مثالی نظام تعلیم

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے یکساں قومی نصاب کا نفاذ اہم اقدام ہے، اعلان کے مطابق اگر پورے ملک میں بشمول پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں یکساں قومی نصاب کا نفاذ عملی طور پر ہو جاتا ہے تو محض اس ایک اقدام سے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں، لیکن چند امور ایسے ہیں جن کی طرف برسوں سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے، گزشتہ چار دہائیوں سے اب تک پاکستان کی آبادی تقریباً دو گنا بڑھ چکی ہے، مگر اس دوران سرکاری سطح پر تعلیمی ادارے قائم نہیں ہوئے ہیں، اسّی کی دہائی میں جو سرکاری تعلیمی ادارے بنے ہیں وہی ادارے اب بھی قائم ہیں، اس خلاء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھر پور انٹری ہوئی اور انہوں نے پورے تعلیمی نظام پر اجارہ داری قائم کر لی، 1985ء سے قبل پورے ملک میں صرف چند ہی پرائیویٹ تعلمی ادارے قائم تھے، جہاں امراء کے بچے پڑھتے تھے، مڈل کلاس اور غریب طبقہ کیلئے سرکاری تعلیمی ادارے تھے، اس وقت کے سرکاری اداروں کے پڑھے ہوئے آج اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، لیکن اس کے بعد ہر گلی محلے بلکہ ایک گلی میں کئی کئی اسکول قائم ہو گئے، آج پانچ مرلے کے ایک پورشن میں اسکول قائم ہیں جہاں طلباء کیلئے گراؤنڈ کی سہولت ہے اور نہ ہی غیر نصابی سرگرمیوں کیلئے دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں لیکن چونکہ ریاست کی طرف سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اس لئے تعلیم کے نام پر بچوں کی صلاحیتوں کو سلب کرنے کا دھندہ پوری آب و تاب سے جاری ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے لاکھوں کی تعداد میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم ہوئی ہیں، مگر وہاں پر سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے جگہ مختص نہیں کی گئی ہے۔ ان پر تعیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہے، دفعتاً خیال گزرتا ہے کہ انسان ترقی یافتہ ملک میں آ گیا ہے، اگر آبادی کے لحاظ سے قائم ہونے والی نئی بستیوں میں تعلیمی ضروریات کا خیال رکھ کر جگہ مختص کی جاتی تو آج قوم کے دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم نہ ہوتے، یکم ستمبر کو طلباء میں وظائف کی تقریب سے خطاب کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے اس کا اظہار یوں کیا کہ ''ملک کے کم از کم دو کروڑ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔'' دیکھا جائے تو اسکول نہ جانے والے بچوں کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ تعلیم بنیادی ضرورت ہے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کے فرائض میں شامل ہے، اگر حکومت کی طرف سے اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ ہر نئی قائم ہونے والی سوسائٹی میں تعلیمی ادارے کیلئے جگہ مختص ہو گی اور اسے این او سی سے مشروط کر دیا جاتا جس طرح کہ دیگر امور کو یقینی بنانے کیلئے سخت شرائط رکھی گئی ہیں، اور جب تک متعلقہ ادارے کو تسلی نہ ہو جائے کہ سوسائٹی ان شرائط پر پورا نہیں اتر رہی ہے اس وقت تک این او سی جاری نہیں کیا جاتا ہے اسی طرح تعلیمی اداروں کیلئے بھی جگہ کا تعین ضروری تھا، جب تعلیمی اداروں کیلئے جگہ مختص کر دی جاتی تو بعد ازاں اس جگہ پہ سرکار تعلیمی ادارے قائم کر لیتی، لیکن یہ قومی المیہ ہے شاید اس کا ازالہ برسوں بعد ہو سکے۔
اسلام آباد ملک کا واحد شہر ہے جو ماسٹر پلان کے تحت قائم ہوا، جس کے ہر نئے بننے والے سیکٹر میں تعلیمی اداروں کیلیے جگہ مختص کی جاتی ہے، جو سیکٹر آج سے تیس چالیس سال پہلے بنے ہیں وہاں پر سرکاری سرپرستی میں چلنے والے بہترین تعلیمی ادارے موجود ہیں، جن کا معیار تعلیم اور طلباء کو میسر سہولیات مثالی ہیں، جو تعلیم آپ کو ہزاروں خرچ کر کے پرائیویٹ مل رہی ہے اس سے کئی گنا بہتر تعلیم اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں مفت دی جا رہی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سہولیات اسلام آباد اور گرد و نواح کے طلباء و طالبات کو حاصل ہیں کیا ملک کے دوسر ے حصوں میں بسنے والے بالخصوص پسماندہ علاقوں کے بچوں کا حق نہیں ہے کہ وہ بھی اسلام آباد طرز کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں؟ ریاست اگر اسلام آباد میں مثالی تعلیمی ادارے قائم کر سکتی ہے تو پورے ملک میں کیوں نہیں اور جب تک پورے ملک میں یکساں تعلیم کے مواقع ہی نہیں ہوں گے تو یکساں قومی نصاب سے طلباء کیسے مستفید ہو سکیں گے؟ ان سوالات پر غور کیا جانا چاہئے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمیں شعبہ تعلیم میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، بجٹ میں اضافے سے لے کر پورے ملک میں مجموعی طور تعلیمی نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اگر ہم نے ساری توجہ اور توقعات یکساں قومی نصاب سے وابستہ کر لیں تو شاید ہم نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔