shah-mahmood-qureshi

داسو واقعے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، کڑیاں راء اور این ڈی ایس سے مل رہی ہیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس، شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ داسو واقعہ انتہائی افسوسناک تھا، سانحے کی جگہ سے جو موبائل اور مواد ملا اس کے زریعے معاملہ حل کرنا اہم کام تھا۔

جو گاڑی واقعے میں استعمال ہوئی اس کو ٹریک کیا جائے، یہ دیکھا گیا کہ یہ گاڑی کہاں سے اور کیسے آئی ہے، واقعے کے ذمہ داران اور اس کے تانے بانے کا انکشاف ہوا ہے، ہماری تحقیقات میں واضح ہے کہ گاڑی پاکستان سمگل ہوئی۔

داسو دہشت گردوں کا پکا ہدف نہیں تھا، ہماری تحقیقات کے مطابق واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، تحقیقات سے راء اور این ڈی ایس گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس، داسو دہشت گردوں کا پکا ہدف نہیں تھا، اس کی وجہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو خراب کرنا تھا، واقعے کے بعد چین اور پاکستان نے نئے عزم کا اعادہ کیا، چین کے دورے میں اہم تبادلہ خیال ہوا، چین سمجھتا ہے کہ پاکستان نے ہر لمحہ اعتماد میں لیا، ہم نے مل کر واقعے کی مذمت کی، ہمارا عزم ہے کہ یہ واقعات ہمارے عزم کو کمزور نہیں کریں گے۔

جاوید اقبال ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے پی کے نے گاڑی کے پارٹس اور دیگر کرائم سین سے تحقیقات کا آغاز کیا، اس علاقے کی جیو فینسنگ کی، گاڑی پر اپلائیڈ فار کی نمبر پلیٹ تھی، چمن ٹو موٹر کے نام کا اسٹیکر لگا تھا۔ چیک کرنے پر پتہ چلا نومبر میں یہ گاڑی لی گئی، کراچی سے گاڑی کے مالک کو گرفتار کر لیا۔ اس میں چودہ کریکٹر ملوث ہیں، طارق نامی شخص اس گاڑی کو افغانستان سے لیکر آیا تھا، اس شخص کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے، پاکستان میں سہولت کار گرفتار کر لیے گئے ہیں، خالد عرف شیخ نامی شخص خودکش حملہ آور تھا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا ایک دوسرے کی سرزمین استعمال نہ کرنے کا معاہدہ ہے، امید ہے افغانستان اسے حوالے سے پاکستان سے تعاون کرے گا، امید کرتے ہیں افغان حکومت گرفتاری میں تعاون کرے گی۔