کوروناکے افغان جنگ پراثرات !

آج سے بیس سال قبل ستمبر میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعہ نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیاتھا۔ حتیٰ کہ اُ س تباہی کا دھواں اور راکھ آج بھی فضاء میں موجود ہے۔ اس واقعہ کے نتیجے کے ردعمل میں ایک سپر پاور نے جنگ کا راستہ اختیار کیا تھا۔11 ستمبر 2001 کے حملے کے بعد وائٹ ہائوس میں بیٹھے اس وقت کے فیصلہ سازوں نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور پھر اگلے بیس سال تک امریکہ جنگ جاری رکھی۔ اس دوران بمباری کی گئی اور ڈرون حملے کئے گئے جن میں دہشتگردوں کے اہداف کو تلاش کر کے نشانہ بنانے کے دعوے کئے جاتے رہے ۔ تاہم دہشت گردی کیخلاف جو جنگ بیس سال پہلے شروع ہوئی تھی اب اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے اور گزشتہ ماہ امریکی فوج نے افغانستان سے اپنا انخلاء مکمل کرلیا ہے۔ امریکی فوجیوں نے اہم فوجی اڈا بگرام ایئر بیس بھی راتوں رات خالی کیا اور وہ سویلین اور فوجی آلات تک وہیں چھوڑ گئے۔ یوں جس بات کا عندیہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا وہ بائیڈن انتظامیہ نے پوری کردی۔ پانچ سال پہلے ایسی کسی پیش رفت کا تصور بھی نہیںکیا جا سکتا تھا اور اسے ایک نہ ختم ہونے والی کہا جا رہا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ جنگ کوروناوباء کے باعث ختم ہوئی ہے تو یہ مضبوط دلیل ہے۔ مارچ 2020 میں عالمی ادارہ صحت نے کورونا کو عالمی وباء قرار دیا تھا جس نے دنیا کومکمل طور پر بدل دیا ہے۔کورونا سے امریکہ میں جس قدر تباہی ہوئی اس نے ایک اچانک المیے کے تصور کو بھی بدل دیا۔ امریکہ کو انیسویں صدی کی آخر میں ہونے والی خانہ جنگی کے بعدسے اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں یا تباہی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنی کورونا سے ہوئی ہیں۔ اگرچہ نائن الیون کے واقعہ میں ہونے والی اموات افسوسناک ہیں لیکن جب ان کا موازنہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد سے کریں تو وہ بہت کم ہیں۔ امریکہ کورونا وائرس کی وباء سے اچانک اتنا متاثر ہوا ہے کہ اس کیلئے دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو چکا تھا جبکہ اس جنگ کے مقاصد اور اہداف بھی مبہم تھے ۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی وجہ سے امریکہ نے فوری طور پر افغانستان سے نکلنے کی منصوبہ بندی کی ۔ دیکھا جائے تو دنیا میں جب موسمیاتی تبدیلی، وبائیں اور سائبر جنگیں زیادہ بڑے خطرات ہیں تو پھر دو دہائیوں تک یہ جنگ کیوں لڑی گئی جس کا نتیجہ بھی ان سٹریٹجک اہداف کے مطابق نہیں برآمد ہوا جو امریکہ نے جنگ کے آغاز پر طے کئے تھے۔ امریکہ کے رہنمائوں نے نشاندہی کی کہ اگر پوری دنیا پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے تو اب فوجی چوکیوں کی ضرورت نہیں۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں،جیسے فیس بک اور ٹوئیٹر جن پر امریکی کمپنیوں کا غلبہ ہے،وہ پہلے سے ہی یہ کام کررہے ہیں۔ پاکستان بھی مستقبل میں آنے والی تبدیلیوں کادانشمندی سے جائزہ لیتا رہا ہے اور امریکہ کے خطے سے نکلنے اور دوسرے اہداف میں مصروف ہونے کے فیصلے سے پہلے ہی تو اس نے اپنی توجہ چین پر مرکوز کرلی تھی۔ امریکہ اور چین جو دنیا کے مینوفیکچرنگ کے مرکز ہیں ، ان کے سٹریٹجک اہداف کا محور جغرافیائی غلبہ ہے۔ چین دنیا کے دوسرے خطوں تک اپنی رسائی بڑھا رہا ہے ۔اس کا ایک خطہ، ایک سڑک منصوبہ اسے یورپ اور افریقہ سے منسلک کردے گا ۔ پاکستان نے بھی اس خیرمقدم کیا اورچین پاکستان اقتصادی راہداری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کے خارجہ پالیسی سے وابستہ حکام سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کے ایک ناقابل یقین طاقت امریکہ کا ساتھ نبھاتے رہنے سے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اس فیصلے کے نہ صرف سڑیٹجک لحاظ سے ثمرات برآمد ہو رہے ہیں بلکہ چین کی طر ف سے ویکسین اور دوسرے آلات فراہم کی فراہمی سے پاکستان نے کورونا وائرس کے بحران پر بھی بڑی حد تک قابو پا لیا۔ نائن الیون کے بعد کی دنیا اور نائن الیون کے بعد شروع کی گئی جنگ کے بعد کی دنیا بالکل الگ ہے، اب ڈرونز کوسوں دور سے بمباری کر سکتے ہیںاور پاور پلانٹس اور بجلی کے گرڈ اسٹیشنوںکو غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔ اب کہیں بھی فوج کی عملی موجودگی کو ئی ضرورت نہیں رہی۔ پاکستان کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کو سائبر جنگ اور حیاتیاتی ہتھیاروںکی تربیت دینے چاہئے۔ اسی طرح پاکستان کے جمہوری اداروں کو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شدید بارشیں اور ناقابل برداشت گرم موسم یہ بتا رہے ہیں کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں کیا ہونے والا ہے؟۔ اگرچہ دہشتگردی کا خطرہ ابھی بھی ختم نہیں ہوا لیکن کورونا وباء کا خطرہ اور سرحدوں کو بند رکھنا کا معاملہ بھی بہت سنگین ہے۔ اگر دیکھا جائے توکورونا سے ہونے والی اموات دہشت گری کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں سے کئی زیادہ ہیں۔ اس وباء نے جہاں لاکھوں افراد کیلئے نہ ختم ہونے والی مشکلات پیدا کی ہیں وہاں یہ ایک ایسا کام کرنے کا باعث بھی بنی ہے جو دو یا تین سال پہلے ناممکن نظر آتا تھا یعنی دہشت گردی کی جنگ ختم ہوگئی ہے۔(بشکریہ،ڈان ، ترجمہ: راشد عباسی )