کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجران

اردو اور پشتو کی کئی ضرب الامثال اور محاورے یاد آرہے ہیں ‘ جو لگ بھگ ایک ہی معنی رکھتے ہیں اور صورتحال پر بڑی حد تک منطبق ہو رہے ہیں ‘ مثلاً پشتو کا ایک محاورہ تو یہ ہے کہ ”چرتہ نہ کار نو ھلتہ سہ کار” یعنی جہاں کوئی کام نہ ہو ‘ وہاں دخل اندازی کیوں کی جائے ‘ اسی طرح ایک اور مثال یوں دی جاتی ہے کہ جہاں خارش نہ ہورہی ہو ‘ وہاں خواہ مخواہ کھجلی کیوں کی جائے ‘ اسی طرح اردو میں بہت مشہور مقولہ یہ ہے کہ” بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ ” اور ان سب کا نچوڑ استاد ذوق کے اس شعر میں ملتا ہے کہ
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرانی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
یہ تمہید ہم نے ان لوگوں کے حوالے سے باندھی ہے جن کے اس وقت ملک میں دوطبقے ہیں ‘ ایک وہ ہیں جو افغانستان کے معاملات پر خوشی سے دوہرے ہوتے جارہے ہیں اور دوسرا طبقہ وہ جو اب بھی طالبان کے اقدامات کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں اور شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں ‘ حالانکہ ان دونوں ہی کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کے اقدامات اپنے وطن کے ضمن میں اچھے ہیں یا اس کے برعکس ‘ تو وہ جانیں اور ان کا کام ‘ تو کون کہ میں خواہ مخواہ بن کر بغلیں بجانے یا پھر منہ بسورنے سے ان کو کیا حاصل ہو گا۔ہمیں تو صرف اپنے مفادات کو دیکھنا ہے اور ہمیں اپنے معاملات میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہ دینی چاہئے اور نہ دینی ہے ‘ ہم دوسروں کے مفادات اور مسائل میں بلاوجہ کیوں دبلے ہوئے جارہے ہیں ‘ عالمی جنگ بازوں نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے نہ صرف افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ‘بلکہ اس کے ہمسائے بھی ان حالات سے متاثر ہوئے ہیں خصوصاً پاکستان جتنا متاثر ہوا ہے وہ ہم سے زیادہ کون جانتا ہے لاکھوں افغان مہاجرین کو جس طرح ہم نے سنبھالا ہے وہ تو خیر دنیا جانتی ہے جبکہ ان مہاجرین کی آڑ میں جس قسم کے تخریب کاری کا ہم شکار ہوئے اور ان کی پشت پناہی کرکے ہمارے دشمنوں نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی ‘ اپنی پراکسی جنگ ہم پر مسلط کئے رکھی اس کے باوجود اپنی ناکامی کے زخم چاٹنے پر مجبور ہوئے اور اب جب ہم بھارتی میڈیا کی چیخ و پکار سنتے ہیں تو ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوتی بلکہ اپنے سیکورٹی اداروں پر فخر ہوتا ہے جن کی بہترین حکمت عملی نے نہ صرف بھارت کے منصوبوں کو ناکام بنایا، اب بھارت کی حالت وہ ہے کہ بقول شاعر
کیا حسن اتفاق ہے تیری گلی میں ہم
اک کام سے گئے تھے کہ ہر کام سے گئے
افغانستان کے اندرونی حالات پر صرف ہمارے ہاں یہ حاشیہ آرائی کرنے والے دو طبقوں میں بٹے ہوئے نہیں ہیں ،عالمی سطح پر بھی وہاں سے سامنے آنے والی خبروں سے خاصے متاثر ہیں ‘ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انخلاء کو شرمندگی قرار دیتے ہوئے اسے انخلاء نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے سے تشبیہ دی ہے اورکہا ہے کہ اس حوالے سے باعزت راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا تھا ‘ اس پر ایک بار پھراگر تجھ کو پرائی کیا پڑی والا تبصرہ کیا جائے تو کیا غلط ہوگا’ دراصل امریکہ کو عزت راس ہی نہیں ہے وگرنہ ویت نام میں عبرت ناک شکست کے بعد اسے کسی اور محاذ کو گرم کرنے اور پرائے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اگر افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دے کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے زعم میں اس نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے ا ترنے کی غلطی کرنے سے پہلے سابق سوویت یونین ہی کے ”حکمت کاروں” کے مشوروں پر عمل کیا ہوتا جو وہاں شکست وریخت سے دو چار ہونے کے بعد یہی مشورہ دے رہے تھے کہ افغانستان کی دلدل میں جان بوجھ کر کودنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے تو شاید آج اسے یہ ہزیمت برداشت نہ کرنا پڑتی’ مگر اسے بھی اپنی بے پناہ قوت اور بے اندازہ دولت کا گھمنڈ تھا اور وہ بھی اپنی نیبڑتوکے سبق کو پلو سے باندھنے میں ناکام رہا۔ ان تمام حالات کے تناظر میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ کے تازہ مشورے کو دیکھتے ہیں تو محولہ بالا مصرعہ یاد آجاتا ہے کہ”تجھ کو پرائی کیا پڑی” کیونکہ نیٹو ممالک نے بھی تو کسی اور کی نہیں امریکہ ہی کی سنی اور اس کے شانہ بشانہ افغاستان کے”قبرستان” کو آباد کرنے کے لئے کود پڑے تھے ‘ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ویسے مشورہ توٹھیک دیا ہے کہ طالبان افغانستان کو دہشت گردوں کا مرکزنہ بننے دیں ‘ یہ الگ بات ہے کہ امریکی سربراہی میں سابق سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے انہوں نے جو”جہادی” تیار کئے تھے ‘ مطلب پورا ہونے کے بعد انہی مجاہدین کو ایک ہی رات میں یوٹرن لیتے ہوئے ان لوگوں نے دہشت گرد کہنا شروع کر دیا تھا ‘ یعنی بقول نواب سائل دہلوی
یہ مسجد ہے ‘ یہ میخانہ ‘ تعجب اس پہ ہوتا ہے
جناب شیخ کانقش قدم ‘ یوں بھی ہے اور یوں بھی
اور تو اور وہ جو ایک عرصے سے بھنگ پی کر سویا ہوا تھا وہ بھی کروٹ لیکر جاگ گیا ہے ‘ یعنی جسے اس کے نام کی نسبت سے ہمارے ہاں تجزیہ کار”اوہ۔۔ آئی سی” کہہ کر دل پشوری کر لیتے ہیں ‘ وہی او آئی سی جو ویسے تو کشمیریوں اور دیگر مظلوم مسلمانوں کے نام پر لمبی تان کر سوئی ہوئی ہوتی ہے ‘ وہ بھی بالآخر جاگ اٹھی ہے ‘اور یہ نیک مشورہ دے ڈالا ہے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کوپناہ نہ دے ‘ اب کیا ہم او آئی سی کو بھی یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑتو؟ کیونکہ اتنی مدت تو مسلمانوں کی”اپنی”کہلانے والی یہ تنظیم بھی خاموشی کی بکل اوڑھے چپ کئے بیٹھی تھی ہم تو اس کے لئے ”کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے” والی دعا مانگتے رہے مگر یہ بالآخر کومہ کی کیفیت سے نکلنے میں کامیاب ہو ہی گئی ‘ البتہ مشورہ اس نے بھی اچھا ہی دیا کہ ا فغانستان دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کو پناہ نہ دے ‘ اور اب تو گلبدین حکمت یار نے بھی بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ بھارت کواپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد کا بدلہ لینے کے لئے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے باز رہے ‘ جبکہ طالبان نے بھی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملوں سے روکنے کے لئے کمیشن بنا دیا ہے ‘ تاہم نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم نے بھی کیا خوب کہا تھا کہ
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے