی جو بچپن سے بھارت کے عزائم کیخلاف نفرت کا جرعہ جرعہ پی کر اس عمر کو پہنچے ہیں سب ہی یکدم تیار ہوگئے تھے۔ امریکہ میںنئے صدر کی آمد ہے،ہر ملک ہی اپنے اپنے مؤقف کے اظہار پر آمادہ ہے تاکہ تعلقات کی سمت کا تعین ابتداء سے ہی ہو جائے لیکن پھر اس جوش پر منوں برف پڑ گئی جب معلوم ہوا کہ حسب معمول مولانا کی جنگ ملک کے اندر ہی ہے اور اپنے اقتدار کی ہی جانب متوجہ ہے۔ یہ ہمارے ملک میں اکثر قوتوں کا مزاج ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی کہ وہ اپنی جنگ اور اس جنگ کے نتیجے میں فتوحات کا سلسلہ ملک کے اندر ہی جاری رکھتے ہیںان کی ہر ایک حکمت عملی درون خانہ فتوحات تک محدود ہوا کرتی ہے۔سو مولانا فضل الرحمن کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں سے باہر گھومتے اور اچھے وقت کا انتظار کرتے انہیں ایک عرصہ ہوگیا،اپوزیشن میں ایک عمومی اتحاد کی فضا بھی دکھائی دے رہی ہے ایسے میں اس مشترکہ اپوزیشن کے ان کے بارے میں کیسے بھی جذبات ہوںاور وہ کسی طرح بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے ہوں مولانا اس وقت اس صورتحال میں گرمی پیدا کرنا چاہتے ہیں شاید اسی لئے رجز پڑھنے کی ذمہ داری انہوں نے اپنے سرلے لی ہے۔ پاکستان سے ان کی محبت کے حوالے سے کسی کو شک نہیں ہاں کبھی کبھار اس محبت کا کچھ فائدہ اُٹھا لینے میں انہیں کوئی برائی نظر نہیں آتی، شاید اسی لئے ماضی میں لوگ انہیں کئی حوالوں سے پکارتے رہے، بہرحال اب مولانا فضل الرحمن موجودہ حکومت کیخلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ کا آغاز ہوچکا اب اس سے منہ موڑنا، کسی صورت بھی ممکن نہیں۔ وہ اچھی بات کر رہے ہیں، سچ پوچھئے تو موجودہ حکومت سے اس ملک کی اکثر یت ہی نالاں ہو چکی ہے۔ ان کی نو آموزی اس بری طرح ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوگی اس کا اندازہ کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ سو وہ جو انہیں ووٹ دیئے بیٹھے ہیں وہ بھی دانتوں میں اُنگلیاں دابے بیٹھے ہیں اور وہ جنہوں نے انہیں ووٹ نہ دیئے تھے وہ صبح شام انہیں کوستے ہیں جو ووٹ دینے کے خطاوار ہیں ایسے میں مولانا فضل الرحمن کے اعلان جنگ پر کسی کو ایسا اعتراض نہیں ہاں اعتراض ہے خود مولانا اور اپوزیشن میں موجود کئی نامور لوگوں کی گزشتہ کارکردگی پر۔ اس حکومت پر مسلسل آوازے کسے جائیں۔ان کا مذاق اُڑایا جائے ان پر پھبتی کسی جائے،کون برامانے گا لیکن سوال ایک ہی ہے۔اپوزیشن کی تحریک کے حوالے سے لوگوں کا عالم یہ ہے کہ
خبر گرم تھی کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
جلسوں میں لوگوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے، اپوزیشن کے آزمائے ہوئے رہنمائوں کی باتوں پر کسی کو اعتبار نہیں لیکن اب کوئی اُمید کوئی چارہ گر کہیں بھی نہیں سولوگ اپنی مایوسی کا سدباب کرنے کو رونق میلہ دیکھنے جایا کرتے ہیں۔اس حکومت کی نو آموزی اب بری طرح کھلنے لگی ہے کیونکہ مہنگائی ہر ایک کے پیروں تلے چبھنے لگی ہے، مولانا فضل الرحمن کا اعلان جنگ بھی سر آنکھوں پر سوال بس اتنا ہی ہے کہ آخر اگر یہ متحدہ اپوزیشن کا گروہ اتنا ہی باکمال تھا تو یہ کمال وہ اس وقت کیوں نہ دکھا سکے جب وہ خود اقتدار میں رہے۔ اب سب اکٹھے ہوگئے ہیں لیکن عالم یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کیخلاف تحریک چلانے کی بات کی تھی تو میاں شہباز شریف نے اپنے ہی بھائی کو متنبہ کردیا تھا کہ مولانا اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تحریک کبھی بھی لے اُڑیں گے۔ اس حکومت کیخلاف تو سب اکٹھے ہیں عوام بھی بیزار ہیں کیونکہ انہیں اب تک حکومت کرنی نہیں آئی۔ بیوروکریسی کے کرپٹ ترین افراد ان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں اور ان کی ایمانداری کے ڈنکے پر ایسی زور دار چوٹ پڑتی ہے کہ خود ان کے اپنے کان، اردگرد ہوتی سرگوشیاں نہیں سنتے۔ لیکن سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ان لوگوں کے علاوہ اس ملک کے دامن میں کیا بچ پایا ہے،یہ قوم اب کس کو آزمائے گی، کس پر اعتبار کرے گی، مریم نواز پر یا بلاول بھٹو پر۔ یہ قوم خود بھی بد عنوانوں کی قوم ہے ہم خود ہی بگڑ چکے ہیں۔سست بھی ہیں اور راتوں رات امیر بننے کے شائق بھی لیکن احمق نہیں۔ اعلان جنگ ہو یا کچھ اور ہر صورت میں پامالی ہماری ہی ہے، ہم جانتے ہیں ہاں تماشا دیکھنے کے شوقین ہیں سو تماشا دیکھنے جاتے ضرور ہیں۔