4 432

تکر ار اور پیا ر ایک ساتھ نہیں

غالباً ایک ہفتہ قبل امریکی وزیر خارجہ پاکستان کی جانب رخ کیے بغیر بھارت کا دورہ کر کے لوٹ گئے اس خطہ کے حوالے سے یہ روایات رہی ہیں کہ جبب بھی کوئی امریکی اعلیٰ شخصیت برصغیر کے دورے پر آتی ہے تو وہ پاکستان اور بھارت دونو ں ممالک کارخ کیا کرتی ہے ، جب پرویز مشرف نئے نئے اقتدار پر براجمان ہوئے تھے تو سابق امریکی صدر کلنٹن نے بھارت کا دورہ کیا تھا پاکستان کے ساتھ کوئی ایجنڈا نہ تھا لیکن پھر بھی وہ مشرف کی عمیق خواہش کے مدنظر ان سے صرف ہا تھ ملا نے کی غرض سے اسلا م آبا دآئے یو ں روایت کو برقرار رکھا ۔ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد بھارت کی جا نب سے جو بیانیہ جا ری ہوا اس میں کہا گیا کہ پاکستان سی پیک کا منصوبہ متنا زعہ علا قہ میں روبہ عمل لا رہا ہے ، گویا وہ مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کر نے کے بعد بھی آزاد کشمیر کو متنازعہ علا قہ قرار دے رہا ہے ، اور اس کی اس جا نب حریصانہ نظریں گاڑی ہوئی ہیں ِ، ویسے ایسا بیانیہ بھارت گزشتہ ستر سال سے دیتا چلا آرہا ہے ۔ لیکن ایسے وقت میں جب آزاد کشمیر کے انتخابات کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کوٹلی کے جلسہ میں آزادکشمیر میں ریفرنڈم کی ایک نئی تجویز کے بعد بھارتی بیانیہ حساس نوعیت رکھتا ہے ، جس میں مشرق وسطیٰ میں بھارت کی تیزتر سرگرمیا ں بھی بڑھتی جا رہی ہیں ، بھارت کے بارے میں کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ افغانستان میںکردار چاہتا ہے امریکا بھی ایساہی خواہش مند ہے چنانچہ بھارتی وزیر خارجہ وسطی ایشیا کے ممالک کے پے درپے دوروں میں جتے نظر آرہے ہیں انہوں نے حال ہی میں ایس سی او کے اجلا س کے علا وہ ترکستان اور ازبکستان کا بھی دورہ کیا یہ واضح رہے کہ وسطی ایشیاء کے زیادہ تر ممالک لینڈلوکڈ (چارو ں طرف سے خشکی سے گھر ے ہوئے ) ہیں اور ان کا زیا دہ تر انحصار پاکستان اور چین پر ہے جو بھارت کو کھل رہا ہے ، اسی بناء پرو ہ سی پیک کے منصوبے کو متنازعہ بنانے کے درپے ہے ، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے دوشنبے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ پی سے بات کرنے کی کوشش کی جس میں چینی وزیر خارجہ نے بھارت کو واضح جواب دیا کہ تکرار اورپیار ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، سی پیک منصوبہ مکمل ہو نے کی بناء پر وسطی ایشیا ء کا مکمل انحصار چین اور پاکستان پر ہو جائے گا ، جو بھارت کے لیے دشواری اور پر شانی کا باعث ہے ،وسطی ایشیا ء خارجہ پالیسی ، معاشی ترقی کے حوالے سے چین پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ، اور بھارت بھی اپنی معاشی ضرورت کی بناء پر اہمیت دیتا ہے کیو ں کہ یہ علا قہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے ، گیس جیسے بڑے ذخائر ہیں جن پر بھارت بیٹھنا چاہتا ہے ، صرف گیس کو ہی لے لیں تو بھارت کی زمینی راہ میں افغانستان اورپا کستان اٹکے ہوئے ہیں ، چنا نچہ بھارت خارجہ پالیسی میں چومکھی کھیلنے کی سعی کر رہا ہے کہ ایک طرف اس کی کوشش یہ ہے کہ سی پیک کا منصوبہ ختم کر ادیا جا ئے دوسرے زمینی رکا وٹوں کو دور کرنے کے افغانستان میں اس کو کر دار ادا کرنے کا اختیا ر مل جائے اس سلسلے میں وہ امریکا کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈلوارہا ہے کہ بھارت کو افغانستان میں بھی کر دار دیا جائے ، اس سلسلے میں یہ عذر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور تین ارب ڈالر کی سرمایہ کا ری کو ایک موٹی رقم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، اس کے ساتھ ہی بھارت مغرب کو یہ دہائی دے رہا ہے کہ امریکی انخلا ء سے افغانستان میں اس کی بھاری سرمایہ کاری ڈوب جائے گی اس لیے افغانستان میں بھارت کے کردار کی بڑی اہمیت ہے جو مغرب کے مفادات کی ترجیحات کو بھی قائم رکھے گا ، بھارت کا جی ڈی پی دوٹریلین ڈالر بتایا جا تا ہے ہے اتنی بڑے جی ڈی پی کے مقابلے میں تین ارب ڈالر کی حقیر سی رقم ڈوب بھی جائے تو کوئی بڑی بات نہیں ہے اورنہ اس کے ڈوبنے کے کوئی امکانا ت ہیں بھارت کی اس سلسلے میں سرگرمیا ں جا ری ہیں افغانستان میں اس نے دو ڈیم بناکر دیئے ہیں وہ قائم ہیں دوسرے پر اجیکٹ بھی جاری ہیں ،اصل میں اس سب واویلا کا ایک ہی مقصد ہے کہ افغانستان کے کوچہ و امصار پا کستان کے لیے تنگ کر دیئے جا ئیں ، اگر دیکھا جائے تو بھارت کا افغانستان میںکوئی کر دار نہیں بنتا کیونکہ بھارت کی نہ تو جغرافیا ئی طور پر سرحدیں افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں نہ ثقافتی ورثہ مشترکہ ہے ، اور نہ مذہبی اور نسلی بنیا دو ں پر بھارت کے ساتھ افغانوں کا کوئی رشتہ نا تہ ہے ، بھارت افغانستا ن میں کیو ں کر دار طلب کر رہا ہے اس کے پس منظر میں اس کی کیا منصوبہ بندی ہے وہ آشکارہ ہو چکی ہے کہ امریکا کی طرح وہ اس خطے میں ڈو مو ر کا اختیا رچاہتا ہے امریکا کے سابق صدر ٹرمپ اپنے بھارت کے دورے میں یہ لالی پاپ دے گئے تھے کہ بھارت جنو بی ایشیا کی سپرپاور ہے ، کسی طاقت کے سپر پاور ہو نے کی کوئی نہ کوئی تعریف ہو ا کرتی ہے ، اور شرائط بھی لاگو ہوتی ہیں محض خواہشات پر فیصلے نہیںہوا کرتے ، ترکی بھی ایک عرصہ سے یو رپی یو نین کا ممبر بننے کی خواہش رکھتا تھا اور اس نے اس بارے میں بڑی جوکھم اٹھائی مگر ہر مرتبہ شرائط ممبر شپ کا بہانہ کرکے ترکی کو ٹال دیا جاتا رہا آخر کا ر طیب اردگان نے ممبر شپ کے حصول سے ہا تھ اٹھا لیے ، دانا پو چھتے ہیںکہ امریکا کو ایسی کونسی افتاں وخیزاںپڑی تھی کہ جاتے جاتے افغانستان کو افتاںمیں ڈال گیا ، یہ دراصل ایک چال تھی جیسا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کو آخر کا ر امریکی انخلاء کی دہا ئی دینا پڑ گئی ، یہا ں یہ بھی سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر بھارت کو افغانستان میں کر دار کے لیے چھو ڑ دیا جائے تو کیا پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہو جائیںگی ہر گز نہیں پاکستان میں امن وامان کو تہ وبالا کرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیاں جو حرکتیںکر تی پھر تی ہیں ان کو تو پھر دوطرفہ سرحدی رسائی حاصل ہوجائے گی اور وہ ڈومور کی آڑ میں بھی کارروائیا ں کرنے میں آزاد رہے گا ،ان حالات میں پاکستان کی کیا پالیسیا ںہیں اس بارے میں پاکستان کے ادارے وزارت خارجہ ، اور اسٹرٹیجک قوتیں ہی واضح کر سکتی ہیں ۔