الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور خدشات

حکومت آئندہ انتخابات میں بیلٹ پیپر کے بجائے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر اب خاصی سنجیدہ ہے۔ چند دن پہلے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر اس مشین کے عملی مظاہرے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود حاضرین کے ہر سوال کا جواب بھی دیتے رہے۔ اس مشین کو استعمال کرتے ہوئے ووٹر اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں بٹن دبا کر ووٹ دے گا جو خود کار سسٹم کے ذریعے امیدوار کو منتقل ہو جائے گا۔ اس مشین میں بیلٹ پیپر نہیں ہے جو تمام ووٹوں کا ریکارڈ رکھ سکے۔ ووٹر کو آسانی فراہم کرنے اوراس کی شناخت کو کسی غلطی یا دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لئے مشین کے استعمال کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے حکومت شفاف انتخاب کے لئے مشین کو اہمیت دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن اس الیکٹرانک مشین پر مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ اگرچہ اپوزیشن کے بہت سے اعتراضات سیاسی نوعیت کے ہیں جس میں کوئی واضح تکنیکی جواز کم ملتا ہے۔ لیکن جن ممالک بشمول انڈیا میں یہ مشین استعمال ہوئی وہاں اس کے سسٹم میں ایسی خرابیوں کو نمایاں ضرور کیا گیا کہ جس سے انتخابی نتائج متاثر ہوئے۔ بھارتی اپوزیشن نے دو سال قبل الیکشن کے حوالہ سے ان مشینوں کے استعمال پر اپنے شکوک ظاہر کیے تھے اور تجویز بھی دی کہ اس مشین کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کا ایک متبادل نظام بھی چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کا انتخابی نظام پر اعتبار برقرار رہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق مُلک میں ساڑھے تین لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدنے پر تقریباً50ارب روپے صرف ہوں گے ۔ آئندہ الیکشن میں ایک لاکھ سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے جس میںقریباً 15لاکھ کی تعداد میں عملہ تعینات ہوگا ۔ان انتظامات پر اس قدر اخراجات کے باوجود اگر الیکٹرانک سسٹم آر ٹی ایس کی طرح فلاپ ہو گیا تو پھر الیکشن کمیشن کے پاس ایسا متبادل انتظام بھی نہیںہے کہ وہ کسی خرابی کی صورت میں انتخابی عمل کو شفاف طریقہ سے مکمل کر سکے۔ ورنہ ہنگامہ آرائی سے امن و امان کی صورت حال خاصی بگڑسکتی ہے۔پاکستان کے الیکشن کمیشن نے تو شروع ہی میں یہ کہہ دیا تھا کہ جب تک آئین میں قانون سازی نہیں ہو جاتی اس پراجیکٹ پر کام کرنا بے سود ہے۔ اگرانتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اتفاق ہو جاتا ہے تو الیکشن شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے انتخابات ایک ہفتہ تک بڑھانے ہوں گے کیونکہ ایک دن میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا انعقاد ناممکن ہو گا ۔ یوں قانون میں ترمیم کرنی ہو گی۔
ہمارے ہاں ہونے والے ہر قومی و صوبائی اسمبلی
کے الیکشن پر ہمیشہ اعتراضات کیے گئے ہیں ۔ کسی کو یہ اعتماد نہیں رہا کہ الیکشن شفاف ہوں گے اور کوئی بھی اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کو اثر انداز نہیں ہو گا ۔گزشتہ قومی انتخابات میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم ایجاد کیا گیا تھا تاکہ نتائج کی فوری ترسیل ہو سکے۔ نادرا نے اس کا سافٹ ویئر18 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا تھا ۔افسوس کہ وہ سسٹم ضرورت پڑنے پر اچانک خراب ہو گیا اور انتخابی نتائج کی فوری ترسیل نہ ہو سکی۔ اسی لئے یہ خدشہ بھی ہے کہ الیکشن کے دن کہیں اس ووٹنگ مشین کا سسٹم خراب نہ ہو جائے جس سے انتخابی عمل ہی متاثر ہوگا۔ اس کے علاوہ ملک میں ایک اکثریت کمپیوٹر کا استعمال نہیں جانتی اور جہاں ناخواندہ ووٹروں کی تعداد بھی زیادہ ہو تو مزید خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہاں تو ووٹر کوبیلٹ پیپر پر انتخابی نشان سمجھنے میں مشکل پڑ جاتی ہے اور یوں لاکھوں ووٹ مسترد ہو جاتے ہیں ۔
الیکشن کمیشن نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرور تائید کی ہے مگر ساتھ ہی منصفانہ اور شفاف الیکشن کے انعقاد کومد نظر رکھتے ہوئے ان مشینوں میں تکنیکی رکاوٹوں اور دیگر خرابیوں کے امکانات اور سدباب کے حوالہ سے حکومت کو اپنی سفارشات سے آگاہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ اپوزیشن بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے اپنے تحفظات سے حکومت اور عوام کو مسلسل آگاہی دے رہی ہے۔ ۔ سپیکر قومی اسمبلی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انٹرنیٹ ووٹنگ کے بارے میں جو دستاویزات بھجوائی گئی تھیں وہ بھی عدم توجہی کا شکار ہو گئی ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان جلد اتفاق نہ ہو سکا تو الیکٹرانک ووٹنگ اور اس سے متعلقہ قانونی مراحل اس قدر ہیں کہ طے کرتے ہوئے خاصا وقت درکار ہو گا ۔ یہی اندیشہ ہے آئندہ الیکشن مشین کے ذریعہ نہ ہو سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اُن ممالک کے تجربات سے رہنمائی لیں جہاں الیکٹرانک مشین کے ذریعے کامیابی سے انتخابات ہوئے اور کسی قسم کی تکنیکی دشواری پیش نہ آئی۔ وہ اپوزیشن کے تحفظات کے حوالہ سے بھی ان ممالک کی مشینوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت انتخابی عمل طے کرنا ہے ،جس میں شفافیت اور ہر لحاظ سے غیر جانبداری کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے۔ اسی طرح سمندر پار پاکستانیز اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے امور بھی آئین کی روشنی میں دیکھنا ہوں گے تا کہ انتخابی عمل پہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔