اخلاقی گراوٹ کا طوفان

ہمارے آپ کے چار اور جو ہو رہا ہے وہ باعث تشویش ہی نہیں بلکہ خون کے آنسو بہانے کا باعث بن رہا ہے ۔ یہ سب راتوں رات شروع نہیں ہوا آپ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے زیادتی کے واقعات مختلف وجوہات کی بناء پر دبا دیئے جاتے تھے ۔ چند ایک رپورٹ ہوتے ان میں سے بھی نصف میں سماجی دبائو پر صلح ہو جاتی اور نصف میں کمزور متاثرہ فریق ادھر ادھر کی ٹھوکریں کھاتا رہتا۔ بہت کم واقات میں مجرموں کو سزا ہوتی تھی۔ سنگدلی کا عالم یہ ہے کہ جب لاہور کے قریب قصور میں ایک سات سالہ بچی زینب کا زیادتی کے بعد قتل ہوا تو ہمارے یہاں ایک دو نہیں ہزاروں لوگ یہ کہتے دکھائی دیئے اصل مجرم بچی کا والد ہے جو اہلیہ کے ساتھ حج پر چلا گیا بچی کو اپنی بہن کے سپرد کرکے۔ حال ہی میں زیادتی کے ایک واقعہ میں اندراج مقدمہ کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لئے ہونے والے احتجاج میں ایک فیس بکی دانشور بولے متاثرہ لڑکی کے والدین قصور وار ہیں کیونکہ مرد معلم کے پاس مذہبی تعلیم کے لئے بھیجا۔ آپ گریٹر اقبال پارک پر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ پیش آئے افسوسناک واقعہ کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہوتی بحثوں کو آنکھیں اور کان کھول کر نہیں پڑھیں چودہ طبق روشن ہوجائیں نجیب الطرفین مہذب کہلانے والوں نے کونسی گالی ہے جو اس خاتون کو نہیں دی۔ میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ہوتی بحث پڑھتا ہوں تو دکھی ہوتا ہوں۔ چند دن ادھر ہمارے دوست حسنین نقوی ایڈووکیٹ اسلام آباد سے ملنے کے لئے تشریف لائے اڑھائی تین گھنٹوں کی نشست کے دوران دیگر موضوعات کے علاوہ پروان چڑھتے منفی سماجی رویوں اور بدزبانی پر وار کے ڈونگرے برساتے ہجوم پر کافی دیر بحث جاری رہی۔ تب بھی میں نے اپنے مہمان سے عرض کیا معاشرے کے تمام طبقات کے سنجیدہ فہم لوگوں کو اس تنزلی کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی۔ ہمیں سنجیدگی کے ساتھ نصاب تعلیم کا جائزہ لے کر اسے ازسرنو ترتیب دینا ہوگا تاکہ اخلاقی تربیت کے مضامین بھی شامل کئے جا سکیں۔ممکن ہے آپ یا اساتذہ کرام میری بات سے اختلاف کریں مگرمیں ایک قلم مزدور اور صاحب اولاد کی حیثیت سے پچھلے اڑھائی تین عشروں سے مسلسل عرض کرتا چلا آرہا ہوں کہ معلمین کی بھرتی کے وقت انٹرویو کمیٹی میں ماہرین نفسیات کاہونا بہت ضروری ہے ۔ یہ دیکھا جانا چاہئے کہ استاد کے طورپر خدمات پیش کرنے والے میں واقعی نئی نسل کی تربیت کا جذبہ موجود ہے یا دوسرے محکموں میں ملازمت سے محرومی پر تعلیم کے شعبہ کی طرف رجحان ہوا۔
سادہ سی بات عرض کروں ہم مسائل کو کم کرنے کی بجائے بڑھاتے بگاڑتے چلے جانے کے عادی ہیں کسی سانحہ یا جرم ہر دو کے بعد جوتاویلات تلاش کرکے لاتے ہیں اس سے مظلوم کی داد رسی نہیں ہوتی بلکہ ظالم کو ڈھارس ملتی ہے ۔گزشتہ صرف دس دنوں کے دوران پنجاب میں بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے پچاس سے زائد واقعات میڈیا تک پہنچے ۔ سندھ سے سات واقعات سندھ کے واقعات میں ایک مردہ بچی کو قبر سے نکال کر اس سے زیادتی کا واقعہ بھی شامل ہے اس کیس کا مجرم بعد ازاں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ آپ باقی کے 56 واقعات میں ملوث افراد کے حوالے سے معلومات جمع کیجئے کانوں کو ہاتھ لگاتے پھریں گے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس اکثریت کو ہمارے ہی معاشرے کے کچھ لوگ دھڑلے سے سپورٹ کر رہے ہیں ۔ دو برس ادھر سرائیکی وسیب کے ایک قدیمی شہر میں جنسی زیادتی کا واقعہ ہوا تھا مدعی بیوہ والدہ تھی اس واقعہ کے ملزم کو بچانے کے لئے اس شہر کے ”معززین” متحد ہو گئے تھے بے سہارہ بیوہ ماں ان کامقابلہ نہ کرسکی کیونکہ شہر والے بھی ان کے ساتھ کھڑے تھے ۔ تین چار دن قبل راولپنڈی میں پیش آئے افسوسناک واقعہ کے مجرم کو بچانے کے لئے ایک طبقہ جس طرح ہاتھ پائوں مار رہا
ہے اس پر حیرانی ہوتی ہے ۔ سرائیکی وسیب کے معروف شہر فاضل پور کے قریبی دیہات میں چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی آٹھ سالہ بھائی کوکسی درندے نے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا معصوم بچے کی لاش جنگل سے ملی۔ فاضل پور کے شہری اور سماج سدھار متحد ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ لاہور میں گزشتہ روز طویل مسافت کرکے پہنچنے والی ماں بیٹی کے ساتھ رکشہ ڈرائیور نے اپنے ساتھی کے ہمراہ زیادتی کی ۔ پولیس نے 24گھنٹے کے اندر دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا مگر حیرانی ہوئی کہ سی پی او فرماتے ہیں” میں ملزمان کی گرفتاری کے لئے منت مانی تھی”۔ ناراض نہ ہوں تو عرض کروں اگر مجرمان منتوں کے طفیل ہی گرفتار ہوتے ہیں تو پولیس کا محکمہ پیران کرام کے سپرد کر دیتے ہیں۔ فقیر راحموں نے تو آئی جی پنجاب تلاش بھی کر لیا ہے پوچھنے پر کہنے لگے شاہ جی وہ پیر صاحب جو پھونکوں سے بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اس منصب کے لئے سب سے بہتر رہیں گے ۔ وہ پھونک مارکر مجرم کو سن کر دیا کریں گے ۔ خیر اس جملہ معترضہ کو الگ رکھ دیجئے ۔ٹھنڈے دل سے اس اخلاقی پستی پر غور کیجئے اخلاقی گراوٹ دن بدن بڑھ رہی ہے ؟۔ہمارے ایک مرحوم بزرگ کالم نویس جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہر چوتھے پانچویں کالم میں جنرل ضیاء الحق یا گورنر پنجاب کے ٹیلی فون کا ضرور ذکر کیاکرتے تھے ہفتہ میں ایک آدھ بار سہ پہر کی چائے گورنر کے ساتھ پینے کی داستان بھی رقم کیا کرتے تھے ۔ استاد محترم سید عالی رضوی کہا کرتے تھے یہ بھی کاروباری مشہوری کا ایک طریقہ ہے ۔ ضرورت مندوں کو دعوت عام ہے کہ ہمارے تعلقات سے فائدہ اٹھائیں ۔ معاف کیجئے گا بات سے بات نکلی او کہاں چلی گئی مکرر عرض کئے دیتا ہوں بڑھتی ہوئی اخلاق گراوٹ ‘ سازشی تھیوریوں کی فروخت اور مظلوم کوگالی دینے کی نفسیات کے علاج کی ضرورت ہے فوری طور پر تین کام لازمی ہونے چاہئیں۔ مدرس اور پولیس مین کی بھرتی اور ڈرائیورنگ لائسنس(پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے)کے اجراء کے وقت نفسیاتی ٹیسٹ ضرور ہونے چاہئیں ۔ ہم یہی عرض کر سکتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ ہمارے بس میں کچھ نہیں۔