کوہاٹ سبزی منڈی اور طلبہ کا توجہ طلب مسئلہ

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اتنے کالم لکھے اور اتنے لوگوں نے اپنی شکایات بیان کیں بہت سے نہیں تو کچھ نہ کچھ شکایات کا ازالہ بھی ہوا ہو گا اور ان مسائل و شکایات کا سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا پھر مجھے خیال آتا ہے کہ یہ دنیا ہے ہی دارالمسائل جب تک انسان ہے 'معاشرہ ہے 'زندگی ہے بلکہ دنیا باقی ہے تب تک مسائل ہوں گے مشکلات کا سامنا ہوتا رہے گا البتہ ان کی صورت مختلف ضرور ہوسکتی ہے دنیا تبدیل ہوتی جارہی ہے کبھی بھوک سب سے بڑا مسئلہ تھا بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں اب بھی ہے غربت تو تقریباً ہر ملک کا مسئلہ ہے گزشتہ نسل ماحولیاتی آلودگی سے آخری عمر میں شناسا ہوئے ہم گلوبل وارمنگ سے پریشان ہو رہے ہیں نجانے ہماری آئندہ نسل کن حالات و مشکلات سے دو چار ہو گی قائل ہونا ہی پڑتا ہے کہ دنیامسائل کا گھر ہے اور زندگی مشکلات جھیلنے کا نام 'کوئی روٹی کو ترستا ہے تو کسی کو پھولوں کی سیج پر بھی نیند نہیں آتی مسئلے کا شکار غریب بھی ہے اور روساء بھی بس فرق ہے تو مسائل کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ۔بہت سے مسائل ہمارے اپنے ہاتھوں کے تراشے اور پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ کوہاٹ سے ڈاکٹر مجتبیٰ ہمارے اپنے قاری اور مہربان ہیں کوہاٹ آتے جاتے ہیں تو درپیش مسائل بارے کبھی کبھار آگاہ بھی کرتے ہیں جنگل خیل بائی پاس کوہاٹ بنا اس لئے تھا کہ ٹریفک کا رش تقسیم ہوکر کم ہو' امید تھی کہ بائی پاس سے ٹریفک کا مسئلہ حل ہو گا مگر اس پر فروٹ منڈی اور سبزی منڈی لگا دی گئی مکینوں نے عدالت سے رجوع کر لیا کہ اس کے علاوہ بلدیاتی عمال کی سرپرستی میں چلنے والے سبزی منڈی کو ہٹانے کے لئے ان کے پاس چارہ کار ہی کیا ہے مین روڈ سے تھوڑے فاصلے پر منڈی لگائی جاتی تو بات اور تھی مگر اس سبزی و فروٹ منڈی کی وجہ سے بڑی سڑک جس پر مختلف علاقوں سے آنے والی گاڑیاں گزرتی ہیں منڈی بننے کی وجہ سے مین روڈ پر ٹرک کھڑے رہتے ہیں چنگ چی رکشوں کی بھر مار ہوتی ہے سوزوکیاں اور ہتھ گاڑیاں لوگوں کا رش اور ٹریفک کا اژدھام بائی ایسے عوامل ہیں جس سے روڈ کی تعمیر کا مقصد ہی فوت ہو گیا ہے کچھ تو منصوبہ بندی ہونی چاہئے ٹریفک پولیس بھی تعینات ہو اور جگہ جگہ گاڑیاں مین روڈ پر کھڑی کرنے کی ممانعت کر دی جائے تو بھی شاید بات بنے مگر یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں پوچھے گا کون پوچھنے والوں ہی نے سبزی منڈی و فروٹ منڈی بنا دی ہے ۔ مسئلہ صراحت سے سامنے آنے کے بعد سوائے اس کے حل پر توجہ ہی کا واویلا ہوسکتا ہے کوئی سنے تو ۔گزشتہ کالم میں چین میں ایم بی بی ایس کے طلبہ کا مسئلہ بیان ہوا اگرچہ مجموعی طور پر طلبہ کے مسائل کی نشاندہی اور وزارت خارجہ کے حکام کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی مگر ایک اور مراسلہ بھی آیا ہے مدعا وہی ہے لیکن مسئلے کی نوعیت تھوڑی بہت مختلف ہے چین کے معروف جامعہ ژیانگ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کمیسٹری کے طالب علم مدثر اقبال کا مراسلہ بھی اس امید پر شامل کالم کرتے ہیں کہ ہماری حکومت یاسر رحمان ایم بی بی ایس کے طالب علم اور اب کیمسٹری میں اعلیٰ ڈگری کے حصول کے منتظر طالب علم کے مسائل کو چین میں زیرتعلیم تمام پاکستانی طلبہ کے نمائندوں کی حیثیت سے تسلیم کرکے ان کے اجتماعی مسائل کے حل پر توجہ دیں گے ۔ مراسلہ نگار نے اس امر کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ چین میں زیر تعلیم طلبہ 2020ء کی موسم سرما کی تعطیلات گزارنے پاکستان آئے اس دوران کورونا کی وباء پھوٹ پڑنے کے باعث دوبارہ نہ جا سکے اب تک وہ طلبہ واپس نہیں جا سکے ہیں اس ایک سال کے دوران بار بار وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کرکے چین کی حکومت سے بات چیت کرکے ہمیں واپس چین بجھوانے کے لئے اقدامات کی بار بار گزارش کی گئی مگر بہت سی یقین دہائیوں کے باوجود اب تک اس سلسلے میں کچھ نہ ہوا جس کے باعث ہماری تعلیم و تحقیق ادھورا رہنے اور ہماری محنت و سرمایہ دونوں کے ضیاع کا خطرہ ہے مشکل امر یہ بھی ہے کہ اگر ہم بروقت واپس نہ جا سکے اور تعلیم مکمل نہ کرسکے تو ڈگری کے لئے تعلیم مکمل کرنے کا وقت گزر جائے گا ایسا لگتا ہے کہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو ہماری مشکلات اور نقصان کا کوئی احساس نہیں ۔ یکے بعد دیگرے دو خطوط میں ایک جیسے مسئلے کی نشاندہی اور تشویش کا اظہار فوری توجہ طلب ہے ۔ معلوم نہیں وزارت خارجہ کے حکام کے لئے کیا امر مانع ہے کہ وہ چینی حکومت سے اس مسئلے پرسنجیدہ طور پر رجوع نہیں کرتے مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اس مسئلے کے حوالے سے عوامی نمائندوں کو بھی ایوان میں بات کرنی چاہئے اور وزیر خارجہ سے وضاحت طلب کر لینی چاہئے تاکہ وزارت خارجہ کے خفتہ حکام کو احساس ہو اور وہ طلبہ کا مستقبل بچانے کے لئے چینی حکام کی توجہ دلائیں اور مسئلہ حل کروائیں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں مگر کوئی تو اس حوالے سے زحمت کرے تو۔