لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

ضرورت ایجاد کی ماں ‘ دنیا میں بارٹر سسٹم یعنی مال کے بدلے مال کب ایجاد ہوا یہ تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تاہم اتنا ضرور سوچا جا سکتا ہے کہ جب انسانوں نے انفرادی سطح پر رہنا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے پرندوں اور جانوروں وغیرہ کا شکار کرکے زندگی گزارنے سے آگے بڑھتے ہوئے اجتماعی طور پر رہنا اختیار کیا اور کنبوں سے بات بالآخر قبیلوں تک آگئی ‘ کھیتی باڑی یعنی زراعت کا شعور اسے حاصل ہوا ‘ جس سے وابستہ دوسرے شعبے بھی ضروریات زندگی کا حصہ بنتے چلے گئے ‘ تو بارٹرسسٹم نے جنم لیا ‘ یعنی مال کے بدلے مال ‘ تب کسی کے ذہن میں بھی شاید نہیں ہو گا کہ مختلف دھاتوں سے کرنسی ہٹا کر زندگی کا کاروبار رواں رکھا جا سکتا ہے ‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب انسان نے دھاتوں کی ڈھلائی کا کام بھی سیکھ لیا ہو ‘ سونے ‘ چاندی وغیرہ کے سکے ایک خاص وزن میں ڈھال کر ان کی حیثیت کا تعین کرلیا گیا ہو ‘ قدیم دور میں اشرفیوں کا تذکرہ ملتا ہے ‘ جبکہ ساتھ ہی چاندی کے سکوں کے قصے بھی عام ہیں ‘ اس کے بعد پیتل ‘ تانبے وغیرہ کے سکے بھی شاید اس لئے بننے لگے ہوں کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے سونے اور چاندی کے سکے کم پڑتے ہوں ‘ بہرحال یہ سب تو گئے زمانے کی باتیں ہیں ‘ جبکہ ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو برصغیر میں ابتدائی دور میں کوڑیوں سے لیکر روپے تک کئی قسم کے سکے چلتے رہے ہیں بلکہ پھوٹی کوڑی کا بھی اپنا مقام تھا ‘ درمیان میں دمڑی ‘ پائی ‘ ٹکہ ‘ آنا ‘ دونی ‘ چونی اور اٹھنی کے سکے بھی رائج تھے ‘ چاندی کا روپیہ جس کا وزن ایک تولہ کے برابر ہوا کرتاتھا انگریز کے رخصت ہونے اور آزادی ملنے کے بعد تک رائج رہے ‘ مگر آہستہ آہستہ روپے کی قدر میں ”کمی” کی وجہ سے متروک ہوکر اس کی جگہ مختلف دھاتوں کے سکے سامنے آتے گئے ‘ یہودیوں نے دنیا بھرکے سونے کو اپنے قبضے میں کرکے اس کی جگہ کاغذ کی کرنسی کا سلسلہ چلا دیا ‘ اور اب ہر ملک کی کرنسی اس کے سونے کے ذخائر جو عالمی اداروں کے پاس محفوظ ہوتے ہیں ‘ ان کے مطابق مقرر کی جاتی ہے ‘ اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھائو بین الاقوامی سطح پر ڈالر ‘ پائونڈ سٹرلنگ وغیرہ کے مقابلے میں ہوتا ہے ‘ یعنی کلیدی سکہ رائج الوقت تو امریکی ڈالر ہے ‘ جس کے گرد دنیا بھر کی کرنسی اس کے پاس ڈالرز کے ریز روز کی بنیاد پر اپنی قدر کا تعین کرواتی ہے قیام پاکستان کے وقت ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بہت مضبوط تھا ‘ مگر غلط پالیسیوں ‘ امداد(خیرات) طلب کرکے کاروبار زندگی چلانے سے آہستہ آہستہ روپے کی قدر کم ہوتے ہوتے آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس حوالے سے کچھ نہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے ‘ اس صورتحال تک پہنچنے میں ہم نے بڑی”محنت” سے کام لیا ہے یہاں تک کہ آزادی کے 25 سال بعد ہماری کوتاہیوں اور غلط پالیسیوں سے تنگ آکر ہم سے جدا ہونے والا بنگلہ دیش بھی ترقی کی راہوں پر سرپٹ دوڑتا ہوا ہم سے کہیں آگے نکل گیا ہے اور اب اس کے مقابلے میں ہماری کرنسی کی قدر کہیں کم ہے ‘ اسے بھی جانے دیں ‘ ہمارا ہمسایہ افغانستان جس کی کرنسی عمومی طور پرکسی زماے میں ایک روپے کے مقابلے میں پندرہ سولہ افغانی ہوتی تھی اور پشاور کے صرافہ بازار میں کبھی کبھی اتار چڑھائو دیکھنے کو یوں مل جاتا تھا کہ جب حج پر جانے کے لئے ہمارے افغان بھائی پہلے پڑائو کے طور پر پشاور کے سرایوں اور چھوٹے ہوٹلوں میں قیام کرکے سعودی ویزے کے لئے اپلائی کرتے تو وہ پشاور میں افغان کرنسی پاکستانی روپے میں تبدیل کرتے ‘ ایسے مواقع پر افغان کرنسی گر کر بعض اوقات دس روپے سینکڑہ تک گر جاتی ‘ اور جب حج کرنے کے بعد یہ لوگ واپس افغانستان جاتے تو کرنسی کی قیمت چڑھ جاتی یعنی بیس سے پچیس روپے فی سینکڑہ فروخت کی جاتی ۔ تاہم اب جبکہ پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور افغانستان میں سوویت روس کے خلاف”جہاد” کے دنوں میں تو افغان کرنسی اس قدر بے وقعت ہو گئی تھی کہ بوریوں میں بھر کر لائی جانے والی کرنسی کوڑیوں کے مول خریدنے کوئی تیار نہیں ہوتا تھا ‘ تاہم جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی اور نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو فورسز نے وہاں قدم جمائے تو افغان کرنسی کی جگہ ڈالروں نے لے لی ‘ کاروبار ڈالروں میں ہونے لگا ‘ اور آہستہ آہستہ معاملات سدھرنے لگے تو نئی افغان کرنسی چھاپ کر پھیلائی گئی ‘ جس کی پشت پرامریکی ڈالر کی قوت تھی ‘ اس لئے پاکستان کے روپے کے مقابلے میں افغان کی قیمت خاص مستحکم رہی ‘ گویا بقول غلام محمد قاصر مرحوم
لفظوں کا بیوپار نہ آیا ‘ اس کوکسی مہنگائی میں
کل بھی قاصر کم قیمت تھا ‘ آج بھی قاصرسستا ہے
افغانستان کی موجودہ صورتحال میں جب کہ وہاں سے متضاد خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں ‘ افغان کرنسی ایک بار پھر اپنی قدر کھو رہی ہے یہاں تک کہ وہاں کی (تادم تحریر) غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے افغان کرنسی پر کرنسی ڈیلرز کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں چند ہفتے پہلے زیادہ مضبوط ہونے کے علی الرغم متواتر قدر میں کمی کی بدولت روپے ایک بار پھراوپر جا چکا ہے ‘ جس پر پشاور کی صرافہ مارکیٹ میں کرنسی کے تاجروں نے افغانی کو ناقابل اعتبار تصور کرکے اس کی خرید و فروخت ترک کر دی ہے اور اپنی دکانوں کو تالے لگا دیئے ہیں جبکہ کاروبارصرف ڈالروں میں کیا جارہا ہے ‘ یعنی افغان کرنسی ایک بار پھر کساد بازاری کی نذر ہو رہی ہے ‘ ویسے ہی جیسے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بعض ممالک میں لوگ ایک کلو آٹا ‘ چینی ‘ گھی ‘ دالیں وغیرہ خریدنے کے لئے تھیلوں میں بھر کر کرنسی نوٹ لے جایا کرتے تھے ‘ تاہم اللہ نہ کرے کہ افغان کرنسی پر ایک بار پھر ویسی ہی افتاد پڑے ‘ یا پھر جیسا کہ خود افغانستان میں ”جہاد” کے دنوں میں افغانی بھی بوریوں میں بھر کر لائی جاتی مگر اس کی کوئی وقعت نہیں تھی ‘ اسی صورتحال کو اسلامی تعیلمات کے حوالے سے تو واضح کیا گیا ہے کہ ” اور ہم انسانوں میں دن پھیرتے رہتے ہیں”(مفہوم) بہر حال اس صورتحال پر دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ وما علینا الالبلاغ ۔۔۔۔۔بقول میر تقی میر
حال بدگفتنی نہیں لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی