کورونا، مہنگائی اور سیاسی اجتماعات

جدوجہد سے عبارت زندگی میں اُتار چڑھاؤ بہت دیکھے، سفر درسفر اور مسائل ومشکلات سب دیکھتے بھالتے سفرحیات کے اس موڑ پر آپہنچے ہیں، ساڑھے چار دہائیوں سے کچھ اوپر وقت صحافت کے کوچہ میں قلم مزدوری کرتے ہوئے ہوگیا۔ ان ماہ وسال کی یادوں کا خزانہ کچھ کچھ ترتیب دے رہا ہوں، دوستوں کا اصرار ہے کہ آب بیتی لکھ ہی ڈالو، ''زندوں کی چیخ'' کے عنوان سے ایک ویب سائٹ پر 35 اقساط لکھیں بھی، پھر سلسلہ منقطع ہو گیا۔ کتابی صورت میںدینے کیلئے کچھ کام کیا پھر کورونا (پہلی لہر) نے دھر لیا، روزگار کے غم دوسروں کی طرح ہمارے ساتھ ہی تھے، مسائل نے دستک دی روزمرہ کی قلم مزدوری کے علاوہ لکھنے پڑھنے کا باقی کام متاثر ہوا، وقت بدلنا شروع ہوا تو کورونا کی دوسری لہر آپہنچی۔ دیکھتے ہیں اب کیا ہوگا، فی الوقت تو حکومت اور حزب اختلاف مورچہ بند ہیں، گولہ باری دوطرفہ ہے۔ گھمسان کارن ہے لوگ حیران ہیں ہوتے رہیں، حیرانی سے آگے کے چند سوالات بہرطور بجا اور بروقت بلکہ یوں کہیںکہ لوگوں کا حق ہے۔ لگ بھگ اڑھائی برس ہونے کو ہے تبدیلی سرکار کے اس عرصہ میں عام آدمی کے حالات دن بدن خراب ہوئے۔ ہمارے وزرائے کرام بادشاہ لوگ ہیں، آپ سوال کیجئے ملک میں مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھ کیوں رہی ہے؟ جواب ملے گا سابقہ چوروں نے لوٹ مار ہی اتنی کی کہ خزانہ خالی ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسی جان لیوا مہنگائی پچھلے 60 برسوں میں نہیں دیکھی۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ آلو140 روپے اور پیاز 110روپے کلو ملیں، سبزیوں کی قیمتوں کو آگ لگی ہے پچھلے دور میں ایک بار مہنگائی (تب آلو 60روپے اور پیاز74روپے کلو تھے) کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اُٹھایا گیا تو اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا دالیںاور سبزیاں مہنگی ہیں تو برائلر پکائیں، یار لوگوں نے پھبتی کسی پنجاب میں سب سے بڑا برائلر فروش حمزہ شہبازہے۔ ڈار صاحب نے مہنگائی میں بھی بھتیجے کے کاروبار کی بڑھوتری سوچی۔ اب کس سے کہیں مہنگائی ہے، کون کس کے کاروبار کو فائدہ پہنچارہا ہے، حکومت میں تو چینی فروش ہیں اور آٹا فروش کچھ اور صنعت کار بھی ہیں لیکن خیر ان کو چھوڑیں ہمارا کپتان سمارٹ بھی ہے اور ایماندار بھی۔ معاف کیجئے گا ہم مہنگائی کی بات کر رہے تھے میں پچھلے کچھ دنوں سے اپنے جنم شہر میں ہوں، اس بار خیرسگالی کے جذبہ کے تحت نہیں غم روزگار کی وجہ سے قیام پذیر ہوں، روزانہ درجنوں لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے، حال احوال گپ شپ زمانے بھر کی باتیں اور ساری باتیں گھوم پھر کر مہنگائی کی طرف آجاتی ہیں۔ کل کی ایک محفل میں موجود ایک صاحب کہنے لگے شاہ جی! ہم نے مان لیا پچھلے سارے حکمران چور تھے اور اب والے گنگا نہائے ہوئے لیکن ایک بات تو بتائیں چوروں کے دور میں اتنی مہنگائی کیوں نہ تھی؟ سادھوں کے دور میں تو دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے، پیٹ روٹی اور تن موسم کے مطابق کپڑے مانگتا ہے، بچوں کی ضروریات ہیں، گھرداری ہے کیا کریں کدھر جائیں؟ سچ یہ ہے کہ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔ ہم آگے بڑھتے ہیں کورونا کی دوسری لہر پھیل رہی ہے، پی ڈی ایم کا دعویٰ ہے کورونا کم اور پروپیگنڈہ زیادہ ہے۔ حکومت اپوزیشن کو رابطہ عوام مہم سے روکنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کورونا کا پھیلائو بڑھا تو لاک ڈائون کر دیں گے، ابتدا تعلیمی اداروں کی بندش اور امتحانات کے التواء سے کردی گئی۔ پی ڈی ایم کے ملتان جلسہ سے قبل مزید سخت فیصلے کر لئے جائیں گے۔ حکومت کے دعوئوں اور اپوزیشن کی جوابی غزل کے بیچوں بیچ صورتحال تشویشناک ہے، اموات اور مریضوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اموات اور مریضوں کے حوالے سے اعداد وشمار ہوائی دعوے نہیں سب سامنے کی باتیں ہیں۔ اصولی طور پر ہم سب کو احتیاط کرنا چاہئے، پچھلے ایک ماہ کے دوران 5عزیز ومحترم تعلق دار کورونا کی وجہ سے کھو چکا ہوں۔ دوتین دوست کورونا کا شکار ہیں ان سمیت تمام مریضوں کی صحت وسلامتی کیلئے دعاگو ہوں اور درخواست گزار بھی کہ خدا کیلئے احتیاط کیجئے، اپنے اور اپنے خاندان کیلئے۔ حرف آخر یہ ہے کہ وفاقی حکومت سنجیدگی کیساتھ غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے، لوگوں کے حالات دن بدن ابتر ہوتے جارہے ہیں، آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن سے پیداشدہ مشکلات کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا۔ خدانخواستہ اگر اب پھر لاک ڈائون کی طرف بڑھتے ہیں تو پچھلے دور کے تجربات کی روشنی میں حکمت عملی وضع کی جائے۔ تکرار کی معذرت سب سے زیادہ توجہ مہنگائی میں کمی لانے پر دی جانی چاہئے، وفاقی ادارہ شماریات کا اعشاریہ بابوئوں کی کلرکی کے سوا کچھ نہیں، بازار میں قیمت فروخت اس کے اعشاریہ سے یکسر مختلف ہے۔ حکومت اگر صرف مہنگائی پر سوفیصد نہ سہی پچاس فیصد بھی قابو پالے تو کچھ سکون کا سانس لے پائیں گے لوگ۔ ثانیاً یہ کہ کورونا کے حوالے سے حکومت اوراپوزیشن دونوں کو ٹھنڈے دل سے صورتحال کو سمجھنا ہوگا ایسا نہ ہو جب یہ سمجھنے کیلئے بیٹھیں اس وقت دیر ہوچکی ہو۔ ثالثاً یہ کہ نفرتوں کی سیاست کے زخم پہلے ہی بہت ہیں براہ کرم سیاسی اقدار کو فروغ دیجئے۔