سویلین بالادستی کا انوکھا انداز

امریکہ اور مغرب کو پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں سویلین سپر میسی کی بڑی تمنا تھی۔ان کا خیال تھا کہ ایک مضبوط سول حکمران زیادہ پر اعتماد ہو کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اپنے فیصلے بھی منوا سکتا ہے حالانکہ امریکہ کی خدمت میں دونوں طرح کے حکمرانوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کے باوجود نئے حالات میںا مریکہ پاکستان میں ایک مضبوط سویلین حکمران کا خواب رکھتاتھا۔امریکہ کی شومئی قسمت اب افغانستان سے دم رخصت اسے ایک فوجی حکمران کی ضرورت تھی۔امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے بعد کے منظرنامے کی تشکیل اور موجود نہ ہونے کے باوجود اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے اب تک اپنے تمام رابطوں کا محور پاکستان کی فوجی قیادت کو بنائے رکھا ۔فوجی قیادت نے امریکہ کی دیرینہ خواہش کے احترام میں حتمی فیصلہ سول حکمران پر چھوڑا اور یوں سویلین بالادستی کی ایک نئی مثال قائم کی ۔ملک کی سول قیادت عمران خان نے امریکہ کے تمام مطالبات کے جواب میں نومور کہہ کر سویلین بالادستی قائم کر دی ۔ پنجابی میں اس کیفیت پر'' ہور چوپو'' کا محاور ہ کہا جاتا ہے ۔امریکہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ،امن ،القاعدہ ،داعش ،جمہوریت کے نام سے اپنا دوعشروں کا پھیلایا ہوا سارا گند پاکستان کے سر پر اُنڈیل کر رخصت ہونا چاہتا ہے ۔سترہ برس قبل جب امریکہ نے افغانستان میں اپنا قدم رکھا تھا تو ایک تو نائن الیون کے حملوں سے غضبناک تھا تو دوسرا وہ اس قبائلی اور شورش زدہ ملک میں امن ،جمہوریت ،لبرل ازم اور انسانی اقدار کا اپنا ساختہ ماڈل متعار ف کرانا چاہتا تھا ۔سترہ برس بعد جب امریکہ افغانستان کو چھوڑ کر جا رہا ہے تو اس ملک کو امن نصیب ہے اور نہ جمہوریت ۔یہ ملک پہلے سے زیادہ خوفناک خانہ جنگی اور قبائلی تضادات کی لہروں پر تیر رہا ہے۔امریکہ نے دوعشروں میں افغانستان پر ٹنوں بارود اور کھربوں ڈالر ضائع کئے مگر نتیجہ صفر ہے ۔پاکستان کو ان سترہ سال میں امریکہ نے افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک مسئلہ جان کر اپنی حکمت عملی سے الگ تھلگ رکھا ۔اس کے برعکس بھارت کو افغانستان کا'' راجہ اندر ''بنا کر رکھا گیا اور بھارت نے افغانستان میں چند نمائشی اور دیدہ زیب چیزوں کی تعمیر کرکے افغانوں کے دل لبھانے سے زیادہ کچھ نہیں کیا ۔بھارت نے افغانستان میں ملنے والی سپیس کو افغانستان میں امن کے قیام کی بجائے پاکستان کی مخالفت کے لئے رنگ برنگی عسکریت کھڑی کرنے سمیت مختلف تخریبی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج جب امریکہ افغانستان سے رخصت ہو کر ایک وسیع خلاء چھوڑ کر جارہا ہے تو بھارت ایک انچ اس خلاء کو پر کرنے کی سکت اور صلاحیت کی اہلیت نہیں رکھتا ۔کابل ائر پورٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے امریکہ کو ترکی کی منت سماجت کرنا پڑرہی ہے ۔دوسرے لفظوں میں ترکی کو قربانی کا بکر ا بنایا جا رہا ہے کیونکہ طالبان بار باری پاکستان اور ترکی دونوں کو اپنے ملک میں کسی منفی رول کے لئے سنگین انتباہ جا ری کر چکے ہیں۔ترکی اگر طالبان سے مفاہمت کئے بغیر امریکہ اور ناٹو کا بوجھ اپنے سر لیتا ہے تو یہ اس جنگ زدہ ملک میں اسلامی ملکوں کی ایک نئی کشمکش کا بنیاد بن سکتا ہے ۔مسلکی اعتبار سے طالبان سعودی عرب کے قریب ہیں اور افغانستان میں ترکی کے نظریاتی ساتھی گل بدین حکمت یار ہیں یا پھر نسلی بنیاد پر ازبک آبادی ۔ شاید امریکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی کو افغانستان کی دلدل میں کھڑا کرنا چاہتا ہے ۔کیونکہ طالبان نے افغانستان میں کسی بھی بہانے آکر بیٹھنے والے کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو حملہ آور کے ساتھ ہوا ۔یہ پیغام کسی اور کے لئے نہیں بلکہ صرف ترکی کے لئے ہے ۔ترکی اور پاکستان دونوں کو طالبان کے سامنے لاکھڑا کرنا ایک گہری منصوبہ بندی کا شاخسانہ ہے ۔اس صورت حال میں امریکہ اب سترہ برس کی حماقتوں کا ملبہ پاکستان پر کچھ یوں گرانا چاہتا تھا کہ پاکستان سے فوجی اڈے حاصل کرکے طالبان پر حملوں کا سلسلہ جا ری رہتا اور اس کا جوابی ردعمل پاکستان کو دہشت گردی کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ۔اس کا اشارہ امریکہ کی افغانستان میں نئی مہم جوئی کی جانب ہوتا تھا ۔چالاک امریکی عمران خان کے اس روئے سخن کو پہلے ہی بھانپ گئے تھے اسی لئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اب تک عمران خان سے براہ راست بات چیت نہیں کی ۔اب عمران خان نے امریکہ کی ایک نیوز ویب سائٹ ''ایکسیس '' کو انٹرویود یتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ امریکہ کو کسی صورت اڈے نہیں دئیے جائیں گے۔توقع یہی ہے کہ امریکہ عمران خان کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اب دوبارہ اڈوں کی خواہش کا اظہار نہیں کر ے گا ۔امریکہ کے سامنے یہ پاکستان کا ایک پہلا تاریخی حرف انکار ہے۔اس طرح کے حرف انکار کی سزا بھی بہت سخت ہوتی ہے ۔دنیا کے کئی حکمرانوں کو امریکہ کے سامنے یوں خم ٹھونک کر کھڑے ہونے کی سزا بھگتنا پڑی ہے۔کچھ بعید نہیں کہ اس حرف انکار کو اپنی انا پر کاری ضرب قرار دے کر امریکہ جواب میں معاندانہ سرگرمیاں شروع کرے۔پاکستان کے سیکورٹی اور پالیسی ساز اداروں کو عملی اور ذہنی طور پر اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔