سقوط کابل ‘ چہ میگوئیاں اور پیشگوئیاں

جدید ترین اور تیز ترین کمپیوٹر دور کے ذرائع مواصلات نے جس قسم کی صحافت کو جنم دیا ے ‘ اس کے اگرچہ بہت سے فوائد ہیں لیکن نقصانات اور مضرات بھی کم نہیں۔ آج سے پچاس برس قبل حالات وواقعات کی خبریں بہت سست رفتار کے سفر طے کرکے پہنچتی تھیں ‘جس کے بھی فوائد و نقصانات ساتھ ساتھ چلتے تھے ‘ لیکن اس دور میں سوشل میڈیا کے نہ ہونے کے سبب آج کی طرح سائبر کرائم ‘ ہائبرڈ وارز اور جھوٹی خبریں کم از کم اتنی زیادہ نہیں آتی تھیں جتنی آج کل ہوتی ہیں ‘ ورنہ صحافت کی تاریخ کے ساتھ جھوٹ ‘ مبالغہ آمیزی ‘ ذاتی و ملکی مفادات اور ملکی دفاع و سٹرٹیجک نزاکتیں ہمیشہ منسلک رہی ہیں ۔ 1965ء کی پاک بھارت تاریخی جنگ میں بی بی سی جیسے ادارے بھارت کی طرف داری کے لئے لاہور پر بھارتی قبضے کی خبریں چلاتی تھی ۔ (اللہ ایسا دن کبھی نہ لائے) اس وقت جب طالبان نے افغانستان کے امور و معاملات کو سنبھال لیا ہے تو دنیا بھر کے بڑے بڑے ٹی وی چینلز اور میڈیا ہائوسز کے ذریعے سینکڑوں نام نہاد ماہرین امور افغانستان اور بیسیوں صحیح معنوں میں ماہرین طالبان کی حکومت اور آنے والے ایام اور معاملات کے بارے میں عجیب عجیب تبصرے ‘ تجزیے اور پیشگوئیاں پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ان تبصرہ نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی وجہ سے عوام میں بڑی بے چینی پیدا ہونا شروع ہوئی ہے کیونکہ پرو اور انٹی طالبان کی بحثوں میں ان ماہرین کے حوالے دیئے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان کی عوام کے فہیم طبقات منقسم نظر آتے ہیں یہاں ایک تو سیکولرز قوم پرستوں اور لبرلز کا وہ طبقہ ہے جس کو قدامت پرستوں اور مذہب پرستوں سے خدا واسطے کا بیر ہے ۔ افغانستان پر اس وقت دنیاکی بڑی سپر پاورز اور ہمسایہ ملکوں کی نظریں آنکھیں جھپکائے بغیر جمی ہوئی ہیں یہاں اب بھی امریکہ ‘ برطانیہ ‘ روس ‘ چین ‘ بھارت ‘ آسٹریلیا اور یورپی ممالک کے سیاسی ‘ عسکری اور تجارتی اور سٹرٹیجک مفادات پھنسے پڑے ہیں۔ روس اور چین کی خواہش تھی کہ امریکہ چند برس یہاں اور بھی پھنسا رہے تاکہ معاشی لحاظ سے کمزور ہو کر دفاع و تجارت کے میدان میں ان کی راہوں میں روڑے اٹکانے کے قابل نہ رہے ۔ لیکن اب جبکہ انخلاء جاری بلکہ مکمل ہونے کے قریب ہے ہے ‘ چین اورروس اپنے ہاں تحریک طالبان کے اثرات کسی صورت دیکھنے روا دار نہیں ہو سکتے ۔ اس شرط پر کہ افغان سرزمین سے ترکستان اسلامک موومنٹ اور تاجکستان و ازبکستان وغیرہ میں مداخلت نہیں ہو گی۔ چین کی اس وقت یہ بھی شدید خواہش ہے کہ طالبان کی حکومت تسلیم کرکے یہاں سی پیک کی بڑھوتری کے لئے امن قائم ہو ‘ روس بھی گوادر سے مستفید ہونا چاہتا ہے ۔ لیکن کیا امریکہ اور بھارت و برطانیہ آسانی کے ساتھ روس ‘ چین کو یہاں اجارہ داری قائم کرنے دے گا۔ یہی وہ سوال ہے جو اس وقت بھی جواب طلب ہے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ‘ اس میں شک نہیں کہ وقت نے عمران خان ڈاکٹرائن کو صحیح ثابت کیا ہے لیکن دنیا بالخصوص امریکہ تواب بھی پاکستان سے راضی نہیں ہے ۔ بھارت تو دم کٹے سانپ کی طرح بل کھا رہا ہے ۔ برطانیہ ‘ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے کیوں نہیں نکال رہا۔ پاکستان پر سخت دبائو آنے والا ہے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو ذرا متاخر کرکے ملکی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے کے ساتھ افغانستان میں بننے والی نئی حکومت کے حوالے سے مضبوط موقف پیش کیا جائے ۔ گو مگو اور تذبذب کی افغان پالیسی نے اس سے پہلے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔
افغان قوم کا یہ حق ہے کہ بس اب وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو ان سب کی نمائندہ ہو اور دس پندرہ برسوں کے لئے ایک مستحکم حکومت وجود میں آکر افغان عوام کے زخموں کو جلد از جلد مندمل کرنے کے لئے ضروری انتظامات کرے۔ سپر پاور ز اور امیر عرب و غیر عرب ممالک کا فرض ہے کہ افغانستان کی ہر لحاظ سے تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے ۔ طالبان کو موقع دینا اوران کی حکومت کی پالیسیوں کا سامنے آنے سے قبل ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرناانصاف کے خلاف ہو گا ۔ تبصرہ نگاروں کوبس یہ باتیں اور پیشگوئیاں ترک کر دینی چاہئے کہ یہ طالبان پہلے سے الگ ہیں۔ ماڈریٹ ہیں۔ ٹیلی وژن پر خاتون کے سامنے بیٹھتے ہیں’ مغرب بھی ذرا صبر کرے ‘ خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق ‘ جس طرح اسلام میں ہیں اور کسی قانون و تہذیب میں موجود نہیں۔ اقوام متحدہ ‘ سپرپاورز اورمغرب کی موجودگی میں گزشتہ ستر برسوں سے فلسطین اور کشمیر میں جوکچھ ہو رہا ہے ۔ کیا یہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیاں نہیں ہیں۔ طالبان بیس برس کی طویل مشقتیں اٹھاتے ہوئے اپنے بزرگوں کی چار سالہ حکومت کی خامیوں اور کوتاہیوں سے باخبر ہیں لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ افغانستان میں ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست ہو گی اور وہاں امن و سلامتی اور صحیح معنوں میں انسانی حقوق کی پاسداری ہوگی۔