چین میں غربت کا خاتمہ کیسے ممکن ہوا؟؟

یہ اکیسویں صدی کی عظیم کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کہانی میں ہمارے سیکھنے' سمجھنے اور کام کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ عوامی جمہوریہ چین وہ ملک تھا جہاں غربت ہزاروں سال سے اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھی۔ اس چین نے گذشتہ آٹھ سالوں میں 10کروڑ لوگوں کو غربت سے باہر نکالا ہے' گذشتہ 40سال کے اعتبار سے یہ تعداد 80کروڑ افراد کی بنتی ہے۔ اقوام متحدہ نے پائیدار ترقی کے جو اہداف 2030ء کے لیے مقرر کیے ہیں ، عوامی جمہوریہ چین نے وہ اہداف دس سال قبل یعنی 2020ء میں حاصل کر لیے ہیں۔ یوں چین نے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ اُس نے مطلق غربت (Absolute Poverty) کے خلاف جنگ مکمل طور پر جیت لی ہے۔ اقوام متحدہ نے پائیدار ترقی کے جو اہداف مقرر کیے ہیں اُس میں غربت اور بھوک کا خاتمہ بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی دس فیصد آبادی یعنی ہر دس میں سے ایک فرد غربت کی نچلی ترین سطح پر ہے۔ 1.9امریکی ڈالر سے کم روزانہ کمائی انتہائی غربت کا پیمانہ ہے اور دنیا میں 736ملین افراد ایسے ہیں جو یہ کمائی کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا اُنہیں خوراک' پینے کے صاف پانی' سینیٹیشن ' کپڑوں سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے۔ اسی طرح بھوک کرہ ارض کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ 2017ء کے اعداد و شمار کے مطابق 821ملین یعنی 82کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں جب کہ اس وجہ سے 9کروڑ بچے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہیں وزن کی خطرناک کمی میں مبتلا ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین نے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کر کے انسانیت کی عظیم خدمت کی ہے۔ چین کی غربت کے خاتمے کے لیے کاوشوں کا فروری 2020ء میں ایک جائزہ لیا گیا۔ اس جائزے کے مطابق حالیہ سالوں میں ہر مہینے دس لاکھ لوگوں نے غربت کے طوق کو اُتارا' یعنی ہر تین سیکنڈ میں ایک شخص نے غربت سے نجات پائی۔ گذشتہ سال کورونا وباکے باوجود چین نے مطلق غربت کے خاتمے کی منزل حاصل کی۔ خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والے رجسٹرڈ افراد کی اوسط آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2015ء میں 2982یوآن کی اوسط آمدن 2020ء بڑھ کر 10740 یوآن ہو گئی۔ چین نے غربت کے خاتمے کے لیے جو منصوبہ ترتیب دیا اس میں تعلیم' صحت اور رہن سہن کے معیار کو خاص اہمیت دی گئی ۔ حکومت نے اپنے اقدامات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا کہ غریب آدمی کو اپنی خوراک' کپڑوں' بنیادی تعلیم و صحت اور سر پر چھت کی فکر لاحق نہ رہے۔ دوسرا اہم کام غریب آبادی کو انفراسٹرکچر کی فراہمی تھی۔ 2019ء کے خاتمے تک چین نے دیہاتی علاقوں تک سڑکوں کا جو جال پھیلایا ہے وہ 42لاکھ کلومیٹر پر مشتمل ہے چنانچہ اب ہر قصبہ اور دیہات پکی سڑک کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ 2016ء سے 2019 ء تک 16900کلومیٹر لمبی نیشنل ایکسپریس وے غریب علاقوں تک رسائی کے لیے بنائی گئی ۔ مزید برآں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سروس بچھائی گئی اور 98فیصد آبادی کو 4Gسگنل کوریج کی سہولت فراہم کی گئی۔ یوں غریب پسماندہ علاقوں اور دنیا کے درمیان فاصلے سمٹ گئے۔ غربت کے خاتمے میں چین کا ایک اور اہم اقدام مقامی قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانا تھا جس کے لیے غریب پسماندہ علاقوں میں سرمایہ کاری کی گئی۔ اس کی بدولت ان علاقوں میں متعدد کاروبار شروع ہو گئے۔ منسٹری آف ہیومن ریسورس اور سوشل سیکورٹی کے ڈیٹا کے مطابق چین میں رجسٹرڈ 90فیصد غریب آبادی نے صنعت کاری سے مدد حاصل کی اور انہیںملازمتوں کے مواقع ملے۔ دو تہائی سے زائد افراد نے غربت سے نجات اس وجہ سے پائی کہ انہیں ان کی رہائش گاہ کے قریب مقامی صنعت کی وجہ سے ملازمت مل گئی۔ عورتوں اور بچوں پر بھی خصوصی توجہ غربت کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ 2015ء سے عورتوں کو مائیکرو فنانسنگ کی مد میں 61ارب یوآن کی مالی مدد دی گئی۔ عورتوں کی صحت پر بھی خاص توجہ غربت کے خاتمے کی مہم کا حصہ تھا۔ آج کے چین میں دوران زچگی خواتین کے انتقال کی شرح زیادہ آمدنی والے ملکوں سے بھی بہتر ہے۔ بچوں کی لازمی تعلیم بھی غربت مکائو پروگرام کاحصہ تھی۔ 2019ء میں چین میں 94.8 فیصد طالب علموں نے مفت لازمی تعلیم کا نواں سال مکمل کیا۔ چین کی غریب آبادی کا 80 فیصد ان علاقوں میں رہتا ہے جہاں سخت ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چین نے وسطی اور مغربی چین کے ان علاقوں سے اپنی ایک کروڑ آبادی کو نکال کر قریبی دیہاتوں اور قصبوں میں منتقل کیا ہے ۔ حکومت نے ایسے افراد کی ملازمت اور کاروبارکا بھی مناسب بندوبست کیا ہے۔ یوں لکڑہارے اور چرواہے جنگل کے رکھوالے بن گئے اور وہ جنگلات کی دیکھ بھال اور حفاظت پر مامور ہو گئے۔ اسی طرح چین نے غریب آبادی کے لیے گذارہ الائونس کا بھی بندوبست کیا۔ تقریباً 20ملین غریب افراد کو گذارہ الائونس دیا گیا جب کہ 24ملین جسمانی معذوری کے حامل افراد کو گذارہ الائونس کے ساتھ طبی امداد بھی فراہم کی گئی ۔ (جاری ہے)