زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں

شرفِ عالم میں: میری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آئی کہ اگر یہ زمین جس پر ہم انسان بستے ہیں، ہمارا مکان ہے تو پھر ہم اسے چھوڑ کر کیوں چلے جاتے ہیں؟ اور یہ ہمارے لیے لامکان کیوں ہوجاتی ہے؟
وہ: سیدھی سی بات ہے، چوں کہ یہ دنیا ہمارے لیے ایک سرائے یا عارضی قیام گاہ ہے۔ اور مکان اور عارضی قیام گاہ میں ذرا فرق ہوتا ہے۔ میر نے اس حقیقت کو کس خوب صورتی سے شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے۔
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
میں: یعنی یہ زمین اس وقت تک ہمارے لیے مکان رہتی ہے جب تک ہم زندہ ہیں اس کے بعد یہ ہمارے لیے لامکاں ہوجاتی ہے۔
وہ: بالکل ٹھیک مگر غور کرو تو زندگی کے کسی بھی حصے میں یہ زمین ہمارے لیے مکان نہیں ہوتی۔ مکان کا تعلق تو مکین سے ہوتا ہے اور اس مکان میں یہ کیسی سکونت ہے جو پچاس، ساٹھ، ستر، اسی اور کبھی کبھی سو یا اس سے زائد برس تک محدود ورہتی ہے۔ اس موقع پر مجھے اللہ کے آخری نبی کی ایک حدیث یاد آرہی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے لہذا اپنا کام ختم کرکے جلد از جلد اپنے گھر کی طرف پلٹنے کی فکر کرو۔ اس سے ایک پہلو اور نمایاں ہوتا ہے کہ یہ زندگی بھی اک سفر کی طرح ہے اور ہر انسان کو یہاں کسی سزا کے بجائے ایک ذمے داری اور فرض کی ادائیگی کے لیے بھیجا گیا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اس زندگی میں اپنی توجہ صرف اس فرض کو ادا کرنے پر مرکوز رکھے اور دنیا کی رونقوں سے دل لگا کر یا اس عارضی قیام گاہ کو اپنا مستقل مکان سمجھ کر غفلت کا شکار نہ ہو۔ کیوں کہ ایک نہ ایک دن اسے یہاں سے ہمیشہ کے لیے لوٹ جانا ہے۔
میں: مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ ذمے داری اور فرض ہے کیا جس کو ادا کرنے کے لیے اللہ تعالی نے انسان کو اس زمین پر بھیجا ہے۔
وہ: یہ بات بھی اللہ تعالی نے اپنے ہر صحیفے اور کتاب میں، ہر دور کے انسان کو واضح طور پر بیان کی ہے کہ اس زمین پر انسان خدا کا خلیفہ بناکر بھیجا گیا ہے۔ اورخلیفہ کی ذمے داری تو آقا کے حکم کی بجا آوری ہوتی ہے، جس سے وہ سرِ مو تفاوت نہیں کرسکتا۔
میں: یہ بات تو سمجھ میں آگئی لیکن اگراس زمین پر ہم ایک مسافر کی حیثیت سے آتے ہیں اور کچھ عرصہ قیام کرکے واپس سدھارجاتے ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اصل میں زمانے کی قید میں رہتے ہیں زمین کی نہیں۔
وہ: تم نے بڑی بنیادی بات کی ہے، جسے سمجھنے کی بہت ضرورت ہے کہ ہم زمانے کی قید میں رہتے ہیں زمین کی نہیں۔ اسی بات کو سائنس دان آئن اسٹائن نے بھی اپنے مشہور نظریے میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انسان اگر اس زمین کی حدود سے باہر نکل جائے تو ایک نئے زمانے ایک نئے وقت میں مقید ہوجائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم زمین پر پائی جانے والی مادی اشیا پر بآسانی دسترس حاصل کرلیتے ہیں مگر زمانے یا وقت کو چاہتے ہوئے بھی اپنے قابو میں نہیں کرپاتے۔ ابتدائے آفرینش سے اب تک انسان نے اپنے علم وفہم کی بنیاد پر زمین پر موجود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اس دنیا کی چیزوں کو کس کس انداز سے اپنے قابو میںکیا ہے کہ عقل دنگ رہ ر جاتی ہے۔
میں: اس سے ایک اور بات سامنے آئی کہ انسان صرف ان ہی اشیا اور عناصرکو اپنے تصرف میں لے سکتا ہے جن پر اس کا اختیار ہو۔
وہ: یعنی انسان ہوا کو روک سکتا ہے نہ چلاسکتا ہے، مگر اس کے رستے میںکوئی رکاوٹ یا دیوار کھڑی کرکے اس کا زاویہ ضرور بدل سکتا ہے، سورج اور چاند کی گردش میں ذرا برابر خلل ڈالنا بھی اس کے اختیار سے باہر ہے۔ مگر اس سے نکلنے والی روشنی اور تپش کو توانائی میں تبدیل کرکے اپنے فائدے کے لیے استعمال میں لاسکتا ہے۔ انسان نے اس کائنات کی وسعت کا اندازہ تو لگا لیا کہ اور قیاس ظاہرکیا ہے کہ یہ کائنات جب سے بنی ہے اس دن سے مسلسل پھیل رہی ہے اور اگر انسان روشنی کی رفتار یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ سے سفر کرنا شروع کرے تو اس کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے اسے کم از کم پندرہ ارب سال لگیں گے۔
میں: اور ثابت یہ ہوا کہ خدا کی بنائی ہوئی اس زمین پر رہتے ہوئے یا اس کی حدود سے باہر نکل کر وقت کو اپنی مرضی کے مطابق قابو کرلینا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔
وہ: ہوسکتا ہے انسان آئندہ آنے والے کسی دور میں اس قابل ہوجائے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ انسان اس دنیا سے گزر جانے کے بعد اس زمان ومکاں سے آزاد ہو کر ایک نئے زمانے ایک نئے جہان میں قدم رکھ دیتا ہے، جس کا شعور صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جو اس تجربے سے براہِ راست گزرے۔ بقول عبدالعزیز خالد
زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں
مکانی ہوتے ہوئے لامکاں میں رہتے ہیں