ہزارہ برادری کا ضبط وتحمل

ہزارہ برادری بلوچستان کی سرزمین پر انیسویں صدی میں ہجرت کر کے آباد ہوئی البتہ انہیں اس سرزمین کا باضابطہ شہری بننے کیلئے دہائیوں صبر کرنا پڑا تھا۔ ان کی ترجیحات میں پہلا پیشہ برٹش انڈین آرمی میں خدمات سرانجام دینا ہی تھا اور وہ یہی قوم ہے جس کے بطن سے پاکستان کو جنرل محمد موسیٰ جیسے آرمی چیف ملا۔
مگر اس ہزارہ برادری میں کوئی سردار تھے اور نہ ہی کوئی بڑے جاگیردار، سو انہوں نے صوبے کے انتظامی معاملات سنبھالنے کیلئے پڑھی لکھی، تعلیم یافتہ افرادی قوت بننے کی راہ لی۔ ایک وقت تھا کہ بلوچستان حکومت کے انتظامی سٹاف میں سے ستر فیصد افراد اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے جوکہ اب کم ہو کر بیس فیصد سے بھی گھٹ گئے ہیں۔
خیر اس کے باوجود بھی ہزارہ برادری نے ہار نہ مانی اور اپنی معیشت کا پہیہ رواں رکھنے کیلئے کاروبار اور صنعتکاری کی طرف مائل ہوگئے۔ انہوں نے کانوں کی ملکیت حاصل کرنا شروع کی اور بڑے کریانہ سٹور کھولنے لگے۔ اس کے علاوہ وہ تعلیم، بینکاری اور تجارت کے شعبوں میں ملازمتیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے، مگر جیسے جیسے بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا گیا، ویسے ویسے اس برادری کیلئے حالات گمبھیر ہونے لگے۔ پنجاب سے مذہبی شدت پسند عسکری گروہوں کی بلوچستان آمد، اسی صوبے کو افغانستان میں ملوث عسکری عناصر کی جنم بھومی کے طور پر استعمال کرنا اور کوئٹہ شہر کا طالبان کا مرکز بننے جیسی وجوہات کی بناء پر ہزارہ برادری کیلئے زمین تنگ ہوتی گئی۔
ہزارہ برادری کو افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی خوب خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا۔ جب جب افغانستان میں موجود ہزارہ برادری کے لوگ وہاں کی حکومتوں میں شمولیت اختیار کرتے، تب تب یہاں کے ہزارہ لوگوں کو طالبان کی جانب سے انتقامی کاروائی سے نشانہ بنایا جاتا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ہزارہ برادری کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ ان پر مظالم ڈھانے والے عناصر کو مقتدر حلقوں کے ایک مخصوص حصے کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ خدشات اس وقت مزید مضبوط ہو گئے جب حکومتی عمال کی جانب سے ان کی متواتر شکایات اور ان کے مجرموں کی بیخ کنی کے مطالبوں پر کان نہ دھرے جاتے تھے اور جب ان کی برادری کے دو قاتلوں کیخلاف بلآخر ایکشن لے ہی لیا گیا تو انہیں بھی کچھ ہی عرصے بعد جیل سے فرار کرا دیا گیا۔
طالبان کی جانب سے افغانستان میںشروع کی جانے والی شدت پسند تحریک نے بلوچستان میں بھی ایک شیعہ مخالف تحریک کو جنم دیا اور ہزارہ برادری کو اس کے بعد پے درپے منتظم انداز میںحملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اکثر اوقات تو انہیں چلتی بسیں روک کر نیچے اُتارا جاتا اور ان کے شناختی کارڈوں سے ان کے ہزارہ ثابت ہونے پر بے دردی سے قتل کر دیا جاتا۔ اس برادری کیلئے حالات اس قدر گمبھیر ہو گئے تھے کہ روزمرہ کے معمولات اور کاروبار چلانا بھی ان کیلئے دو بھر ہو چکا تھا۔ وہ اپنا کان کنی کا کاروبار یا اپنے کریانہ سٹور چلانے سے قاصر تھے۔ ان میں سے کئی تو یہاں اپنی اچھی بھلی ملازمتیں چھوڑ کر بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ باہر جاکر بھی انہوں نے اپنے میزبان ممالک پر بھی خاصا اچھا تاثر قائم کیا اور وہ ملک بھی ان کی خواتین کے ہنر اور برادری کے صنعتکاری کے رجحان اور دکانیں چلانے کی مہارت کے قائل ہو گئے۔ ان کے ملنسار اور قابل اعتماد برتاؤ نے انہیں ان تمام تعصبات سے بچا لیا جن کا اکثر بیرون ممالک میں آباد ہونے والے مہاجروں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان تمام مشکلات کے بعد بھی ہزارہ برادری نے اپنا تعلیمی سلسلہ ترک نہیں کیا۔ وہ تعلیم پھیلانے کے مشن کو جارے رکھتے ہوئے اب بھی ایسے کئی اسکول اور کالج چلا رہے ہیں جن کے دروازے تمام مکاتب فکر اور مذہبی گروہوں کیلئے بلاتفریق کھلے ہیں۔ وہ کچھ ہی عرصہ میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔ وہ پاکستان کی دیگر کمیونٹیوں کے برعکس لڑکیوں کی تعلیم اور انہیں ہر قسم کے صنفی امتیاز سے دور رکھنے کیلئے بھرپور اقدامات یقینی بناتے ہیں۔ پولیس ریکارڈ اس بات کا بھی ثبوت دیتے ہیں کہ اس برادری کے ہاںجرائم کی شرح سب سے کم اور جرائم سے وابستہ پیشوں کے ذریعے دولت بنانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔
کوئی بھی فرد جس نے اس کمیونٹی کیساتھ تھوڑا سا بھی وقت گزارہ ہے، اس بات کی گواہی دے گا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود یہ برادری زندگی کو ایک مثبت نقطۂ نظر سے دیکھنے کی عادی ہے اور مشکلات کا مقابلہ ڈٹ کر کرنا خوب جانتی ہے۔ ان کی سب سے قابل ستائش بات یہ ہے کہ یہ دیگر برادریوں، مکاتب فکر اور کمیونٹیز کیلئے نہایت تحمل، صبر اور برداشت کا رویہ رکھتے ہیں۔
پوری قوم ہزارہ برادری کی احسان مند ہے کہ جنہوں نے اس قدر کٹھن حالات میں بھی صبر اور رواداری کی نئی مثال قائم کر کے ایک قابل تقلید رجحان کو فروغ دیا ہے۔
شکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)