دل کا جانا ٹھہر رہا ہے

جنرل ریٹائرڈ مشرف نے جب اپنے ایک دورہ امریکہ کے دوران امریکن یہودیوں کی ایک کانگریس کی دعوت پر جب اُن سے ملاقات کی اور وہاں پر تقریر کی تو اُس کی دو باتیں مجھے اب بھی یاد ہیں جو پریس کے ذریعے علم میں آئی تھیں۔ایک یہ بات کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ براہ راست کوئی دشمنی نہیں ہے۔ اور اگر میں اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نارمل سطح پر لانے کے اقدامات کروں گا یہ میرے اقتدار کی قیمت پر ہوگا۔اُس وقت میں نے ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ حالات کی تیور بتارہے ہیں کہ مصر،اردن،کے بعد کئی اہم عرب اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر ہیں اُس زمانے میں گاہے گاہے پریس میں یہ خبریں بھی آتی تھیں کہ مشرق وسطیٰ کے دو اہم ممالک یعنی سعودی عرب اور امارات کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط استوار ہیں مناسب وقت پر تعلقات قائم ہونے کے اعلانات ہوں گے اور ایسے میں خدشہ محسوس ہوا تھا کہ پاکستان پر دبائو پڑے گا دو حوالوں سے ایک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کے سبب دوسرا امریکہ جیسے سپر پاور کے دبائو کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کُشنر نے کمال ڈپلومیسی اور دوستی کرتے ہوئے سعودی ولی عہد ایم بی ایس سے وہ کام کروایا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھااور تب انہیں سطور میں لکھا تھا کہ''کہیں پاکستان اس حوالے سے تنہا نہ رہ جائے ''۔اور وہ وقت شاید آن پہنچا ہے کہ پاکستان کو عزیمت اور رخصت میں سے ایک پر عمل کرنا ہی پڑے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لئے دونوں آپشنز میں کسی ایک کا اختیار کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔پاکستان میں سیکولر لبرلز نوجوان طبقے میں ایک لابی ایسی موجود ہے جو یہ اگر آلاپتی رہی ہے کہ پاکستان نے عربوں کی محبت میں اسرائیل کو خواہ مخواہ اپنا دشمن بنادیا ہے اور اب تو عربوں نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے لہٰذا پاکستان کو کیا پڑی ہے کہ پرائی جنگوں میں کودتا رہے۔اور اگر پاکستان ،اسرائیل کو تسلیم کرے تو بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ڈینٹ ڈالتے ہوئے بڑے معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں فوائد حاصل کرے گا۔لیکن کاش یہ لوگ تاریخ کی تھوڑی سی خبر رکھتے تو شاید ایسی بات نہ کہتے اسرائیل کے پاکستان کے لئے تسلیم کرانے میں تین چار اہم نکات ہیں،جس کے سبب پاکستان کیلئے یہ قدم اُٹھانا بہت مشکل کام ہوگا۔اگر عزیمت پر عمل کیا جائے جو کرنا مروج ہے کیونکہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جو اسلام ہی کے نام پر قائم ہوا تھا اور اسلام ہی کی بدولت قائم رہ سکتا ہے اب جب تک بیت المقدس اسرائیل کے قبضہ میں ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لئے بند ہے فلسطینی علاقوں اور مغربی کنارہ پر اسرائیلی توسیع پسندی جاری ہے اور اس کو اسرائیل کا حصہ بنانے کا باقاعدہ پلان ہے امارات نے اسرائیل کے تسلیم کرنے کا بڑا مقصدبتایا تھا کہ اسرائیل مغربی کنارہ پرآبادیاں قائم کرنا روکے گا اسرائیلی وزیراعظم نے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے۔پاکستان اس لئے اس عزیمت پر قائم ہے کہ بابائے قوم نے اسرائیل کے حوالے سے جو دوٹوک مئوقف اختیار کیا تھا،اس میں یواین کی قراردادیں ،او آئی سی اور دیگر کیمپ ڈیوڈ اور اسلو معاہدوں کو بہت اہمیت حاصل ہے ان سارے معاہدوں میں1967ء سے قبل کے فلسطینی علاقے اہل فلسطین کو اپنی آزاد وخودمختار ریاست کے قیام کے لئے ملنا ضروری ہیں اس کے علاوہ اگر پاکستان اس کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے مجبورکیا گیا تو پھر مقبوضہ کشمیر پر بھی پاکستان کا مقدمہ اور دعویٰ اتنا کمزور پڑے گا کہ برائے نام رہ جائے گا لہٰذا عزیمت کا راستہ یہی ہے کہ اسرائیل کو پاکستان کے لئے تسلیم کرنا بہت کچھ دائو پر لگانے کے مترادف ہوگا۔یہ تاریخ کا وہ موڑ ہے کہ کھرے اور کھوٹے کو الگ کر کے رکھدے گا لیکن ابھی نہیں یہ شاید ایک صدی دو بعد میں ہوگا لیکن اتنی بات اس وقت سب کے سامنے ہے کہ تاریخ سعودی عرب اور ایران سے ضرور پوچھے گی کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان ناخوشگوار تعلقات اور کینہ وحسد نے پورے عالم اسلام کو بری طرح متاثر کر کے اس قسم کے تاریخی مشکلات سے دوچار کردیا تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم نے یواین اسمبلی سے خطاب اور میڈیا کے سامنے اپنا مئوقف واضح طور پر بیان کیا تھا اور اس بات کا اظہار بھی کیا تھا کہ پاکستان پر امریکہ اور ایک دو دوست ملکوں کا دبائو ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غور کرے لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کی تردید کی کہ پاکستان پر کسی قسم کا دبائو ہے اس کے علاوہ اپوزیشن کی صفوں سے مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام ،اتنے واضح مئوقف کے باوجود الزام لگار ہے ہیں کہ موجودہ حکومت کشمیر کی طرح فلسطین کے معاملے میں بھی کوتاہی کا مرتکب ہورہی ہے دوسری طرف فلسطین کے صدر محمود عباس عمران خان کو شاباش کا خط لکھ رہے ہیں کنفیوژن موجود ہے پوری امت میں اگر کہیں امت موجود ہو تب عمران خان کو علامہ اقبال سے بھی رہنمائی لینی چاہیئے۔
اے مرے فقیر غیور!فیصلہ تیرا ہے کیا
حلعت انگریز یا پیر ہن چاک چاک