p613 390

ہسپتالوں میں ادویات و طبی آلات کی دستیابی یقینی بنائی جائے

خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور طبی آلات نہ ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں’ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے عوام کی اکثریت رجوع کر تی ہے’ بالخصوص لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقہ کے پاس تو سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں ہوتا’ کیونکہ علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے’ صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کے بعد اگرچہ سرکاری ہسپتالوں کی طرف عوام کے رجوع کرنے میں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرانے والے عوام کی تعداد اب بھی لاکھوں سے متجاوز ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے ہسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی سو فیصد فراہمی کو یقینی بنائی جائے’ تاکہ عوام کو علاج کی سہولیات میسر ہوں۔ اس کے برعکس سرکاری ہسپتالوں کو پرانے ڈگر پر چلانے کی کوشش کی گئی تو صحت کارڈ اپنی افادیت کھو دے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی تعداد میں کمی کی جو نشاندہی کی گئی ہے’ اس کمی کو فوری طور پر دو ر کرنے کی کوشش کی جائے’ اور ایسا میکنزم بنایا جائے کہ ہسپتالوں کو ادویات اور طبی آلات کی کمی کا سامنا نہ رہے۔کیونکہ طبی آلات کی کمی اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے ‘ ان قیمتی جانوں کوبچانے کی حتی المقدور کوشش کی جانی چاہیے۔ طبی آلات و ادویات کی کمی اگر بجٹ کی کمی کے باعث ہو رہی ہے تو ہنگامی بنیاد پر بجٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے ‘ اگر متعلقہ افراد کی غفلت یا مافیا کی ملی بھگت اس کی وجہ ہے توتب بھی اس کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لانا چاہیے تاکہ علاج کی سہولیات کی فراہمی میں کوئی تعطل نہ آنے پائے۔
مسئلہ کشمیر پر حکومت کا اصولی موقف
جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی سے باز نہیں آتا تب تک اس سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔یہ کہنا تھا قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف کا جو ممتاز بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دے رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکومت قائم ہوئی ہے’ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے دو ٹوک اور اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔پاکستان نے ہمیشہ اس موقف کو دہراہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے ۔ بھارت کے جارحانہ اور یک طرفہ اقدام کے برعکس پاکستان نے صبر تحمل کا مظاہرہ کیا ۔بھارت کشمیریوں کے حقوق کو غصب کررہا ہے ۔اور 5اگست 2019کا اقدام دنیا کے سامنے ہے ‘جس نے کشمیریوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کردیا ہے ۔اس کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی اقدام کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے بھارت حقائق کو تسلیم کرے اور بزورشمشیر کشمیریوں کو مطیع کرنے کی کوشش سے باز آئے ۔ مگر مودی سرکار اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے ‘اور کشمیریوں کو آزاد حیثیت سے زندگی گزارنے کا حق دینے پر آمادہ نہیں ۔بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ طاقت اور جبر کے زور پر کیے گئے فیصلوں کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے ۔ مودی نے 5اگست کو کشمیرکی حیثیت تبدیل کرنے کا جو قدم اُٹھایا تھا وہ بھارت کے اندر بھی تنقید کا سامنا کررہاہے ۔کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف کشمیری بلکہ عالمی حمایت حاصل ہے، جلد یا بدیر کشمیر کا فیصلہ ہو کر رہے گا ۔یقین محکم ہے کہ کشمیر کا جب بھی فیصلہ ہو ‘اس میں کشمیریوں کی امنگوں کا خیال رکھا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں ویکسی نیشن کا سست عمل
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے کورونا ٹیسٹنگ اور ویکسی نیشن کی سست رفتاری اور موبائل ٹیموں کی ناقص کارکردگی کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے ہیلتھ آفیسر ز کو برق رفتاری کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی ہے ۔محکمہ صحت کی طرف سے ہیلتھ آفیسر کی کارکردگی اور امور کی انجام دہی پر چیک اینڈ بیلنس نہایت اہم ہے،کیونکہ ایک طرف حکومت عوام میں آگاہی مہم چلا رہی ہے کہ کورونا کی چوتھی لہر کے خدشات ہیں۔ دوسری طرف اگر ہیلتھ آفیسر بے فکر ہو کر بیٹھ جائیں تو کورونا پر قابو پانا شاید مشکل ہو جائے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں جن لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے وہ تعداد بہت کم ہے،کیونکہ 22کروڑ کی آبادی میں ڈھائی کروڑ کو ویکسین لگانا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ ہمیں کورونا کے پھیلائو میں حالیہ کمی کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور جس قدر ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگانے کا میکنزم بنانا چاہیے ۔اس حوالے سے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضرورت کو سامنے رکھ کر ویکسین کی دستیابی یقینی بنائے کیونکہ ویکسین کی دستیابی کے بعد ہی گارنٹی دی جا سکتی ہے کہ کتنی مدت میں عوام کو ویکسین لگانے کا عمل پورا ہو سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے متجاوز ہے جبکہ صرف تیس لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا سکی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ تعداد بہت کم ہے، محکمہ صحت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔