مثبت قانون سازی

کچھ خبریں عجب ہوتی ہیں، ان کا اعلان معاشرے کے ہولناک پہلوئوں کا عکاس ہوتا ہے لیکن ان سے دل کو تسلی ہوتی ہے، ایک گونہ اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک اطلاع وفاقی کابینہ میں ایک قانون کی اصولی منظوری سے بھی ملی ہے۔یہ اطلاع کہتی کہ زیادتی کے مجرموں کیخلاف قوانین کو سخت تر کرنے کی اصولی منظوری دیدی گئی ہے یہ بات بڑی ہی گھنائونی ہے جس کے حوالے سے قوانین آج تک کبھی سخت تر کئے ہی نہ گئے تھے کیونکہ معاشرہ کبھی اس قدر بگاڑ کا شکار ہی نہ ہوا تھا۔ یہ نہیں کہ انسان کی فطرت میں کوئی تبدیلی ہے یا پہلے یہ جرم معاشرے میں موجود نہ تھا۔انسان کی فطرت میں درندگی تو ہمیشہ سے موجود رہی ہے اور کمزور پر ظلم ڈھانے کی جبلت بھی ہمیشہ منہ زور رہتی ہے۔ اس پر انسان کو قابو پانے کیلئے خود پر جبرکرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ پر قدغن لگانا پڑتی ہے، اسی لئے صدیوں کی معاشرتی تبدیلیوں میں قانون کی گرفت کا ایک نظام بھی طے پایا تاکہ سزا کا خوف انسان کے اندر کی وحشت کے منہ زور ہونے کو قابو میں رکھے۔ مگر جیسے جیسے معاشرے میں لاقانونیت بڑھتی ہے ویسے ویسے انسان کی درندگی خوف سے آزاد ہونے لگتی ہے۔ جب معاشرے میں احتساب کی طنابیں ڈھیلی پڑنے لگیں تو ذہن کو قابو میں رکھنے کی گرفت بے جان ہونے لگتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ہورہا ہے، ہم جو اس ملک میں رہتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے ملک سے، اپنے طور طریقوں سے، اپنی معاشرت کے ہر ایک پیچ وخم سے، اپنی ثقافت کی رنگی سے محبت کی ہے ہمارے لئے اس معاشرے کا یوں بگٹٹ ہو جانا ہی عجیب تھا کہ درندے اتنے آزاد ہوگئے، ہر شام ہماری بستیوں کے تاریک کونوں سے ایک بچہ اندھیرے میں گم ہو جاتا اور صبح اس کی ادھ کھائی، جھنجوڑی ہوئی لاش ملتی۔ مائیں خوف کے مارے سمٹنے لگیں کیونکہ اگر بچہ پھسل کر گود سے باہر جا گرتا توماں کو دوبارہ بچہ ملنے کی اُمید ہی باقی نہیں رہتی۔ اس معاشرے میں جہاں بچے سب کے سانجھے ہوا کرتے تھے۔ زینب، ایمان،جنت انگنت بچیاں اور بچے پھیلی ساکت پتلیوں کیساتھ موت کی دہلیز کے پار چلتے ہیں اور کسی درندے کو کوئی ڈر نہیں۔ ایسے میں وفاقی کابینہ کی یہ منظوری کہ ان درندوں کیخلاف سخت ترین قوانین بنائے جائینگے، سخت سے سخت سزائیں ہونگی، سزائے موت، عمرقید اور نامرد کرنیکی سزائیں دی جائینگی۔ دل کو کچھ تسلی تو ہوتی ہے لیکن ابھی بھی خوف میں کسی قسم کی کمی نہیں کیونکہ سزا کا خوف اس وقت
مجرم کے دل میں گھر کرتا ہے جب وہ اپنے ہی جیسے کسی مجرم کو وہ سزا وصول کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ انسان میں حیوانیت کو جاگنے سے روکنے کیلئے اسے سزا دکھانی پڑتی ہے کیونکہ اگر صرف سن کر لوگوں پر اثر ہوتا تو جہنم کے خوف سے ہی کسی نے جرم نہ کیا ہوتا، کبھی گناہ کی طرف نگاہ نہ کی ہوتی۔معاشرے میں مختلف قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں، ان کی طبیعتوں میں اثر قبول کرنے کی صلاحیت میں بھی فرق ہوتا ہے، ایک ہی بات مختلف دلوں پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہے، وفاقی کابینہ ان لوگوں کیخلاف قانون سازی کو جس طور بھی تبدیل کرنے، سخت ترین کرنے کی کوششیں کرے اس سب کے باوجود ہم میں سے اکثریت اس بات سے واقف ہے کہ یہ قوانین اب بھی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے آئین کا حصہ ہیں۔ اصل فرق تب پڑے گا جب یہ پھانسیاں چوراہوں میں ہونگی۔ میں جانتی ہوں کہ حکومت یہ پھانسیاں چوراہوں میں نہیں دے سکتی، کئی غیرملکی قوانین کی مجبوریاں ان کی راہ میں حائل ہیں لیکن ان پھانسیوں کو مشتہر تو کر سکتی ہے۔ خوف کی فضا کو مجرموں کیلئے جنم تو دے سکتی ہے، ان سزائوں کو مشتہر کرنے کیلئے اخبارات اور میڈیا استعمال تو کر سکتی ہے۔ پھانسی لگنے سے ایک ہفتے پہلے سے اخباروں میں بار بار شہ سرخیوں میں اس کا اعلان تو کیا جا سکتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا اس حوالے سے نہ صرف اعلان کرسکتا ہے بلکہ ٹاک شوز میں موضوع بنایا جا سکتا ہے۔ اس مجرم سے نفرت کا اظہار کیا جا سکتا ہے، سزائوں کی سختی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار اس طور کیا جا سکتا ہے کہ سننے والوں کے تصور میں منظر واضح ہونے لگے۔یہ درست ہے کہ زبانی باتوں سے وہ دہشت جنم نہیں لے سکتی جو خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے سے ہوتی ہے لیکن بہرحال کچھ اثر تو ہوگا، اس وقت معاشرے میں ظلم بہت بڑھ چکا ہے، حکومت اگر درست سمت کی جانب متوجہ ہے اور اچھی نیت رکھتی ہے اس کے باوجود اچھی منتظم نہیں اور حکومتی پریشانیوں کیلئے تیار بھی نہ تھی۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے پنجاب میں اور پیپلز پارٹی نے سندھ میں پولیس کو مکمل بگاڑ کا شکار کر رکھا تھا اور موجودہ صورتحال میں اس سب کا بہت عمل دخل ہے لیکن اس حکومت میں درست لوگوں کے انتخاب کی صلاحیت مفقود ہے، سو مسائل میں اضافہ ہے۔ یہ قوانین، ان پر توجہ بہت احسن قدم سہی لیکن سوچنا یہ بھی ہوگا کہ کیا نامرد بنانے سے مجرم، نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو کر مزید خطرناک تو نہ ہو جائینگے؟ قانون میں کیا اس قسم کی سزا کی ضرورت بھی ہے، بہرحال یہ ایک احسن قدم ہے بس اس سب کو اپنانے اور قانون کے اطلاق کا لائحہ عمل تیار کرنے میں حکومت کو ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جن نتائج کے اُمیدوار ہیں وہ حاصل کئے جاسکیں۔