یہ کمپنی چلنے والی نہیں ہے

کچھ بھی ہو یہ کمپنی چلنے والی نہیں، یہ لطیفہ تو آپ نے یقینا سن رکھا ہوگا،نہیں سنا تو اگلے چل کر بتا دیں گے، تاہم اس کی یاد موجودہ سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے آئی، جہاں دو بڑی سیاسی جماعتیں یعنی لیگ(ن)اور پیپلزپارٹی حکومت کو گرانے کی اپنے اوپر عاید کردہ خودساختہ ذمہ داری نبھانے کی بجائے ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی تقرری پر لفظی جنگ بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ پیپلز پارٹی پر لیگ(ن) کے اعتراض میں اگر وزن ہے تو پیپلزپارٹی کے لیگ(ن) کی جانب سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کیلئے نامزد اُمیدوار پر اعتراضات بھی بظاہر وزنی معلوم ہوتے ہیں۔ اب ذرا محولہ بالا لطیفے کو مختصراً بیان کر لیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں ایک ٹرینڈ یہ ہے کہ وہاں ہر بات پر شرط باندھنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی، ایسے ہی ایک میخانے میں ایک شخص نے آکر بہ آواز بلند یہ دعویٰ کیا کہ وہ کسی بھی شراب کو چکھتے ہی پہچان سکتا ہے کہ یہ کس کمپنی کی کونسی شراب ہے، اب تو بار ٹینڈر کے کائونٹر کے قریب اس شخص کے اِردگرد ایک جمگھٹا ہوگیا۔ بارٹینڈر نئے نئے ذائقوں کے شراب کے پیگ بناتا اور وہ شخص اسے پی کر درست نام بتا دیتا، شرطوں پر شرطیں باندھی جا رہی تھیں اور شراب کی درست نشاندہی کرنے والا ڈالر جیت رہا تھا۔ جب ہر طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو بار ٹینڈر نے بالکل سادہ پانی کا پیک سامنے لاکر رکھ دیا، پانی پی کر وہ شخص تھوڑی دیر تک سوچتا رہا، اس نے ایک دوبار سر کو جھٹک کر بھی اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ اب تک وہ اتنی شراب پی چکا تھا کہ اس کو نشہ چڑھ چکا تھا، اس لئے وہ سوچتے ہوئے اندازہ لگا نے لگا کہ یہ کونسی کمپنی کی شراب ہے جواس کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے، کچھ دیر بعد اس نے ہار مانتے ہوئے کہا یہ شراب کونسی ہے میں پہچان نہیں سکا اور یہ کہہ کر شراب خانے سے نکل گیا کہ خواہ کسی بھی کمپنی کی ہو مگر ایک بات کہہ دیتا ہوں کہ یہ کمپنی چلنے والی نہیں ہے۔ اس لئے حزب اختلاف نے جو ''کمپنی'' بنائی ہے اگرچہ ابتداء میں کمپنی کی مشہوری کیلئے بہت سے اقدام کئے گئے، بڑے پاپڑ بیلے گئے اور عوام کو اُمیدیں دلائی گئیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ان کو نجات دلانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاہم بھان متی کا کنبہ کب تک اکٹھا رہ سکتا تھا اور وہ جو کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑہ اکٹھا کر کے مصنوعی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں کی گئیں تھیں ان میں بالآخر دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں، اصولی طور پر تو پیپلزپارٹی پر لگائے جانے والے الزامات درست ہیں کہ جب اعلیٰ سطح پر یہ بات طے ہوگئی تھی کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے یوسف رضا گیلانی کی حمایت کے بدلے قائد حزب اختلاف نون لیگ کا اور ڈپٹی چیئرمین جمعیت کا ہوگا تو چیئرمین کے عہدے پر (بوجوہ) شکست کے بعد پیپلزپارٹی نے اپنے وعدے سے ''یوٹرن'' لیتے ہوئے ''باپ'' کا تعاون حاصل کر کے لیگ(ن) کیساتھ کھیل کیوں کھیلا؟ جواب میں پیپلزپارٹی کا موقف ایک لحاظ سے درست تو ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی حمایت کیوں کر سکتی ہے جو محترمہ بینظیر شہید کے قاتلوں کا وکیل رہا ہو، تاہم اس ضمن میں پیپلزپارٹی کے پاس معترض کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ اپنے پانچ سالہ دور میں یعنی خود پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران محترمہ کے قتل کے مقدمے میں انہوں نے کونسا تیر مارنے کی کوشش کی جبکہ ایک وکیل پر اس قسم کے اعتراضات لگانا اصولی طور پر درست نہیں ہے کہ وکیل کا کام مقدمے لڑ کر رزق کمانا ہوتا ہے اور ماضی میں ایسے کئی وکلاء نے کسی ایک پارٹی کے حق میں مقدمہ لڑا تو بعد میں اسی وکیل نے اپنے سابقہ موکل کیخلاف بھی مقدمات لڑے، یوں اگر اس قسم کے سوالات پر سیاسی معاملات طے کئے جانے ہیں تو وکلاء مقدمات لڑنا ہی چھوڑ دیں، ادھر اے این پی کے رہنماؤں سے ملاقات میں اویس نورانی کی قیادت میں ملاقات کے دوران گیلانی کی حمایت کے حوالے سے جب استفسار کیا گیا تو دستیاب معلومات کے مطابق اے این پی نے بھی پیپلزپارٹی پر ''غلط بیانی'' کا الزام عاید کرتے ہوئے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے سے انکار کیا، جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تازہ ارشادات میں واضح کیا ہے کہ جنہوں نے گیلانی کو نااہل کروایا، انہی کی ووٹوں سے پارلیمنٹ میں لائے، بہرحال یہ تو سیاسی پینترے بازیاں ہیں اور بقول شاعر جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کہے، لیکن اس قسم کی تاویلات سے عوام کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکا جا سکتا اور اصولی طور پر پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ ایک پشتو ضرب المثل کے مطابق سیاسی تانگے میں جتے گھوڑے کی باگیں ان کے ہاتھ سے چھوٹ چکی ہیں اور اب تانگہ غز کے درخت سے ٹکرانے سے بچانے میں کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا، جس کے نتائج ظاہر وباہر ہیں یعنی بقول شاعر
گوالا لاکھ کھائے جائے قسمیں
مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے